مکہ ۔ مدینہ منورہ :سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر میں جمعہ کے روز عید الفطر عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے، جبکہ فلسطین میں صورتحال مختلف رہی جہاں مسجد الاقصیٰ میں نماز عید کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی گئی۔سعودی عرب میں صبح کے وقت مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں عید کی نماز کے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور عبادت کے ذریعے خوشی کا اظہار کیا۔
اس سال عید الفطر ایسے وقت پر آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ اور خطے میں جاری کارروائیوں نے ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں عیدالفطر کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہ ملنے کے باعث بڑی تعداد میں فلسطینیوں نے سڑکوں پر ہی نماز ادا کی۔
اسرائیل نے رمضان کے آغاز سے لگاتار تقریباً بیس دن تک مسجد اقصیٰ کے احاطے کو نمازیوں کے لیے بند رکھا اور یہاں تک کہ عید کی نماز کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
یہ پابندی ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ سن 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر قبضے کے بعد اس نوعیت کی طویل بندش پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
حالیہ دور میں اس کی واحد مثال سن 2020 میں سامنے آئی تھی جب کووڈ کے دوران مسجد کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی مبارک باد
عید کے موقع پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے پیغام میں عالمی امن اور استحکام کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو عید کی مبارکباد دی اور امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔سعودی خبررساں ادارے کے مطابق وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے شاہی پیغام پڑھ کر سنایا۔ پیغام میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ تمام نیک اعمال قبول ہوں اور ملک و ملت کو امن و استحکام نصیب ہو۔
كلمة #خادم_الحرمين_الشريفين التي وجهها للمواطنين والمقيمين في المملكة والمسلمين في سائر البلدان بمناسبة #عيد_الفطر لعام 1447هـ، وتشرّف بإلقائها وزير الإعلام.#واس pic.twitter.com/WL8FBNpwwM
— واس الأخبار الملكية (@spagov) March 19, 2026
شاہ سلمان نے حرمین شریفین کی خدمت اور زائرین کی سہولت کے لیے مملکت کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ اللہ کے مہمانوں کی خدمت، ان کی حفاظت اور آرام کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔رمضان المبارک کے دوران لاکھوں مسلمانوں نے عمرہ ادا کیا اور حرمین شریفین میں عبادات کے ذریعے روحانی سکون حاصل کیا۔اپنے پیغام میں شاہ سلمان نے علاقائی اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور امن کے قیام کے لیے سعودی عرب کے واضح مؤقف کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سرحدوں پر تعینات فوجی اہلکاروں کے لیے دعا کی اور دنیا بھر میں امن و خوشحالی کی خواہش ظاہر کی۔
اس کے برعکس، اسرائیلی پابندیوں کے باعث مسجد الاقصیٰ میں نماز کی اجازت نہ ملنے پر فلسطینیوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر ہی نماز عید ادا کی۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے رمضان کے آغاز سے تقریباً 20دن تک مسجد الاقصیٰ کو نمازیوں کے لیے بند رکھا اور عید کے دن بھی اس میں نرمی نہیں کی گئی۔
یہ صورتحال غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے بعد اس نوعیت کی طویل بندش پہلے دیکھنے میں نہیں آئی۔ حالیہ برسوں میں اس کی ایک بڑی مثال 2020 میں سامنے آئی تھی جب کورونا وبا کے دوران مسجد کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔
عيدكم مبارك
— Inside the Haramain (@insharifain) March 19, 2026
pic.twitter.com/0N88YqM3LG
والدین کی اطاعت، رشتوں کی مضبوطی اور دلوں کی صفائی پر زور
مسجد نبوی کے امام شیخ ڈاکٹر صلاح البدیر نے عید الفطر کے موقع پر اپنے خطبہ میں امت مسلمہ کو اہم اخلاقی اور سماجی ہدایات دیتے ہوئے والدین کی اطاعت، رشتوں کی مضبوطی اور دلوں کی صفائی پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ عید حقیقی خوشی نہیں لا سکتی جس میں انسان اپنے والدین کی نافرمانی کرے اور ان کے حقوق کو نظر انداز کرے۔ اسی طرح انہوں نے اس رویے پر بھی تشویش ظاہر کی جس میں لوگ اپنے بھائیوں اور ساتھیوں سے دوری اختیار کر لیتے ہیں، نہ ملاقات کرتے ہیں، نہ سلام کرتے ہیں اور نہ ہی عید کی خوشیاں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے ہیں۔
خطيب المسجد النبوي الشيخ د. صلاح البدير:
— قناة الإخبارية (@alekhbariyatv) March 20, 2026
أي عيد لمن أشرقت عليه شمسه وهو ملازم لعقوق والديه، مداوم على ترك برّهما؟ وأي عيد لمن هجر إخوانه وخلانه فلا يزاورهم ولا يجالسهم ولا يؤانسهم ولا يصافحهم ولا يسامحهم ولا يحتفي معهم بالعيد؟ pic.twitter.com/kockGU0KQD
شیخ صلاح البدیر نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے دلوں سے کینہ اور بغض نکال دیں اور باہمی ناراضگیوں کو ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ عید کا اصل پیغام محبت، نرمی اور بھائی چارہ ہے، اس لیے سب کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اختیار کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ دشمنی کے بجائے نرمی، مہربانی اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے اور اپنے دلوں کو پاک رکھتے ہوئے دوسروں کے لیے مخلصانہ خیرخواہی کا جذبہ اپنانا چاہیے۔خطبہ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عید جیسے خوشی کے موقع کو بے رخی، بائیکاٹ اور ایک دوسرے سے منہ موڑنے جیسے رویوں سے خراب نہ کیا جائے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ سلام میں پہل کریں، مصافحہ کریں اور صلح میں تاخیر نہ کریں۔
خطبہ کے اختتام پر انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ وہ کیسی عید ہے جب ایک شخص اپنے بھائی سے ملے لیکن اس سے منہ موڑ لے، نہ سلام کرے، نہ مصافحہ کرے اور نہ ہی اس کے ساتھ نرمی اور محبت کا برتاؤ کرے۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اتحاد، محبت اور باہمی احترام کی نعمت سے نوازے اور سب کو عید کی حقیقی خوشیوں سے بہرہ مند کرے۔سعودی عرب کے علاوہ لبنان، عراق اور آسٹریلیا میں بھی جمعہ کو عید الفطر منائی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور ایران سمیت دیگر ممالک میں عید ہفتہ 21 مارچ کو منائی جائے گی۔