دبئی: عالمی سطح پر جاری ایران-امریکہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد نہ صرف تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں بلکہ اب عالمی غذائی تحفظ پر بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کے کمانڈر انچیف کے سینئر مشیر ابراہیم جابری نے 2 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز بند ہو چکی ہے۔ اس بندش کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
ماہرین کے مطابق اسی بحری راستے کے متاثر ہونے سے اب کھاد کی سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہے، جو عالمی زراعت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا کی یوریا کھاد کی بڑی مقدار خلیجی ممالک سے آتی ہے اور یہ بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ گیس کی بندش اور شپنگ میں رکاوٹ کے باعث خطے میں کھاد تیار کرنے والے کارخانے یا تو بند ہو گئے ہیں یا پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
قطر کی سرکاری کمپنی قطر انرجی نے گیس کی بندش کے بعد دنیا کے سب سے بڑے یوریا پلانٹس میں سے ایک کی پیداوار روک دی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بھارت نے کئی یوریا پلانٹس کی پیداوار کم کر دی ہے۔ بنگلہ دیش نے اپنی زیادہ تر کھاد فیکٹریاں بند کر دی ہیں۔ امریکا کو تقریباً 25 فیصد کھاد کی کمی کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق یوریا کی قیمت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور دیگر کھادوں کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ہے۔ خلیجی خطہ دنیا کی کھاد کی بڑی سپلائی فراہم کرتا ہے۔ بھارت اپنی 40 فیصد سے زائد کھاد اس خطے سے درآمد کرتا ہے، برازیل اپنی تقریباً مکمل کھاد کی ضروریات یہاں سے پوری کرتا ہے، جبکہ چین، امریکا، آسٹریلیا اور انڈونیشیا بھی کافی حد تک اس خطے پر انحصار کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق خلیجی خطے سے عالمی یوریا تجارت کا تقریباً 46 فیصد اور کھاد کی مجموعی تجارت کا بڑا حصہ وابستہ ہے۔
ماہرین کے مطابق کھاد کی کمی فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر شمالی نصف کرہ میں بوائی کے سیزن کے دوران۔ کھاد کے کم استعمال سے گندم، چاول، مکئی اور سویا بین جیسی اہم فصلوں کی پیداوار کم ہو سکتی ہے، جس سے عالمی خوراک کی سپلائی متاثر ہوگی، خوراک کی قیمتیں بڑھیں گی اور بعض ممالک میں کمی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ بحران عالمی زراعت اور خوراک کی حفاظت کے لیے ایک فوری چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جس کے اثرات طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔