مناسکِ حج 2026 کا آغاز۔ لاکھوں عازمین کی وادیِ منیٰ روانگی شروع

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 25-05-2026
مناسکِ حج 2026 کا آغاز۔ لاکھوں عازمین کی وادیِ منیٰ روانگی شروع
مناسکِ حج 2026 کا آغاز۔ لاکھوں عازمین کی وادیِ منیٰ روانگی شروع

 



مکہ مکرمہ۔حج 2026 کے روح پرور مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں مقیم لاکھوں عازمینِ حج کو مرحلہ وار قافلوں کی صورت میں وادیِ منیٰ منتقل کرنے کا عمل 8 ذی الحجہ کی شب سے شروع کردیا گیا۔ حجاج کرام لبیک اللہم لبیک کی صداؤں کے ساتھ یومِ الترویہ کی ادائیگی کے لیے منیٰ روانہ ہو رہے ہیں۔

داخلی حجاج جن میں سعودی شہری اور مملکت میں مقیم غیرملکی شامل ہیں۔ طوافِ قدوم ادا کرنے کے بعد منیٰ کی جانب روانہ ہوئے جہاں وہ یومِ الترویہ کی سنت ادا کریں گے۔حجاج کی روانگی کے موقع پر وزارتِ حج و عمرہ۔ وزارتِ صحت۔ شہری دفاع۔ سکیورٹی اداروں اور دیگر سرکاری محکموں نے اپنی خدمات کو مکمل طور پر فعال کردیا ہے۔ اس کے علاوہ سکاوٹس اور مختلف فلاحی تنظیموں کے رضاکار بھی حجاج کی رہنمائی اور خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔

حج گروپس کی انتظامیہ کی جانب سے منیٰ روانگی سے قبل عازمینِ حج کو یومِ الترویہ اور مشاعرِ مقدسہ سے متعلق اہم ہدایات اور معلومات فراہم کی گئیں تاکہ حجاج اپنے مناسک آسانی اور اطمینان کے ساتھ ادا کرسکیں۔وادیِ منیٰ جانے والے تمام راستوں پر سکیورٹی اہلکار بڑی تعداد میں تعینات ہیں جبکہ مختلف مقامات پر ہلالِ احمر کے رضاکار یونٹس بھی موجود ہیں جو ہنگامی طبی امداد اور رہنمائی کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

دوسری جانب وزارتِ صحت کی جانب سے شدید گرمی کے پیشِ نظر حجاج کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی مسلسل ہدایت دی جا رہی ہے۔ وزارت نے مختلف زبانوں میں آگاہی پمفلٹس اور ہینڈ بلز بھی تقسیم کیے ہیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے عازمین صحت سے متعلق ضروری ہدایات سے آگاہ رہیں۔وزارتِ صحت نے حجاج کو ہدایت کی ہے کہ کھلی دھوپ میں زیادہ دیر نہ رہیں۔ غیرضروری طور پر طویل فاصلہ پیدل طے نہ کریں۔ چھتری کا استعمال لازمی کریں اور جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔

ادھر اہلِ مکہ مکرمہ کی جانب سے بھی حجاجِ کرام کی خدمت کے جذبے کے تحت منیٰ جانے والے راستوں پر پانی کی بوتلیں تقسیم کرنے کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ مقامی شہریوں کی جانب سے عازمینِ حج کے استقبال اور خدمت کے یہ مناظر اسلامی اخوت اور مہمان نوازی کی خوبصورت مثال پیش کر رہے ہیں۔

 منیٰ۔ عرفات اور مزدلفہ میں سہولیات فعال۔ مشاعر ٹرین سروس بھی مکمل طور پر تیار

حج 2026 کے روح پرور مناسک کا باقاعدہ آغاز 8 ذوالحجہ بروز پیر 25 مئی سے ہوگا جبکہ لاکھوں حجاج کرام اس وقت مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہیں اور مشاعرِ مقدسہ روانگی کی تیاریوں کو آخری شکل دے رہے ہیں۔ حجاج کرام میں غیرمعمولی روحانی جوش و خروش پایا جا رہا ہے اور ہر طرف لبیک اللہم لبیک کی صدائیں گونج رہی ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق منیٰ۔ عرفات اور مزدلفہ میں حجاج کے استقبال کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ وادیِ منیٰ کی وسیع خیمہ بستی مکمل طور پر تیار ہے جہاں لاکھوں عازمینِ حج کے قیام کے لیے جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ مختلف سرکاری ادارے۔ طبی ٹیمیں اور سیکیورٹی اہلکار عازمین کی خدمت اور رہنمائی کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔

دوسری جانب مشاعرِ مقدسہ ریلوے انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ حج 1447 ہجری کے لیے مشاعر ٹرین سروس کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق اس خصوصی ریلوے سروس کے لیے 17 جدید ٹرینیں مختص کی گئی ہیں جبکہ ہر ٹرین میں تقریباً تین ہزار مسافروں کی گنجائش موجود ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مشاعر ٹرین سروس کے ذریعے فی گھنٹہ تقریباً 72 ہزار حجاج کو سفری سہولت فراہم کی جا سکے گی تاکہ مشاعرِ مقدسہ کے درمیان حجاج کی آمد و رفت کو منظم اور آسان بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ مشاعرِ مقدسہ ریلوے نیٹ ورک میں مجموعی طور پر 9 اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جو منیٰ۔ عرفات اور مزدلفہ کے مختلف مقامات کو آپس میں جوڑتے ہیں جبکہ آخری اسٹیشن جمرات کے قریب واقع ہے جہاں حجاج رمیِ جمرات کی ادائیگی کے لیے پہنچتے ہیں۔

سعودی حکومت کی جانب سے اس سال بھی حج انتظامات کو جدید ٹیکنالوجی اور مربوط خدمات سے آراستہ کیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں حجاج کرام اپنے مناسکِ حج مکمل سکون۔ تحفظ اور سہولت کے ساتھ ادا کرسکیں۔

 مسجد الخیف میں یومِ ترویہ کے لیے غیرمعمولی انتظاما

سعودی وزارتِ اسلامی امور نے یومِ ترویہ کے موقع پر مسجد الخیف میں عازمینِ حج کے استقبال اور سہولت کے لیے آپریشنل اور خدماتی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ وزارت کی جانب سے مسجد میں تکنیکی۔ آپریشنل اور مذہبی رہنمائی کی خدمات کو مکمل طور پر فعال کردیا گیا ہے تاکہ حجاج کرام اطمینان اور آسانی کے ساتھ اپنے مناسک ادا کرسکیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسجد الخیف مقدس مقامات کی نمایاں اور تاریخی مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ مسجد کا مجموعی رقبہ 23 ہزار 500 مربع میٹر پر مشتمل ہے جبکہ 27 ہزار مربع میٹر کے وسیع حصے میں قالین بچھائے گئے ہیں تاکہ عازمین کو آرام دہ ماحول میسر آسکے۔

شدید گرمی کے پیشِ نظر مسجد میں جدید کولنگ نظام نصب کیا گیا ہے۔ عازمین کے آرام کے لیے 410 کولنگ یونٹس استعمال کیے جا رہے ہیں جنہیں جدید اسمارٹ کلائمٹ کنٹرول سسٹم کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے۔ اس جدید نظام کے باعث مسجد کے اندر درجہ حرارت کو متوازن رکھا جا رہا ہے تاکہ عبادت گزار سکون کے ساتھ نماز اور عبادات ادا کرسکیں۔

وزارتِ اسلامی امور نے مسجد میں 54 ہائی کیپیسٹی واٹر ڈسپنسرز بھی نصب کیے ہیں جو فی گھنٹہ 500 لیٹر ٹھنڈا پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر فی گھنٹہ 81 ہزار سے زائد عازمین کو مختلف خدمات فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

عازمینِ حج کی سہولت کے لیے مسجد کے احاطے میں موبائل فون چارجنگ اسٹیشنز بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ حجاج دورانِ قیام اپنی ڈیجیٹل سہولیات سے مسلسل منسلک رہ سکیں۔

اسی طرح ہجوم کے بہتر انتظام اور رہنمائی کے لیے مسجد میں 79 جدید ڈیجیٹل اسکرینز نصب کی گئی ہیں جہاں مختلف زبانوں میں آگاہی۔ ہدایات اور رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے حجاج آسانی کے ساتھ معلومات حاصل کرسکیں۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت نے مسجد الخیف میں تاریخ کی سب سے بڑی توسیع 1407 ہجری میں مکمل کی تھی۔ توسیعی منصوبے کے بعد مسجد میں بیک وقت تقریباً 25 ہزار نمازیوں کی گنجائش پیدا ہوگئی جبکہ اسے جدید سہولیات سے بھی آراستہ کیا گیا