بینکاک: امریکہ کی جانب سے حالیہ پابندیوں کے جواب میں چین نے بدھ کے روز امریکہ کے خلاف کئی معاشی اقدامات کا اعلان کیا، جن میں امریکہ کو ڈرون کی برآمدات پر کنٹرول اور چھ امریکی کمپنیوں کے ساتھ کاروباری تعلقات پر پابندی شامل ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ستمبر میں چینی صدر شی جن پنگ کے امریکہ کے ممکنہ دورے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اگرچہ مئی میں بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے آثار دکھائی دیے تھے، تاہم دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی نظر آ رہی ہے۔
چین کی وزارتِ تجارت نے کہا کہ یہ اقدامات امریکہ کی حالیہ کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ ان میں امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایف سی سی) کی جانب سے چینی ڈرون کی درآمد پر پابندی اور امریکی محکمہ داخلی سلامتی کا وہ فیصلہ شامل ہے، جس کے تحت جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد روکنے کے لیے 43 چینی کمپنیوں کو ایغور جبری مشقت کی روک تھام کے قانون (Uyghur Forced Labor Prevention Act) کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا، ’’یہ اقدامات دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والی اہم مفاہمت کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور چین کے جائز حقوق و مفادات کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
اس کے جواب میں چین کے پاس ضروری جوابی اقدامات کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ چین نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیجنگ کے خلاف عائد پابندیاں واپس لے اور اپنی ’’غلط روش‘‘ ترک کرے۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ اگر امریکہ نے چین کے خلاف نئی پابندیاں نافذ کیں تو واشنگٹن کے خلاف مزید جوابی پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔
چین نے اپلائیڈ ڈی این اے سائنسز (Applied DNA Sciences Inc.) اور غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس اِن چائنا (Human Rights in China) سمیت چھ امریکی اداروں پر چینی اداروں کے ساتھ تجارت یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
وزارتِ تجارت نے یہ بھی بتایا کہ درآمد شدہ پرنٹنگ سافٹ ویئر اور دفتری آلات سے قومی سلامتی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے، تاہم اس نے متاثرہ کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دسمبر میں امریکی ایف سی سی نے نئے چینی ڈرون کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی، اگرچہ بعد میں بعض ماڈلز کو منظوری دینے کے لیے اس پابندی میں نرمی کی گئی۔ گزشتہ ہفتے امریکی حکام نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بیرون ملک تیار ہونے والے نئے ہیومنوئیڈ روبوٹس اور پاور اِنورٹرز کی درآمد پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، جس کا بنیادی ہدف چین کو قرار دیا جا رہا ہے۔