مکہ : سعودی عرب کے شہر منیٰ میں بدھ کی صبح 17 لاکھ سے زیادہ مسلمان عیدالاضحیٰ کے آغاز کے موقع پر رمی جمرات کی ادائیگی کے لیے جمع ہوئے۔ حجاج نے منگل کی شب مزدلفہ میں قیام کے بعد شیطان کی علامت سمجھے جانے والے سب سے بڑے ستون جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کی رسم ادا کی۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق حجاج نے میدان عرفات سے واپسی پر مزدلفہ میں کنکریاں جمع کیں اور پھر منیٰ کی جانب روانہ ہوئے تاکہ رمی کا فریضہ انجام دے سکیں۔
عرفات سے مزدلفہ تک حجاج کی نقل و حرکت سخت سکیورٹی۔ طبی سہولیات اور ٹرانسپورٹ انتظامات کے تحت مکمل کی گئی۔ سعودی حکام نے دنیا کے سب سے بڑے سالانہ انسانی اجتماع کو منظم رکھنے کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے تھے۔
سفید احرام میں ملبوس لاکھوں حجاج عرفات سے مزدلفہ اور پھر منیٰ تک تقریباً 25 کلومیٹر طویل پیدل راستوں پر رواں دواں رہے۔ سعودی حکام کے مطابق یہ دنیا کا سب سے طویل پیدل نیٹ ورک ہے جو کسی مسلسل بڑے اجتماع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
حجاج منگل کو رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کی ادائیگی کے بعد غروبِ آفتاب سے چند لمحات قبل مزدلفہ روانہ ہونا شروع ہو گئے تھے، دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں فرزندانِ اسلام نے میدانِ عرفات میں حج کا سب سے اہم رکن ادا کیا
حجاج کرام نے وقوفِ عرفہ کے عظیم رکن کی ادائیگی کے بعد میدانِ عرفات سے مزدلفہ کی جانب رختِ سفر باندھا۔ رات مزدلفہ میں عبادت اور قیام کے بعد منگل اور بدھ کی درمیانی شب سے حجاج رمیِ جمرات کے لیے منیٰ پہنچنا شروع ہوگئے۔اس سے قبل دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں فرزندانِ اسلام نے میدانِ عرفات میں حج کا سب سے اہم رکن ادا کیا۔ زوالِ آفتاب کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کی گئیں جبکہ حجاج نے خطبۂ حج سنا اور پورا دن دعا، ذکر و اذکار اور عبادت میں مشغول رہے۔
یومِ عرفہ کے موقع پر حجاج کی زبانوں پر مسلسل لبیک اللہم لبیک، تسبیح و تمجید کے ورد جاری رہے جبکہ لاکھوں ہاتھ بارگاہِ الٰہی میں دعاؤں کے لیے بلند رہے۔ اس روح پرور منظر میں بے شمار آنکھیں اشکبار دکھائی دیں اور میدانِ عرفات رقت آمیز مناظر پیش کرتا رہا۔
بعد ازاں حجاج مزدلفہ پہنچے جہاں انہوں نے مغرب اور عشا کی نمازیں قصر و جمع کے ساتھ ادا کیں، کھلے آسمان تلے شب بسر کی اور رمیِ جمرات کے لیے کنکریاں جمع کیں۔
حجاج مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نمازیں قصر و جمع کے ساتھ ادا کرنے کے بعد رات کو قیام کیا ۔ اسی مقام پر رمیِ جمرات کے لیے کنکریاں جمع کی جائیں گی جبکہ فجر یا اس سے قبل حجاج منیٰ روانہ ہو کر رمی کا عمل ادا کریں گے۔
Pilgrims flock to Muzdalifah, where they spend the night under the open sky. pic.twitter.com/q6u7zRjEzG
— The Holy Mosques (@theholymosques) May 26, 2026
سعودی وزارتِ حج کی جانب سے مشاعرِ مقدسہ میں حجاج کی آمد و رفت کو منظم رکھنے کے لیے تمام حج مشنز کو خصوصی شیڈول جاری کیا گیا ہے تاکہ ازدحام پر قابو پایا جا سکے اور نظم و ضبط برقرار رہے۔ سکیورٹی ادارے بھی طے شدہ حکمتِ عملی کے مطابق خدمات انجام دےرہے ہیں جبکہ تمام متعلقہ ادارے حجاج کے امن۔ سلامتی اور سہولت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ طور پر سرگرم ہیں۔

مزدلفہ میں ایک مربوط آپریشنل نظام کے تحت حجاج کے استقبال اور رہنمائی کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ مناسکِ حج کی ادائیگی کے دوران انہیں سکون اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔یاد رہے کہ حجاج 8 ذوالحجہ کی شب سے ہی عرفات پہنچنا شروع ہو گئے تھے اور صبح تک میدانِ عرفات میں آمد کا سلسلہ جاری رہا۔

حجاج کی مجموعی تعداد 17 لاکھ 7 ہزار 310
سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے مطابق حج 2026 میں حجاج کی مجموعی تعداد 17 لاکھ 7 ہزار 310 تک پہنچ گئی ہے۔ بیرونِ مملکت سے آنے والے حجاج کی تعداد 15 لاکھ 46 ہزار 655 رہی جبکہ داخلی حجاج جن میں سعودی شہری اور مقیم افراد شامل ہیں ان کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار 646 ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی حجاج میں 8 لاکھ 93 ہزار 396 مرد جبکہ 8 لاکھ 13 ہزار 905 خواتین شامل ہیں۔ بیرونِ ملک سے آنے والے حجاج میں 14 لاکھ 85 ہزار 729 فضائی راستے۔ 54 ہزار 429 بری راستے اور 6 ہزار 497 بحری راستے سے سعودی عرب پہنچے۔رپورٹ کے مطابق بیرونِ مملکت سے آنے والے حجاج کا تعلق 165 مختلف قومیتوں سے ہے جبکہ 3 لاکھ 88 ہزار 700 عازمین نے مکہ روٹ انیشی ایٹو سے استفادہ کیا۔