کھٹمنڈو: نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی کارروائیوں اور لاشوں کو نکالنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو خصوصی آلات، ’باڈی بیگ‘، رسیوں اور ہیلی کاپٹروں کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 26 اگست کو نیپال-تبت سرحد کے قریب چٹانیں کھسکنے یا برفانی تودہ گرنے کے باعث اچانک سیلاب آیا۔
اس سیلاب نے بھوٹے کوشی ندی کے آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس سے مکانات، سڑکیں اور پل تباہ ہوگئے اور پن بجلی منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا۔ قومی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس آفت میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پیر کو 900 سے تجاوز کرگئی، جبکہ 4,000 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔ نیوز پورٹل ’ای کانتی پور ڈاٹ کام‘ کی پیر کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں نیپال فوج، نیپال پولیس اور مسلح پولیس فورس کے جوانوں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ جدید آلات کی کمی کے باعث دشوار گزار علاقوں میں امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل ہورہی ہیں۔
حکام کے مطابق جن آلات کی کمی ہے، ان میں تھرمل کیمرے، آواز کے ذریعے زندہ افراد کا پتہ لگانے والے آلات، چٹانیں کاٹنے کے خصوصی آلات، لاشیں رکھنے کے لیے باڈی بیگ، رسیاں اور جدید ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں نے بھی دشوار گزار علاقوں میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے کے لیے بار بار ہیلی کاپٹروں کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ کئی لوگوں نے مدد کے لیے پولیس کنٹرول روم کے 100 نمبر پر رابطہ کیا تھا، لیکن امدادی کارروائیوں میں مشکلات کے باعث بعض اوقات اہلکار ان تک نہیں پہنچ سکے۔ حکام نے بتایا کہ نیپال پولیس، جسے ہنگامی حالات میں کارروائی کرنے والی اہم ایجنسی سمجھا جاتا ہے، نے متعدد بار ہیلی کاپٹر خریدنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بیدور میں تعینات پولیس اہلکاروں نے امدادی کارروائیوں کے دوران درخت اور دیگر رکاوٹیں کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات کی کمی کی بھی نشاندہی کی۔ ایک پولیس افسر نے کہا، ’’لاشیں رکھنے کے لیے باڈی بیگ بھی کم پڑ رہے ہیں، یہاں تک کہ مناسب تعداد میں رسیاں بھی دستیاب نہیں ہیں۔‘‘ اتھارٹی کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر انیل پوکھریل نے کہا کہ خصوصی نوعیت کے آلات کی کمی ایک پرانا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر آلات دستیاب ہوں تو کام آسان ہوجاتا ہے، لیکن جب میں اتھارٹی میں تھا اور ان آلات کو خریدنے کی کوشش کررہا تھا، اس وقت بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی کمی تھی۔‘‘ پوکھریل نے جاری امدادی مہم میں شامل سکیورٹی اہلکاروں کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے وقت میں بھی ضروری سامان منگوایا جائے تو مستقبل میں کام آسان ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ زلزلے کے وقت کی طرح اب بھی بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق امدادی کارروائیوں کے لیے 19,895 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں نیپال پولیس کے 7,293، نیپال فوج کے 8,399 اور مسلح پولیس فورس کے 4,203 اہلکار شامل ہیں۔ مسلح پولیس فورس متاثرین کی تلاش کے لیے تربیت یافتہ کتوں کی بھی مدد لے رہی ہے۔ ایک افسر نے بتایا کہ تربیت یافتہ کتے روزانہ 5 سے 7 لاشیں تلاش کرنے میں مدد کررہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں نیپال فوج، مسلح پولیس فورس اور نیپال پولیس کی مشترکہ تلاش مہم جاری ہے۔
حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کے لیے 84 ارکان پر مشتمل ایک ٹیم تعینات ہے، جس میں فوج کے 62 اور نیپال پولیس و مسلح پولیس فورس کے 22 اہلکار شامل ہیں۔ ’دی ہمالین ٹائمز‘ کے مطابق نیپال حکومت نے سیلاب کے بعد تلاش اور امدادی کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان اور چین سے خصوصی اہلکاروں اور آلات کی مدد طلب کی ہے۔ ہندوستان نے نیپال میں امدادی کارروائیوں اور متاثرین کی شناخت میں مدد کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی ہیں۔
لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں تیزی لانے کے مقصد سے اتوار کو کھٹمنڈو میں 19 رکنی ہندوستانی فرانزک ٹیم نے کام شروع کیا۔ اس کے علاوہ چلی مے اور لنگ ٹانگ میں پن بجلی منصوبوں کے مقامات پر ہندوستانی سرنگ ریسکیو ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق ہندوستان اور چین کی ماہر ٹیمیں نیپال کی امدادی ٹیموں کی مدد کررہی ہیں۔ وہ مختلف پن بجلی منصوبوں میں کام کرنے والے 930 سے زیادہ افراد کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہیں، جن سے 26 اگست کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ ان میں سے کئی افراد سرنگوں میں پھنسے ہوسکتے ہیں۔