کورونا کے خلاف : جنگی حکمت عملی کی ضرورت۔ اقوام متحدہ

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 25-05-2021
دن بدن بڑھتا خطرہ
دن بدن بڑھتا خطرہ

 

 

نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت کووڈ 19 کے خلاف 'برسرپیکار' ہے۔ انہوں نے بین الااقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس وبا کے مقابلے کے لیے جنگی حکمت عملی اختیار کرے۔ عالمی ادارہ صحت کے سالانہ اجلاس کے آغاز پر اپنی تقریر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ 'ہم اس وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمیں اس حوالے سے ہنگامی اور جنگ کی معاشی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اپنے ہتھیاروں کی صلاحیت کو بڑھانا ہو گا۔' انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ 'غیر محفوظ افراد کو سب سے زیادہ تکلیف ہو رہی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ یہ وبا اپنے خاتمے سے بہت دور ہے۔'

انہوں نے عالمی برادری پر 'دگنی رفتار کی پالیسی' پر عمل کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اگر ہم ابھی کام نہیں کرتے تو ہمیں ایسی صورت حال کا سامنا ہو گا جب امیر ممالک اپنی اکثریتی آبادی کو ویکسین لگا کر اپنے معیشت کو بحال کر لیں گے جبکہ غریب ممالک میں اس وائرس سے ہونے والی تکالیف جاری رہیں گی اور صورتحال مسخ ہوتی رہے گی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'کیسز میں مزید اضافہ لاکھوں زندگیاں چھین سکتا ہے اور عالمی معیشت کی بحالی کو سست کر سکتا ہے۔ کووڈ 19 کو ایک وقت میں ایک اکیلا ملک شکست نہیں دے سکتا۔' گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے سربراہ نے جی ٹوئنٹی سے مطالبہ کیا تھا کہ جی ٹوئنٹی تمام ممالک کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کرے تاکہ کووڈ کے خلاف جنگ کے لیے دوسرے ممالک کو ویکسین بنانے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

عالمی ادارہ صحت نے ویکسین کی تقسیم کے لیے کوویکس نامی ایک عالمی پروگرام بھی شروع کیا ہے لیکن اس پروگرام کو فنڈز اور ویکسین کی رسد میں کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے غریب ممالک میں ویکسینیشن مہم سست رفتاری کا شکار ہے۔ دنیا کے غریب ترین ممالک جہاں دنیا کی دس فیصد آبادی مقیم ہے میں ابھی تک صرف اعشاریہ تین فیصد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔