جنیو:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی این جی اوز پر پابندی لگانے کے اسرائیلی فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی امدادی اداروں کی سرگرمیوں پر قدغن لگانا پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید گہرا کر دے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے حال ہی میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والی متعدد بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر عالمی سطح پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ امدادی اداروں کے مطابق ان پابندیوں سے خوراک، ادویات اور بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب غزہ پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال پر پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے مشترکہ طور پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ غزہ پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
مشترکہ بیان میں غزہ کے بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی فوری بحالی، نیز رفح کراسنگ کھولنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں اور طوفانوں نے غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ شدید موسم نے غزہ پٹی کی نازک صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں سرد موسم میں زیرِ آب آنے والے خیمے، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت نے انسانی جانوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
پس منظر کے طور پر یاد رہے کہ غزہ پہلے ہی طویل محاصرے، محدود وسائل اور مسلسل کشیدگی کے باعث ایک شدید انسانی بحران کا شکار ہے، جس میں حالیہ موسمی حالات اور امدادی پابندیاں حالات کو مزید ابتر بنا رہی ہیں۔