اسٹیبلشمنٹ نے تین آپشنز دیے، الیکشن، استعفیٰ اور تحریک عدم اعتماد: عمران خان

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 01-04-2022
 اسٹیبلشمنٹ نے تین آپشنز دیے، الیکشن، استعفیٰ اور تحریک عدم اعتماد: عمران خان
اسٹیبلشمنٹ نے تین آپشنز دیے، الیکشن، استعفیٰ اور تحریک عدم اعتماد: عمران خان

 


اسلام آباد :پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کا چل چلاو ہے۔ الٹی گنتی کا آغاز ہوچکا ہے ۔جبکہ اب اتوار کو قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔ اس سے قبل جمعہ کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ’مجھے اگست سے آئیڈیا ہوگیا تھا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے، میں کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کروں گا۔ جمعے کو نجی ٹی وی چینل اے آر وائے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ

مجھے اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے تین آپشنز دیے گئے۔ الیکشن، استعفیٰ اور تحریک عدم اعتماد۔

انہوں نے کہا کہ ’الیکشن بہتر طریقہ ہے، استعفے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور عدم تحریک پر میں آخری وقت تک لڑوں گا۔

عمران خان نے بتایا کہ ’مراسلے میں کہا گیا کہ عدم اعتماد میں ہار گیا تو پاکستان کو معاف کر دیں گے۔ کہا گیا کہ عمران خان عدم اعتماد سے نکل گیا تو پاکستان کے لیے بڑی مشکل ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری جان کو خطرہ ہے لیکن میں خاموش نہیں بیٹھوں گا۔ خوف آتا ہے کہ ہم اس سطح پر آگئے ہیں کہ دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کے بقول ’میری ہی نہیں بلکہ میری اہلیہ اور ان کی دوست فرح کی کردارکشی کی جا رہی ہے جس کے لیے باہر سے پیسہ دیا گیا ہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’آرمی چیف کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی بات ن لیگ کی ڈس انفارمیشن مہم تھی، کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے پاکستان کمزور ہو۔‘ عمران خان خان نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ کسی بھی حکومت کا فوج کے ساتھ ایسا تعاون نہیں تھا، ہم خارجہ پالیسی اور سکیورٹی ایشوز پر ایک پیج پر تھے۔

یہ اس لیے تھا کہ میرا کوئی ذاتی مفاد تو تھا نہیں۔ میں کون سا کوئی باہر پیسے بنا رہا تھا جو مجھے خطرہ ہوتا۔‘ عمران خان نے کہا کہ ’میں کابینہ کو جولائی سے کہہ رہا ہوں کہ سردیوں میں ہمارا سب سے مشکل وقت ہے تو یہ میرا کوئی جھگڑا نہیں تھا۔

عمران خان سے جب پوچھا گیا کہ ایک تاثردیا گیا ہے کہ آپ اپنی پسندیدہ شخصیت کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر برقرار رکھنا چاہتے تھے انہوں نے وضاحت کی کہ ’میری پسند کی بات نہیں، میں نے جنرل فیض کےساتھ تین سال کام کیا۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ سردیوں کا وقت ہمارے لیے مشکل ہے اور دیکھ لیں کہ ایک مہینے میں جو عدم استحکام آیا اس سے ہماری معیشت متاثر ہوئی۔ ‘ وزیراعظم کے بقول ’میں ان کو یہی کہہ رہا تھا کہ ہمیں سردیوں تک انہی کو رکھنا چاہیے، مجھے تو افغانستان کا ڈر اور بھی زیادہ تھا کہ وہاں اگر جنگ ہو جاتی تو اس کے اثرات پاکستان تک آتے۔ تو میں اسی لیے کہہ رہا تھا کہ پاکستان کے لیے سکیورٹی کے تجربہ کار شخص کو ہی سربراہی کرنی چاہیے۔ 

عمران خان نے کہا کہ ’ان کا اپنا ایک نظریہ تھا میرا بطور وزیراعظم کچھ اور نظریہ تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ سب کو دعوت دی کہ آکر بیرونی سازش دیکھیں لیکن شہباز شریف میٹنگ میں نہیں آئے۔ ’شہباز شریف سے بات کر سکتا ہوں نہ کروں گا۔‘ عمران خان نے بتایا کہ ’میرے پاس ساری رپورٹس ہیں کہ کون سے سیاستدان اور اینکرز کس سفارتخانے جاتے تھے۔

وزیراعظم کے بقول نواز شریف نے جتنا ملک کو نقصان پہنچایا اتنا کسی نے نہیں پہنچایا۔ یہ ساری کوششیں این آر او لینے کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف کے ساتھ وہ رابطے میں تھے جو فوج کے خلاف تھے، حسین حقانی جیسے لوگ نواز شریف سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔ نواز شریف کی بیٹی نے کھل کر فوج پر تنقید کی۔‘ جب ان سے تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کے دن کے حوالے سے حکمت عملی کا پوچھا گیا تو عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ ساری قوم دیکھے کہ یہ کون لوگ ہیں جو اپنے ضمیر کا سودا کریں گے۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں ووٹنگ والے دن کون لوگ اپنا ضمیر بیچیں گے تاکہ ہمیشہ کے لیے ان پر مہر لگ جائے۔‘ وزیراعظم نے ایک بار پھر انڈیا کی خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے ان کے پاسپورٹ کی عزت ہے۔