تہران: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو ایرانی قوم کے خلاف کھلی جنگ تصور کیا جائے گا، جس کے نتائج مکمل جنگ کی صورت میں نکلیں گے۔
اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی عوام کو درپیش معاشی مشکلات کی اصل وجہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کی گئی غیر انسانی پابندیاں ہیں۔ ان کے مطابق ان پابندیوں نے عام ایرانی شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ سپریم لیڈر کے خلاف کسی بھی حملے کا مطلب صرف ایک فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پوری ایرانی قوم پر حملہ ہوگا، جس کا ایران بھرپور جواب دے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ "ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آ گیا ہے"۔ ٹرمپ کا یہ مؤقف ایران میں حکومت کی تبدیلی کے حامی حلقوں کے بیانات سے ہم آہنگ سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا بیان اس پس منظر میں آیا ہے کہ ایران میں حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے ملک گیر احتجاج حالیہ دنوں میں کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ ایرانی حکومت مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ملک کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔ اس سے قبل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران میں ہونے والی ہلاکتوں اور بدامنی کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا تھا۔
ان الزامات کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے حکمران اقتدار برقرار رکھنے کے لیے جبر اور تشدد پر انحصار کرتے ہیں، جس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ قیادت کا اصل مطلب عوام کا احترام ہے، خوف اور موت نہیں۔ ان کے مطابق حکمرانوں کو اقتدار بچانے کے لیے ہزاروں افراد کو قتل کرنے کے بجائے ملک کو بہتر انداز میں چلانے پر توجہ دینی چاہیے۔
امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے کسی نے انہیں قائل نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اس فیصلے پر غور کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا۔ ٹرمپ کے مطابق ناقص قیادت کے باعث ایران دنیا میں رہنے کے لیے بدترین مقامات میں شامل ہو چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی بیانات خطے میں کشیدگی مزید بڑھا سکتے ہیں، جب کہ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔