ڈھاکا: بنگلادیش کے چاندپور ضلع کے فرید گنج اپازلہ کی روپشا ساؤتھ یونین میں خواتین نے 56 سال بعد پہلی بار اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا، جسے علاقے کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق 1969 میں خواتین کو اس یونین میں ووٹ نہ ڈالنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
اس کے بعد دہائیوں تک یہاں کی خواتین نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، حالانکہ الیکشن کمیشن اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے کئی بار انہیں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی جاتی رہی۔ اس پابندی کے اثرات نے علاقے میں خواتین کی سیاسی شمولیت کو طویل عرصے تک محدود کر دیا تھا۔ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور آئینی ریفرنڈم کے موقع پر جمعرات کی صبح ووٹنگ کے آغاز کے ساتھ ہی یونین بھر کے پولنگ مراکز پر خواتین کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔
خواتین جوش و خروش کے ساتھ ووٹ ڈالنے پہنچیں اور کئی نے زندگی میں پہلی بار یہ حق استعمال کیا۔ ایک 70 سالہ خاتون نے پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ ان کے لیے انتہائی جذباتی اور تاریخی ہے۔ اس پیش رفت کو علاقے میں خواتین کی سیاسی شمولیت کی مضبوط علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، روپشا ساؤتھ میں خواتین کی ووٹنگ نے نہ صرف مقامی انتخابات کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے بلکہ دیگر علاقوں میں خواتین کی سیاسی شرکت کے لیے بھی مثال قائم کی ہے۔ اسی دوران، بنگلادیش کے ڈھاکا-15 حلقے میں امیر جماعتِ اسلامی شفیق الرحمان نے اپنی نشست جیت کر انتخابات میں اپنی پارٹی کی مضبوط پوزیشن ظاہر کی۔ یہ پیش رفت خواتین کے حقوق، سماجی انصاف اور انتخابی نظام میں شمولیت کے حوالے سے اہم سنگِ میل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔