غزہ:تباہ شدہ گھروں کے ملبہ پر دعوت افطار

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 19-02-2026
غزہ:تباہ شدہ گھروں کے ملبہ پر دعوت افطار
غزہ:تباہ شدہ گھروں کے ملبہ پر دعوت افطار

 



غزہ: رمضان المبارک کا چاند طلوع ہوا تو دنیا بھر میں خوشیوں اور روحانیت کی فضا قائم ہوئی، مگر غزہ میں یہ مقدس مہینہ تباہی، محرومی اور صبر کی ایک نئی داستان لے کر آیا۔ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں فلسطینی خاندانوں نے پہلے روزِ رمضان ایسے حالات میں افطار کیا جہاں کبھی ان کے آباد گھر ہوا کرتے تھے۔

غزہ سٹی میں کئی خاندان اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے کے درمیان جمع ہوئے۔ کھنڈرات کے بیچ لمبی میزیں سجائی گئیں، سادہ کھانے تقسیم کیے گئے، اجتماعی دعائیں مانگی گئیں اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ پس منظر میں ہلکی سی سجاوٹ اور مذہبی نغمات سنائی دیتے رہے، گویا ویرانی کے عالم میں امید کی ایک شمع روشن تھی۔ مقامی رہائشی محمد الدادا نے بتایا کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپنے ٹوٹے ہوئے گھروں کے سامنے افطار کا اہتمام کیا۔

ان کے بقول یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ نقصان اور غم کے باوجود وہ اپنے حوصلے، ایمان اور باہمی رشتوں کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب المواصی کے علاقے میں خیموں میں رہنے پر مجبور بے گھر خاندانوں نے نہایت کسمپرسی کے عالم میں رمضان کا آغاز کیا۔ 11 بچوں کے والد ولید الزملی، جو اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد بے گھر ہو گئے، کہتے ہیں کہ اس سال رمضان خوشیوں کے بغیر آیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے رمضان کی آمد پر گھروں میں رونق ہوتی تھی، بچوں کے لیے مٹھائیاں اور خصوصی پکوان تیار کیے جاتے تھے، مگر اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ جس دکان پر وہ کام کرتے تھے وہ تباہ ہو چکی ہے اور وہ روزگار سے محروم ہیں۔ پہلی افطار کے لیے ان کی اہلیہ کو ایک فلاحی کچن سے کھانا لینا پڑا۔

وزارتِ صحت غزہ کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اکثریت بے گھر ہو کر تباہ حال علاقوں یا خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور محدود انسانی امداد نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

گوشت اور مرغی کی قیمتیں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہیں، جس کے باعث عام خاندانوں کے لیے بنیادی ضروریات کا حصول بھی دشوار ہو گیا ہے۔ اس تمام تباہی کے باوجود غزہ کے شہریوں نے رمضان کے پہلے دن یہ پیغام دیا ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، امید اور ایمان کی روشنی کو بجھنے نہیں دیا جائے گا۔