تہران: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے تازہ تحریری پیغام میں بظاہر اشارہ حزب اللہ کی طرف ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا مگر ایک قوم کے طور پر اپنے حقوق کا ہر صورت دفاع کرے گا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ پیغام ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر ان کے والد آیت اللہ خامنہ ای کی وفات کے چالیس روز مکمل ہونے پر پڑھ کر سنایا گیا جو اٹھائیس فروری کے حملوں میں نشانہ بنے تھے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ہم نے نہ جنگ چاہی تھی اور نہ چاہتے ہیں مگر ہم اپنے جائز حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے اور اس مقصد کے لیے ہم پوری مزاحمت کو ایک متحد محاذ سمجھتے ہیں جہاں اسرائیل تہران کے اتحادی گروپ حزب اللہ کے خلاف برسر پیکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے اسٹریٹیجک انتظام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرے گا۔
ایران نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جو ممکنہ طور پر امن مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہے جبکہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو سخت دھمکیاں دی گئی تھیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود یہ نہ سمجھا جائے کہ اب سڑکوں پر نکلنے کی ضرورت نہیں رہی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عوامی مقامات پر بلند ہونے والی آوازیں یقیناً مذاکرات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔