فرینکفرٹ: ایران کے ساتھ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل خلیج فارس کا تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتا تھا، مگر آئندہ چند برسوں میں اس کا بڑا حصہ اس راستے سے ہٹ کر دیگر راستوں سے بھیجا جا سکے گا۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے ممکنہ دباؤ اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر خلیجی ممالک اربوں ڈالر کی لاگت سے نئی پائپ لائنیں تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، تاکہ تیل کو بحیرہ احمر، نہر سویز اور خلیج عمان کی بندرگاہوں تک منتقل کیا جا سکے۔
سرکاری حکام، تیل کمپنیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق کم از کم سات بڑی پائپ لائن منصوبے زیر تعمیر، منصوبہ بندی کے مرحلے میں یا زیر غور ہیں۔ اگرچہ متبادل راستے بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں، کیونکہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کی آمدورفت روکنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس بحران نے خلیجی ممالک کو آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔
سعودی عرب نے 1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران مشرق۔مغرب پائپ لائن تعمیر کی تھی، جو ابقیق سے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع تک تیل پہنچاتی ہے۔ متحدہ عرب امارات بھی خلیج عمان کی بندرگاہ فجیرہ تک تیل کی ترسیل بڑھا رہا ہے۔ جنگ سے قبل دونوں پائپ لائنوں میں یومیہ 35 سے 55 لاکھ بیرل اضافی گنجائش موجود تھی، لیکن اب یہ تقریباً مکمل صلاحیت سے چل رہی ہیں۔
ابوظہبی کی سرکاری آئل کمپنی تقریباً 3 ارب ڈالر کی لاگت سے 300 کلومیٹر طویل نئی پائپ لائن تعمیر کر رہی ہے، جس سے فجیرہ کو یومیہ 12 لاکھ بیرل سے زائد اضافی تیل فراہم کیا جا سکے گا۔ منصوبے کی تکمیل 2027 میں متوقع ہے۔ عراق، جو اپنی تیل برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، بصرہ سے ترکی کی بندرگاہ جیہان اور شام کی بندرگاہ بنیاس تک نئی پائپ لائنوں پر کام کر رہا ہے۔
اسی طرح اردن کے شہر عقبہ تک بھی ایک مجوزہ پائپ لائن پر بات چیت جاری ہے، جہاں سے تیل بحیرہ احمر اور نہر سویز کے ذریعے ایشیا اور دیگر منڈیوں تک پہنچایا جا سکے گا۔ گولڈمین سیکس کے مطابق 2028 کے اختتام تک نئی پائپ لائنوں کے ذریعے روزانہ 73 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر برآمد کیا جا سکے گا، جس سے خلیجی ممالک کی تقریباً 60 فیصد جنگ سے قبل کی برآمدات محفوظ ہو جائیں گی۔
تاہم ان متبادل راستوں سے تیل کی ترسیل زیادہ وقت اور زیادہ لاگت طلب ہوگی، جبکہ بحیرہ احمر اور دیگر علاقوں میں حوثی باغیوں یا ایران سے وابستہ گروہوں کے حملوں کا خطرہ بھی برقرار رہے گا۔ 2019 میں حوثیوں کے ڈرون حملے کے باعث سعودی مشرق۔مغرب پائپ لائن عارضی طور پر بند بھی ہو چکی ہے۔