ڈھاکہ :بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے عبوری حکومت کے قیام کے لیے پارلیمنٹ تحلیل کر دی ہے۔ مسلح افواج کے سربراہان، مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور طلبہ اتحاد ’سٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمینیشن کے ساتھ ملاقات کے بعد صدر نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا ہے۔‘
مزید کہا گیا کہ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی چیئرپرسن خالدہ ضیا کو رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ یکم جولائی سے پانچ اگست تک طلبہ تحریک میں گرفتار افراد کو رہا کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، اور بہت سے لوگوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے خلاف مظاہرے منظّم کرنے والی طلبہ تحریک کا کہنا تھا کہ وہ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت تشکیل دینے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طلبہ تحریک کے رہنما ناہید اسلام نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ عبوری حکومت قائم کی جائے گی جس میں بین الاقوامی شہرت اور نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس چیف ایڈوائزر ہوں گے۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیشی آرمی چیف وقار الزماں آج منگل کو طلبہ رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔84 سالہ ڈاکٹر محمد یونس ماہرِ اقتصادیات ہیں۔ اپنے اہم ’مائیکرو فنانس بینک‘ کے ذریعے لاکھوں افراد کو غربت سے نکالنے کا سہرا ان کے سر ہے۔انہوں نے مائیکرو فنانس بینک کے ذریعے لاکھوں غریب افراد کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے چھوٹے اور طویل مدتی قرضے دیے۔