ڈھاکا: بنگلادیش میں 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے حکام نے ملک بھر کے 24 ہزار پولنگ اسٹیشنز کو ہائی اور میڈیم رسک قرار دے دیا ہے، جبکہ انتخابی مہم کا دورانیہ ختم ہو چکا ہے۔ انسپیکٹر جنرل پولیس (آئی جی) نے بتایا کہ ملک بھر میں 8 ہزار 770 پولنگ سینٹرز ہائی رسک اور 16 ہزار میڈیم رسک قرار دیے گئے ہیں۔ ہائی رسک مراکز پر پولیس اہلکار باڈی کیمروں کے ساتھ تعینات ہوں گے۔
ہر پولنگ اسٹیشن کے لیے 3 درجاتی سیکیورٹی پلان تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت پولنگ اسٹیشن کے اندر پولیس اور باہر موبائل پیٹرول ٹیمیں موجود رہیں گی۔ آئی جی کے مطابق 80 سے 90 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب بھی مکمل ہو چکی ہے۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق انتخابی مہم مکمل ہونے کے بعد اب کوئی سیاسی جماعت یا امیدوار انتخابی سرگرمی نہیں کر سکتا۔
پولنگ صبح ساڑھے 7 بجے سے شام ساڑھے 4 بجے تک جاری رہے گی۔ حکام کے مطابق ملک میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ 11 ہزار 793 ہے، جن میں مرد ووٹرز 6 کروڑ 48 لاکھ 80 ہزار اور خواتین ووٹرز 6 کروڑ 28 لاکھ سے زائد ہیں۔ ان میں سے 45 لاکھ 70 ہزار ووٹر پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔
عام انتخابات میں کل 2 ہزار 34 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 51 سیاسی جماعتوں کے 1 ہزار 759 امیدوار اور 275 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ پوسٹل بیلٹس کے ذریعے تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار ووٹ کاسٹ کیے جائیں گے۔ قومی اسمبلی کے ووٹ کے لیے سفید بیلٹ اور ریفرنڈم کے لیے گلابی بیلٹ استعمال ہوں گے۔ ملک بھر میں 42 ہزار 768 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔
انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے لیے فوج، پولیس اور دیگر اداروں کے 10 لاکھ اہلکار تعینات ہوں گے تاکہ پولنگ عملے اور ووٹرز کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ بنگلادیش میں 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم مکمل ہو چکی ہے، اور اب کوئی سیاسی جماعت یا امیدوار کسی بھی انتخابی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتا۔ پولنگ صبح ساڑھے 7 بجے سے شام ساڑھے 4 بجے تک جاری رہے گی۔
انتخابی مہم کے دوران بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP)، جماعتِ اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) سمیت بڑی سیاسی جماعتوں نے دارالحکومت ڈھاکا، چٹاگانگ، سلہٹ اور دیگر شہروں میں بڑی ریلیاں نکالیں۔ جماعت اسلامی نے انتخابات میں ہندو امیدوار کو بھی ٹکٹ جاری کیا۔ بنگلادیشی حکام کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ 11 ہزار 793 ہے، جن میں مرد ووٹرز 6 کروڑ 48 لاکھ 80 ہزار اور خواتین ووٹرز 6 کروڑ 28 لاکھ سے زائد ہیں۔
ان میں سے 45 لاکھ 70 ہزار افراد پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔ عام انتخابات میں کل 2 ہزار 34 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 51 سیاسی جماعتوں کے 1 ہزار 759 امیدوار اور 275 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ پوسٹل بیلٹس کے ذریعے تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار ووٹ ڈالے جائیں گے۔
قومی اسمبلی کے لیے سفید بیلٹ اور ریفرنڈم کے لیے گلابی بیلٹ استعمال ہوگی۔ ملک بھر میں 42 ہزار 768 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے لیے فوج، پولیس اور دیگر اداروں کے مجموعی طور پر 10 لاکھ اہلکار تعینات ہوں گے تاکہ ووٹرز اور پولنگ عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔