بنگلادیش : عام انتخابات کی پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 12-02-2026
بنگلادیش : عام انتخابات کی پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری
بنگلادیش : عام انتخابات کی پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری

 



ڈھاکا: بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ حکومت بنانے کے لیے 300 رکنی پارلیمنٹ میں کم از کم 151 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ابتدائی طور پر ٹرن آؤٹ حوصلہ افزا رہا اور تاریخی شرکت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن اختر احمد نے بتایا کہ دوپہر 2 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 47.91 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ معطل نہیں ہوئی۔ اس انتخاب میں پہلی بار ٹیکنالوجی سے معاونت یافتہ پوسٹل بیلٹ سسٹم کے ذریعے بڑے پیمانے پر ووٹنگ کی گئی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 11 لاکھ 28 ہزار 382 پوسٹل بیلٹ موصول ہوئے، جن میں سے 4 لاکھ 88 ہزار 281 بیرون ملک مقیم بنگلادیشیوں نے بھیجے جبکہ 6 لاکھ 37 ہزار 101 بیلٹ مقامی گروپوں کی جانب سے جمع کرائے گئے۔ دوسری جانب دارالحکومت ڈھاکا کے ضلع گوپال گنج میں ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر دستی بم دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہو گئے۔

دھماکے سے پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم ووٹنگ کا عمل متاثر نہیں ہوا۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ملک بھر میں فوج اور پولیس سمیت تقریباً 3 لاکھ سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ سیاسی میدان میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی جانب سے سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان بھی وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔

طارق رحمان نے کہا کہ امن و امان کا قیام ان کی اولین ترجیح ہو گا تاکہ عوام خود کو محفوظ محسوس کریں۔ انہوں نے خواتین کو قومی ترقی کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے ان کے لیے خصوصی پالیسی اقدامات کا عندیہ دیا اور انتخابی حمایت پر ممتاز علمائے کرام کا شکریہ ادا کیا۔ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ یہ انتخابات بنگلادیش کے لیے ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کی خواہشات بدل رہی ہیں اور ملک کو حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نوجوان ووٹرز، خصوصاً جین زی کو حالیہ سیاسی تبدیلیوں کا ہیرو قرار دیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے ڈھاکا کے گلشن ماڈل اسکول میں ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ آج سے ایک نئے بنگلادیش کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ریفرنڈم میں بھی بھرپور شرکت کریں اور اس دن کو قومی تجدید کا دن سمجھ کر منائیں۔ یاد رہے کہ اگست 2024 میں عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا، جس کے بعد سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔

پابندی کے باعث عوامی لیگ کے امیدوار اس انتخاب میں حصہ نہیں لے رہے، جبکہ جین زی پر مشتمل نیشنل سٹیزن پارٹی جماعت اسلامی کے اتحاد کا حصہ ہے۔ اب نظریں ووٹوں کی گنتی اور ابتدائی غیر سرکاری نتائج پر مرکوز ہیں، جو ملک کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔