حج اپنے اختتامی مرحلے میں داخل

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-05-2026
 حج اپنے اختتامی مرحلے میں داخل
حج اپنے اختتامی مرحلے میں داخل

 



مکہ : حج 2026 تیزی سے اپنے اختتامی مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج 11 ذی الحجہ اور ایامِ تشریق کا پہلا دن ہے۔ اس دن حجاج کرام تینوں شیطانوں کو سات سات کنکریاں مارنے کے بعد اپنے خیموں میں آرام کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق ایامِ تشریق کا آغاز عیدالاضحیٰ کے پہلے دن کے بعد ہوتا ہے جبکہ تشریق کے تین دن 11۔ 12 اور 13 ذوالحجہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔

تشریق کے دو دن یعنی 11 اور 12 ذوالحجہ کو حجاج کرام تینوں شیطانوں کو سات سات کنکریاں مارتے ہیں۔ ان دنوں کو ایامِ تشریق اس لیے کہا جاتا ہے کہ ماضی میں قربانی کے گوشت کو دھوپ میں خشک کیا جاتا تھا۔ گوشت کو باریک ٹکڑوں کی شکل میں کاٹ کر دھوپ میں سکھانے کے عمل کو عربی میں تشریق کہا جاتا ہے۔ اسی نسبت سے ان ایام کو ایامِ تشریق کہا جاتا ہے۔

ایامِ تشریق میں رمی کا آغاز چھوٹے شیطان سے کیا جاتا ہے جو منیٰ میں مسجد خیف کے قریب واقع ہے۔ اس کے بعد جمرہ وسطیٰ یعنی درمیانے شیطان اور آخر میں جمرہ عقبہ یا جمرہ کبریٰ یعنی بڑے شیطان کو سات سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ ایامِ تشریق کے دوسرے اور تیسرے دن بھی رمی کی یہی ترتیب برقرار رہتی ہے۔

وہ حجاج جو جلد روانگی چاہتے ہیں انہیں اجازت ہوتی ہے کہ 12 ذوالحجہ کی رمی مکمل کرنے کے بعد غروبِ آفتاب سے پہلے وادیٔ منیٰ کی حدود سے نکل جائیں۔ جبکہ وہ حجاج جو مزید قیام کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ 13 ذوالحجہ کی رمی بھی مکمل کریں اور اس کے بعد منیٰ سے روانہ ہوں۔

جمرات کمپلیکس میں حجاج کی نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے مختلف اداروں کے تعاون سے جامع منصوبے پر عمل جاری ہے۔ جمرات پل کی متعدد منزلیں ہیں جبکہ ہر منزل تک پہنچنے کے لیے الگ راستے مختص کیے گئے ہیں جہاں سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں تاکہ حجاج کی آمد و رفت کو منظم رکھا جا سکے۔

راستوں میں ہلال الاحمر کے یونٹس۔ رضاکاروں اور فرسٹ ایڈ ٹیموں کو بھی تعینات کیا گیا ہے جو ضرورت پڑنے پر حجاج کو فوری طبی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔

جمرات سے منیٰ اور العزیزیہ جانے والے راستوں پر اہلِ مکہ کی جانب سے پانی کی سبیلوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جہاں حجاج میں ٹھنڈے پانی کی بوتلیں تقسیم کی جا رہی ہیں۔

گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے سکیورٹی اہلکار حجاج پر پانی کی پھوار بھی برسا رہے ہیں جبکہ راستوں پر نصب واٹر اسپرے پولز کے ذریعے مسلسل پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے جس سے ماحول میں خنکی پیدا ہو رہی ہے۔