دربار اجمیر شریف:حاجی سید سلمان چشتی کی ماسکو میں اہم سفارتی و بین المذاہب ملاقاتیں

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 17-04-2026
دربار اجمیر شریف:حاجی سید سلمان چشتی کی ماسکو میں اہم سفارتی و بین المذاہب ملاقاتیں
دربار اجمیر شریف:حاجی سید سلمان چشتی کی ماسکو میں اہم سفارتی و بین المذاہب ملاقاتیں

 



ماسکو: درگاہ اجمیر شریف درگاہ کے گدی نشین اور چشتی فاؤنڈیشن کے چیئرمین حاجی سید سلمان چشتی نے ماسکو کے دورے کے دوران متعدد اہم سفارتی اور بین المذاہب ملاقاتیں کیں جن میں عوامی سفارتکاری، دوطرفہ تجارت، روحانی ہم آہنگی، بین المذاہب مکالمہ اور برکس تعاون جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بھارتی سفیر اور سفارتی حکام سے ملاقات
حاجی سید سلمان چشتی نے روس میں بھارت کے سفیر ونئے کمار سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف آف مشن نکھلیش گیری اور دیگر اعلیٰ سفارتی حکام بھی موجود تھے۔ وفد میں سہیل وکیل اور الیاس بھی شامل تھے جو روسی مذہبی قیادت سے وابستہ ہیں۔

ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کے فروغ، افرادی قوت کے تبادلے، اور تجارت کے نئے مواقع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت اور روس کے درمیان صدیوں پر محیط تہذیبی اور روحانی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے، بین المذاہب مکالمے کے فروغ اور BRICS پلیٹ فارم پر مشترکہ اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

ماسکو کی گرینڈ کیتھیڈرل مسجد کا دورہ
حاجی سید سلمان چشتی نے ماسکو گرینڈ کیتھیڈرل مسجد کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے روسی مسلم بورڈ کے نائب سربراہ شیخ دامر حضرت (دامر مخیتدینوف) سے خصوصی ملاقات کی۔

اس ملاقات میں بھارت اور روس کی مسلم برادریوں کے درمیان فکری اور روحانی تعلقات کو مضبوط بنانے، مشترکہ کاروباری اور ثقافتی منصوبوں، نوجوانوں کے لیے تعلیمی پروگراموں اور عالمی امن کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے چشتی سلسلے کے پیغام محبت، رواداری اور انسانیت کی خدمت کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے اختتام پر عالمی امن، اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے مشترکہ دعا بھی کی گئی، جس میں دنیا بھر کے انسانوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔

حاجی سید سلمان چشتی نے اس موقع پر کہا کہ بھارت اور روس کے تعلقات قدیم اور مقدس ہیں، اور جب روحانیت، سفارتکاری اور دیانتدار تجارت ایک ساتھ آگے بڑھتی ہیں تو نہ صرف ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہوتے ہیں بلکہ انسانوں کے درمیان حقیقی امن بھی قائم ہوتا ہے۔