واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف نے جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق ایف بی آئی کی مزید دستاویزات جاری کر دی ہیں، جن میں ایک خاتون کا تفصیلی انٹرویو بھی شامل ہے۔ ان دستاویزات میں کیے گئے دعوؤں نے ایک بار پھر اس کیس کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
جاری کردہ بیان کے مطابق محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات پہلے منظر عام پر نہیں آ سکیں کیونکہ انہیں غلطی سے ڈپلیکیٹ سمجھ کر الگ کر دیا گیا تھا۔ اب سامنے آنے والی فائلوں میں 2019 میں فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI) کی جانب سے کیے گئے متعدد انٹرویوز کی تفصیلات شامل ہیں۔
ان دستاویزات میں شامل ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ جب ان کی عمر 13 سے 15 سال کے درمیان تھی تو جیفری ایپسٹین انہیں نیو یارک یا نیو جرسی لے گیا، جہاں اس نے ان کی ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ سے کروائی۔ خاتون کے مطابق بعد میں ٹرمپ نے ان پر جنسی حملہ کیا۔
خاتون نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اس واقعے کے بعد انہیں اور ان کے قریبی افراد کو دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوتی رہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ان کالز کا تعلق جیفری ایپسٹین سے ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ جاری کردہ دستاویزات میں کچھ ایسے دعوے بھی شامل ہیں جو ممکنہ طور پر غلط یا سنسنی خیز ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ادھر ڈیموکریٹ رہنما ٹرمپ انتظامیہ پر الزام لگا رہے ہیں کہ ایپسٹین تحقیقات سے متعلق بعض اہم معلومات چھپائی جا رہی ہیں۔ اسی معاملے پر امریکی ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی نے اٹارنی جنرل پام بوندی کو طلب کرنے کے لیے سمن جاری کرنے کے حق میں ووٹ بھی دیا ہے۔