واشنگٹن: امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کردہ حالیہ دستاویزات میں بدنام زمانہ سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق نئے اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں ان کے مبینہ خفیہ روابط اور امریکی سرکاری عمارتوں کی ممکنہ خریداری کی پیشکش کا ذکر کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ایپسٹین کو ایک موقع پر یہ تجویز دی گئی تھی کہ وہ امریکی وزارتِ دفاع کے مرکزی دفتر پینٹاگون اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی عمارتیں خرید لے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مجوزہ سودے کے لیے 116 ملین ڈالر کی قیمت زیر غور آئی تھی۔ اگر یہ معاملہ طے پا جاتا تو ایپسٹین امریکی حکومت کی اہم عمارتوں کا مالک بن سکتا تھا، جس پر سکیورٹی اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مزید برآں، ایک ای میل مراسلے میں ایف بی آئی کے ایک مخبر نے ایپسٹین کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ تاہم اس دعوے کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ دستاویزات میں یہ بھی ذکر ہے کہ ایپسٹین کے اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود براک سے قریبی روابط تھے۔
اطلاعات کے مطابق براک سن 2013 سے 2017 کے درمیان تقریباً 30 مرتبہ ایپسٹین کی نیویارک میں واقع رہائش گاہ پر گئے۔ بعض دعووں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایپسٹین نے مبینہ طور پر براک کی نگرانی میں خفیہ سرگرمیوں سے متعلق تربیت حاصل کی، اگرچہ ان الزامات کی آزادانہ توثیق دستیاب نہیں۔ یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین کمسن لڑکیوں سے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات کے باعث عالمی سطح پر بدنام ہوئے تھے، اور ان کی سرگرمیوں اور روابط کے حوالے سے مختلف تحقیقات اور قیاس آرائیاں طویل عرصے سے زیر بحث رہی ہیں۔