ملک کی سلامتی کے لیے سدبھاؤنا بل لایا جائے: سید نصیرالدین چشتی

Story by  ایم فریدی | Posted by  Shah Imran Hasan | 9 Months ago
ملک کی سلامتی کے لیے سدبھاؤنا بل لایا جائے: سید نصیرالدین چشتی

 

 آواز دی وائس، کولکاتہ

آل انڈیا صوفی سجادگان کونسل کے چیئرمین سید ناصیرالدین چشتی نے کہا کہ حکومت ہند کو فوری طور پر ملک میں سدبھاؤنا بل لانا چاہیے تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت پر روک لگائی جاسکے۔

آل انڈیا صوفی سجادگان کونسل کے چیئرمین اوردرگاہ اجمیرشریف کے روحانی سربراہ کےجانشین سیدنصیرالدین چشتی نے ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتہ میں ویسٹ بنگال صوفی میٹ پروگرام دوران درگاہوں کے سجادہ نشینوں اور صوفیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند ملک میں فوری طورپرسدبھاونا بل لایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی جنونیت اور مذہب کے نام پر ہونے والی زہریلی تقاریر کو روک لگانے کے لیے اس قسم کے بل کی اشد ضرورت ہے۔ سید نصیرالدین چشتی نے کہا کہ ہندوستان تنوع میں اتحاد کے لیے جانا جاتا ہے۔ مذہبی رواداری ہماری ثقافت کی پہچان ہے۔ درگاہ خواجہ غریب نواز، اجمیر شریف اس کی بہترین مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ درگاہ خواجہ غریب نوازمیں روزانہ ہزاروں لوگ بلا لحاظ مذہب ملت حاضری دیتے ہیں۔ یہاں آنے والا ہر عقیدت مند خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو وہ یہاں آکر 'میرےخواجہ' ہی کہتا ہے۔ یہ ہماری ثقافت کی انفرادیت ہے۔ ہمارا آئین سب کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ ہمارے آئین کے تمہید ہمارے عظیم ملک ہندوستان کی سیکولر تہذیب کو اجاگر کرتی ہے۔

انہوں  نے کہا کہ مجھے ایک ہندوستانی ہونے پر فخر محسوس ہے۔ ہر مذہب امن اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ لہٰذا، ہر شہری خصوصاً مذہبی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ اپنی اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل کری، ملک کے قانون کی پابندی کریں، مذہبی رواداری اور اپنے ملک کی ترقی کے لیے جو ممکن ہو سکے وہ کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کو کوئی بھی بیان دینے یا ایسا کچھ کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے مذہبی عدم برداشت اور فرقہ وارانہ انتشار پیدا ہوتا ہو۔ سماج دشمن عناصرنےجونفرت اور مذہبی عدم برداشت کے بیج بوئے ہیں انہیں اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔  ہندوستان کی ترقی اور سالمیت کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں اتحاد ویگانگت کو برقرار رکھا جائے۔

awazthevoice

ویسٹ بنگال صوفی میٹ

تمام مذاہب کے مختلف مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں پر مشتمل ایک مرکزی کمیٹی بنائی جائے جو ملک میں مذہب کے نام پر پھیلائی جانے والی مذہبی انتہا پسندی اور نفرت کو روکنے اور ختم کرنے کے لیے کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلم فرقوں کے درمیان صدیوں سے قائم باہمی اعتماد کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے دونوں مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کو اکٹھا ہونا ہوگا۔اس کے بعد ہی دونوں فرقوں کے درمیان اعتماد قائم ہو سکتا ہے

اس سے ان کے درمیان کئی متنازعہ نکات پر اتفاق رائے ہو گا۔ جونام نہاد مذہبی رہنما مذہب کےنام پرباتیں کررہےہیں اوران کی باتوں سے سڑکوں پر ذات اور مذہبی نعرے لگائے جا رہے ہیں وہ ملک کے لیےاورآنے والی نسلوں کے لیے تباہی کا باعث ہیں۔

ہمیں ان تمام متعصبانہ کارروائیوں کو ختم کرنا ہوگا اور ملک کے ہر شہری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک آئین کے مطابق چلے گا، لوگ اپنے مذہب کی بنیاد پر اس ملک کے آئین کو ختم کرنے کی کوشش نہ کریں۔آئین ہمیں اپنے مذہب کی تمام رسومات عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن ہمیں وہ تمام مذہبی کام صرف اپنے اپنے مذہبی مقامات یا اپنے گھروں میں رہ کر کرنے چاہئیں۔

ہمیں اپنے مذہب کے وقار کو برقرار رکھنا چاہیے اور سماج میں آئین کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ رواداری کا رویہ رکھنا چاہئے۔ ہم سب کو اپنے ملک کی امن، ترقی اورسالمیت کے لیے کام کرنا چاہیے۔آپ جس ملک میں رہتے ہیں،اس سےمحبت ہر مذہب کا حصہ ہے۔ سید نصیرالدین چشتی نے کہا کہ آل آندیا سجادہ نشین صوفی کونسل (AISSC)ان اصولوں کی بنیاد پر تشکیل دی گیا ہے۔ ہم صوفی ازم کی تعلیمات کو پھیلا رہے ہیں جو کہ امن اور انسانیت کے لیے محبت کے سوا کچھ نہیں۔

آل انڈیا صوفی سجادگان کونسل نے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ وہ بنیاد پرستی اور مذہبی عدم رواداری کا مقابلہ کرنے کے لیے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے سدبھاونا بل لائے۔