اجمیر شریف سے طوبہ تک: افریقہ کی سب سے بڑی روحانی تقریب میں ہندوستانی صوفی روایت کی نمائندگی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 10-08-2026
اجمیر شریف سے طوبہ تک: افریقہ کی سب سے بڑی روحانی تقریب میں ہندوستانی صوفی روایت کی نمائندگی
اجمیر شریف سے طوبہ تک: افریقہ کی سب سے بڑی روحانی تقریب میں ہندوستانی صوفی روایت کی نمائندگی

 



طوبہ سینیگال : مغربی افریقہ تک ہندوستان کی تہذیبی رسائی کے حوالے سے ایک اہم موقع پر اجمیر شریف کی درگاہ کے 26ویں نسل کے گدی نشین اور چشتی فاؤنڈیشن کے چیئرمین حاجی سید سلمان چشتی نے جمہوریہ سینیگال کے مذہبی امور کے بورڈ کی باضابطہ دعوت پر طوبہ میں منعقدہ 132ویں عظیم مغال میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔افریقہ کی سب سے بڑی روحانی تقریبات میں شمار ہونے والے عظیم مغال میں اس سال 25 لاکھ سے زائد زائرین نے طوبہ کا رخ کیا۔2026 کے موضوع ’’فضائل‘‘ کے تحت منعقد ہونے والی اس تقریب میں شیخ احمدو بامبا مباکے رحمتہ اللہ علیہ کی 1895 میں جلاوطنی کی یاد منائی جاتی ہے۔ وہ مریدیہ صوفی سلسلے کے بانی تھے۔ نوآبادیاتی ظلم و جبر کے مقابلے میں ان کی روحانی مزاحمت تشدد کے بجائے عبادت نظم و ضبط اور خدمت کے ذریعے تھی اور آج بھی یہ افریقہ کی سب سے طاقتور اخلاقی روایات میں شمار ہوتی ہے۔

خادم الرسول کے باضابطہ مہمان کی حیثیت سے حاجی سید سلمان چشتی نے مریدین کے خلیفہ عام عالی مرتبت شیخ سرین منتخا بصیرو مباکے سے ملاقات کی جو عالمی مریدیہ سلسلے کے روحانی سربراہ ہیں۔ اس موقع پر خلیفہ عام کے ترجمان اور عظیم مغال کی انتظامی کمیٹی کے صدر شیخ سرین بصیرو مباکے عبدو خادر بھی موجود تھے۔ حاجی سید سلمان چشتی نے سینیگال کی اعلیٰ قیادت کے ارکان مقیم سفیروں اور سفارتی برادری کے ارکان کے علاوہ مغربی افریقہ مغرب اور افریقی عرب دنیا سے تعلق رکھنے والے صوفی مشائخ علما اور مختلف وفود سے بھی ملاقاتیں اور تبادلہ خیال کیا۔

یہ ملاقات محض ایک اتفاق نہیں ہے۔ ہندوستان میں بارہویں صدی کے دوران خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے طالبان حق کو یہ تعلیم دی کہ ’’دریا جیسی سخاوت سورج جیسی محبت اور زمین جیسی مہمان نوازی‘‘ اختیار کی جائے۔ اسی روح نے اجمیر شریف کو ایک ایسے دروازے کی حیثیت دی جہاں گزشتہ 800 برس سے ہندو مسلمان سکھ عیسائی اور پارسی ایک ساتھ روحانی سکون حاصل کرتے آئے ہیں۔سات صدیوں بعد اور ایک دوسرے براعظم میں شیخ احمدو بامبا رحمۃ اللہ علیہ نے طوبہ میں محنت علم اور ظلم و جبر کے باوجود نفرت سے انکار پر مبنی ایک برادری کی بنیاد رکھی۔دونوں روحانی روایتیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ روحانی راستے کی حقیقی پہچان انسانیت پر غلبہ حاصل کرنے کے بجائے اس کی خدمت میں ہے۔ دونوں نے انتہا پسندی کے خلاف مضبوط اور پائیدار فصیل کا کردار ادا کیا ہے اور لاکھوں نوجوانوں کو شکایت اور نفرت پر مبنی نظریات کے مقابلے میں اپنی روحانی اور تہذیبی جڑوں سے جڑا ہوا ایک متبادل راستہ فراہم کیا ہے۔

حاجی سید سلمان چشتی کا بیان

’’شیخ احمدو بامبا رحمۃ اللہ علیہ کی دہلیز پر خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی دہلیز کے ایک خادم کی حیثیت سے کھڑا ہونا ایسا ہے جیسے ایک ہی حقیقت کو دو مختلف لباسوں میں دیکھنا۔ اجمیر شریف اور طوبہ کے درمیان 800 سال اور 8000 کلومیٹر کا فاصلہ ہے لیکن پیغام ایک ہی ہے۔ سب سے اعلیٰ عبادت انسانیت کی خدمت ہے۔ دشمن کوئی دوسرا انسان نہیں بلکہ اپنے اندر موجود تکبر ہے اور جس دل نے محبت سیکھ لی ہو اس میں عداوت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔لاکھوں انسان یہاں مکمل نظم و ضبط اور امن کے ساتھ جمع ہوئے ہیں۔ ایسے دور میں جب ایمان کے بارے میں ہونے والی بہت سی گفتگو تنازع اور کشمکش کی زبان میں کی جاتی ہے طوبہ اور اجمیر شریف دنیا کو مہمان نوازی عزت و وقار اور کھلے دروازے کی ایک مختلف زبان پیش کرتے ہیں۔ ’سب سے محبت کسی سے عداوت نہیں‘ محض ایک نعرہ نہیں ہے۔ اجمیر اور طوبہ میں یہ ایک زندہ دستور کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘

 انہوں نے مزید کہا کہ یہ اجتماع اس بات کا مظاہرہ ہے کہ بڑھتے ہوئے تنازعات کے دور میں مذہبی برادریاں امن اور بقائے باہمی کو فروغ دے سکتی ہیں۔انہوں نے کہا۔ ’’سب کے لیے محبت اور کسی سے دشمنی نہیں۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں ہے۔ اجمیر اور ٹوبا میں یہ ایک عملی دستور کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘اس رابطے کی ہندوستان سینیگال اور ہندوستان افریقہ تعلقات کے حوالے سے بھی وسیع اہمیت ہے۔ بالخصوص عوامی روابط اور تہذیبی سفارت کاری کے تناظر میں اس کی اہمیت نمایاں ہے۔مریدیہ سلسلے کا سینیگال میں وسیع سماجی اور روحانی اثر و رسوخ ہے۔ اس کے علاوہ فرانس۔ اٹلی۔ اسپین اور امریکہ سمیت مختلف ممالک میں اس کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔اس لیے ٹوبا کے ساتھ رابطہ ہندوستان کو مغربی افریقہ کے بااثر مذہبی۔ ثقافتی اور سماجی نیٹ ورکس کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

یہ ان طبقات تک رسائی پیدا کرتا ہے جہاں روایتی سفارت کاری کی رسائی محدود رہتی ہے۔ مریدیہ سلسلہ سینیگال کی آبادی کے ایک بڑے حصے کی گہری عقیدت کا مرکز ہے اور فرانس اٹلی اسپین اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں ایک بااثر تارک وطن برادری بھی اس سے وابستہ ہے۔ طوبہ میں قائم ہونے والا اعتماد مغربی افریقی معاشرے کی گہری سطح پر قائم ہونے والا اعتماد ہے۔یہ عالمی جنوب کی قیادت میں ہندوستان کے کردار کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ ہندوستان نے افریقی یونین کی جی 20 میں شمولیت کی بھرپور حمایت کی اور عالمی جنوب کے سربراہی اجلاسوں کا انعقاد کیا۔ افریقہ میں ہندوستان کی ساکھ ایسے اشتراک پر قائم ہے جس کی بنیاد وسائل کے حصول کے بجائے باہمی احترام اور شراکت داری پر ہے۔

یہ انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتا ہے۔ ساحل کا خطہ پرتشدد انتہا پسند تحریکوں کے شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے جو روایتی صوفی برادریوں کو بھی واضح طور پر نشانہ بناتی ہیں۔ ایشیا اور افریقہ کے دو اہم ترین صوفی مراکز کے درمیان تعاون ایک ایسا قابل اعتماد اور مقامی سطح پر قائم متبادل فراہم کر سکتا ہے جسے صرف کوئی بھی سلامتی کا نظام فراہم نہیں کر سکتا۔

یہ ہندوستان کو اس انداز میں پیش کرتا ہے جس انداز میں ہندوستان چاہتا ہے کہ دنیا اسے سمجھے۔ جب کوئی وفد یہ جانتا ہے کہ ہندوستان کی سب سے زیادہ زیارت کی جانے والی مسلم درگاہ پر ہندو زائرین بھی بڑی تعداد میں حاضری دیتے ہیں اور اس درگاہ کے خادم دنیا بھر میں ’’سب سے محبت کسی سے عداوت نہیں‘‘ کا پیغام دیتے ہوئے سفر کرتے ہیں تو اسے ہندوستانی تکثیریت کی ایسی تصویر دکھائی دیتی ہے جو کسی بھی تشہیری کتابچے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔یہ عملی تعاون کے نئے راستے بھی کھولتا ہے۔ زائرین کے باہمی تبادلے علمی اور مخطوطات سے متعلق تعاون نوجوانوں کے درمیان شراکت داری اور ثقافتی پروگراموں جیسے شعبوں میں سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں قائم ہندوستانی سفارتی مشن کے تعاون سے عملی پیش رفت کی جا سکتی ہے۔