نئی دہلی: حیدرآباد میں منگل سے شروع ہونے والے برکس انسدادِ بدعنوانی ورکنگ گروپ (ACWG) کے دوسرے اجلاس میں ہندوستان نے مفرور مجرموں کی تلاش، حوالگی (ایکسٹریڈیشن)، لوٹی گئی دولت کی واپسی اور مجرموں و غیر قانونی رقوم کی سرحد پار نقل و حرکت روکنے کے لیے برکس ممالک کے درمیان مضبوط تعاون پر زور دیا۔
چار اور پانچ اگست کو ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں اثاثوں کی بازیابی سے متعلق برکس ماہرین کے نیٹ ورک کا دوسرا اجلاس بھی شامل ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محکمۂ عملہ و تربیت (DoPT) کی سکریٹری رچنا شاہ نے کہا کہ بدعنوانی پائیدار اور جامع ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے باعث عوامی وسائل اسپتالوں، اسکولوں اور بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں کے بجائے غلط سمت میں چلے جاتے ہیں اور عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے معاشی جرائم کے بعد فرار ہونے والے مجرموں کے مسئلے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ کوئی بھی ملک ایسے افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بنے جو جرائم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔" انہوں نے مفرور مجرموں کی تلاش، ان کی حوالگی، چوری شدہ اثاثوں کی واپسی اور سرحد پار مالی جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ رچنا شاہ نے کہا کہ کوئی بھی ملک اکیلے بدعنوانی سے مؤثر طور پر نہیں نمٹ سکتا، اس لیے غیر قانونی مالی لین دین روکنے، عوامی وسائل کے تحفظ اور عالمی انسدادِ بدعنوانی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اجتماعی اور مسلسل بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کو سرحد پار بدعنوانی کے خلاف اپنے مشترکہ عزم کو عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا چاہیے۔ انہوں نے مفرور مجرموں کی تلاش اور ان کی حوالگی میں مدد کے لیے "غیر رسمی تعاون سے متعلق برکس ریپوزٹری" میں ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کیا، ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے برکس نیٹ ورک کے قیام کی تجویز کو بھی اہم قرار دیا۔
سکریٹری نے اثاثوں کی بازیابی سے متعلق برکس ماہرین کے نیٹ ورک کے آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ معیاری معلوماتی فارمیٹ، رابطہ افسران کی فہرست اور ماہرین کی ڈائریکٹری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تیز، براہِ راست اور مؤثر تعاون کو فروغ دے گی۔
انہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی شفاف حکمرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل شناخت، الیکٹرانک خدمات، ڈیجیٹل ادائیگیاں اور شفاف خریداری کے نظام بدعنوانی، وسائل کے ضیاع اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس (GeM) اور ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (DBT) کو ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی مثالیں قرار دیا، جبکہ ٹیکس نظام میں پیپر لیس اور فیس لیس عمل، ڈیٹا پر مبنی نگرانی اور مضبوط شکایت ازالہ نظام کا بھی ذکر کیا۔ دو روزہ اجلاس میں مفرور مجرموں کی حوالگی، غیر رسمی تعاون، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے برکس نیٹ ورک، اثاثوں کی بازیابی، ٹیکنالوجی پر مبنی شفاف حکمرانی، اور فِن ٹیک و ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں (VDAs) کے ذریعے منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے خطرات جیسے موضوعات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔