نیویارک: ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں جنگی صورتحال کے باعث پیر کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ توانائی کی سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشے سے سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی گئی۔
تاجروں کو خدشہ ہے کہ ایران اور مغربی ایشیا کے دیگر ممالک سے خام تیل کی سپلائی سست یا معطل ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر خلیج فارس کے تنگ داخلی راستے، آبنائے ہرمز، سے گزرنے والے دو جہازوں پر حملوں کے باعث برآمدی صلاحیت متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مغربی ایشیا میں حملے طویل عرصے تک جاری رہے تو خام تیل کے ساتھ ساتھ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکا میں پیدا ہونے والا ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل پیر کی صبح تقریباً 72 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا، جو جمعہ کے تقریباً 67 ڈالر کے مقابلے میں 7.3 فیصد زیادہ ہے۔ بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت 78.55 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو جمعہ کے 72.87 ڈالر کے مقابلے میں 7.8 فیصد زائد ہے۔ جمعہ کا یہ ریٹ گزشتہ سات ماہ کی بلند ترین سطح تھا۔
توانائی تجزیاتی کمپنی رسٹیڈ انرجی کے مطابق روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل یعنی عالمی سپلائی کا قریب 20 فیصد خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ یہ آبی راستہ دنیا کا اہم ترین ’’چوک پوائنٹ‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے شمال میں ایران واقع ہے، جبکہ اس راستے سے سعودی عرب، کویت، عراق، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور ایران کا تیل اور گیس برآمد ہوتا ہے۔
ایران نے فروری کے وسط میں فوجی مشقوں کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کے بعض حصوں کو عارضی طور پر بند کیا تھا، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 6 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔ دوسری جانب، تیل پیدا کرنے والے ممالک کے گروپ ’’اوپیک پلس‘‘ کے آٹھ ارکان نے اتوار کو تیل کی پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ اوپیک کے مطابق اپریل میں یومیہ 2 لاکھ 6 ہزار بیرل اضافی پیداوار کی جائے گی۔
پیداوار بڑھانے والے ممالک میں سعودی عرب، روس، عراق، یو اے ای، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان شامل ہیں۔ رسٹیڈ انرجی کے سینئر نائب صدر جارج لیون نے کہا کہ عالمی تیل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے منڈی کو اس بات پر تشویش ہے کہ آیا خام تیل کی ترسیل بلا رکاوٹ جاری رہ سکے گی یا نہیں۔
اگر خلیجی خطے میں نقل و حرکت متاثر ہوئی تو اضافی پیداوار سے فوری طور پر محدود ریلیف ملے گا۔ ایران یومیہ تقریباً 16 لاکھ بیرل تیل برآمد کرتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ چین کو جاتا ہے۔ اگر ایران کی برآمدات متاثر ہوتی ہیں تو چین کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑیں گے، جس سے عالمی توانائی قیمتوں پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔