نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ فرکا (گنگا) آبی معاہدے کے حوالے سے مرکزی حکومت بہار کی پینے کے پانی اور صنعتی پانی کی ضروریات سمیت دیگر تشویشات سے واقف ہے اور ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’مناسب فیصلہ‘‘ کرے گی۔ جے شنکر نے جنتا دل (یونائیٹڈ) کے کارگزار صدر اور راجیہ سبھا رکن سنجے جھا کو لکھے خط میں یہ بات کہی۔
جھا نے گزشتہ مانسون اجلاس کے دوران 6 اگست کو راجیہ سبھا میں فرکا آبی معاہدے کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی تھی کہ معاہدے کی تجدید کے دوران بہار کے آبی مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ 28 اگست کی تاریخ والے خط میں وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت گنگا آبی معاہدے سے متعلق جھا کی تشویشات کو پوری طرح سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ جل شکتی کی قیادت میں مختلف متعلقہ فریقوں کی شرکت کے ساتھ بین الوزارتی بات چیت ہوئی ہے، تاکہ معاہدے کے نفاذ اور اس کے مستقبل پر جامع طور پر غور کیا جاسکے۔ جے شنکر نے کہا، ’’بہار حکومت کے ایک مجاز نمائندے نے 22 اگست 2023، 30 اکتوبر 2023، 15 مارچ 2024 اور 31 مئی 2024 کو ہونے والی ان بات چیت میں شرکت کی تھی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ان اجلاسوں کے دوران بہار کی پینے کے پانی اور صنعتی پانی کی ضروریات سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے خیالات اور ضروریات پر مناسب طور پر غور کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہا، ’’حکومت ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کرے گی۔‘‘
جے شنکر نے اپنے خط میں امید ظاہر کی کہ مذکورہ معلومات سے جھا کی تشویشات کا خاطر خواہ ازالہ ہوگیا ہوگا۔ جھا نے جے شنکر کے خط کو ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے مثبت جواب کے لیے وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ’’بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ہدایت پر بہار حکومت کے محکمہ آبی وسائل کے نمائندے نے، جب وہ (جھا) آبی وسائل کے وزیر تھے، 22 اگست 2023 اور 30 اکتوبر 2023 کو، اور بعد میں 15 مارچ 2024 اور 31 مئی 2024 کو مرکزی وزارتِ جل شکتی کی جانب سے منعقدہ بات چیت میں شرکت کی تھی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان اجلاسوں میں بہار کی پینے کے پانی، زراعت اور صنعتی پانی کی ضروریات پر مناسب طور پر غور کیا گیا تھا۔
جھا نے کہا، ’’مرکزی حکومت کی جانب سے بہار کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی فیصلے کیے جانے کی واضح یقین دہانی کے لیے ہم تمام بہاری دل سے شکر گزار ہیں۔‘‘ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گنگا کے پانی کی تقسیم سے متعلق فرکا معاہدہ 1996 میں 30 سال کی مدت کے لیے ہوا تھا، جس کی مدت دسمبر 2026 میں ختم ہو رہی ہے۔ بہار کا مؤقف ہے کہ فرکا بیراج کی وجہ سے گنگا میں بڑی مقدار میں گاد جمع ہوگئی ہے، جس سے دریا کی تہہ بلند ہوگئی ہے۔
اس کے نتیجے میں مانسون کے دوران ریاست میں شدید سیلاب اور کٹاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بیراج کے اثرات کی وجہ سے گرمیوں کے مہینوں میں پانی کی سطح بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے ریاست کے کئی علاقوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔