بنگلادیش: عام انتخابات کے دوران تشدد،متعدد زخمی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 12-02-2026
بنگلادیش: عام انتخابات کے دوران تشدد،متعدد زخمی
بنگلادیش: عام انتخابات کے دوران تشدد،متعدد زخمی

 



ڈھاکا: سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی اگست 2024 میں اقتدار سے برطرفی کے بعد بنگلادیش میں آج پہلے عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ ملک کی سیاسی سمت کا تعین کرنے کے لیے 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جن میں تقریباً 44 فیصد نوجوان شامل ہیں، اس لیے اس انتخاب میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن تصور کیا جا رہا ہے۔

ملک بھر کے 299 پارلیمانی حلقوں میں پولنگ پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 6 بجے شروع ہوئی جو سہ پہر ساڑھے 3 بجے تک جاری رہے گی۔ قومی اسمبلی کی 300 نشستوں میں سے حکومت سازی کے لیے کم از کم 151 نشستوں پر کامیابی ضروری ہے۔ ان انتخابات کے ساتھ ایک اہم ریفرنڈم بھی کرایا جا رہا ہے، جسے حکام غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔

اہم مقابلہ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے زیرِ قیادت اتحاد کے درمیان متوقع ہے۔ بی این پی کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں، جبکہ جماعتِ اسلامی نے شفیق الرحمان کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ عوامی لیگ پابندی کے باعث اس انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے رہی۔

دارالحکومت ڈھاکا کے ضلع گوپال گنج میں ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر دستی بم دھماکے میں تین افراد زخمی ہوئے، جس سے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر امن و امان کی صورتِ حال قابو میں ہے۔ الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ ملک بھر میں فوج اور پولیس سمیت تقریباً تین لاکھ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ شفاف اور پُرامن انتخابی عمل یقینی بنایا جا سکے۔

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ امنِ عامہ ان کی اولین ترجیح ہوگی تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور ان کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے انتخابی حمایت پر ممتاز علمائے کرام کا شکریہ بھی ادا کیا۔ دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور کہا کہ یہ انتخابات بنگلادیش کے لیے ایک اہم موڑ ہیں۔

ان کے مطابق عوام کی خواہشات تبدیل ہو رہی ہیں اور ملک کو نئی سمت دینے کا وقت آ چکا ہے۔ انہوں نے نوجوان ووٹرز، خصوصاً جین زی کو حالیہ سیاسی تبدیلی کا ہیرو قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر ووٹ ڈالیں۔ بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے ڈھاکا کے گلشن ماڈل اسکول میں اپنا ووٹ ڈالا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن نئے بنگلادیش کے آغاز کی علامت ہے اور شہریوں کو پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ریفرنڈم میں بھی بھرپور حصہ لینا چاہیے۔ ان کے بقول یہ دن ایک نئی امید اور نئے خواب کی شروعات ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخابی عمل نہ صرف اقتدار کی تبدیلی بلکہ ملک کی آئندہ پالیسیوں اور جمہوری ڈھانچے کے تعین میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔