مودی سے اپیل کے بعد -- پاکستانی دلہن کا ہندوستان آنے کا ہوا راستہ ہموار

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | Date 18-03-2023
مودی سے اپیل کے بعد -- پاکستانی دلہن کا ہندوستان آنے کا ہوا راستہ ہموار
مودی سے اپیل کے بعد -- پاکستانی دلہن کا ہندوستان آنے کا ہوا راستہ ہموار

 

آواز دی وائس /نئی دہلی

وزیر اعظم نریندر مودی کی مداخلت کے بعد ایک پاکستانی لڑکی کا گھر ہندوستان میں بسنے والا ہے ، جس کی سات سال قبل ایک ہندوستانی نوجوان سے منگنی ہوئی تھی مگر ویزا کے مسئلے کے سبب اب تک شادی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی تھی-اب یہ دوری اور تڑپ کا خاتمہ ہونے والا ہے  دراصل پاکستانی لڑکی، ہندوستانی نوجوان سے شادی کرنے آئندہ ماہ  ہندوستان کے پنجاب کے شہر بٹالہ  آجائے گی،-

لاہور کی رہائشی شہنیلا جاوید کی سال 2016 میں اپنے رشتہ دار نمن لوتھرا سے منگنی ہوئی تھی جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں تاہم  شہنیلا جاوید کو ویزا نہ ملنے کی وجہ سے گزشتہ7 سال سے دونوں کی شادی التوا کا شکار تھی۔

پاکستانی اخبار 'ایکسپریس ٹربیون ' کے مطابق شہنیلا جاوید اپنی منگنی کے بعد 2018 میں ایک بار ہندوستان جاچکی ہیں تاہم اس کے بعد انہوں نے متعدد بار ہندوستان کے لیے ویزا اپلائی کیا مگر ان کی درخواست مسترد کردی گئی۔

نمن لوتھرا نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ شہنیلا ان کی رشتہ دار ہیں، 1947 میں شہنیلا جاوید کے نانا سمیت خاندان کے دیگر لوگ پاکستان سے ہندوستان آگئے تھے مگر شہنیلا کا خاندان پاکستان میں ہی مقیم رہا اور انہوں نے عیسائی مذہب اختیار کرلیا تاہم دونوں خاندانوں میں رابطہ رہا۔

نمن لوتھرا کے مطابق سال 2016 میں ان کی منگنی ہوئی، وہ شادی کے لیے بارات لیکر پاکستان آنا چاہتے تھے لیکن شہنیلا کو ہندوستان کا ویزا نہیں مل رہا تھا۔ انہوں نے چند ہفتے پہلے ہندوستان کے وزیر اعظم سے اپیل کی تھی کہ ان کی منگیتر اورخاندان کے دیگرلوگوں کو ویزے دیے جائیں تاکہ وہ شہنیلا سے شادی کرسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ بالاخر ان کی منگیتر کو ویزا مل گیا اور اب وہ اپریل میں بٹالہ آئیں گی جہاں دونوں شادی کریں گے۔ نمن نے مزید بتایا کہ وہ اپنی منگیتر سے ایک بار کرتارپور راہداری کے راستے گوردوارہ دربارصاحب کرتارپور میں ملاقات کرچکے ہیں۔

ادھرلاہور میں مقیم شہنیلا جاوید اور ان کے خاندان اس بارے مزید بات کرنے سے معذرت کی ہے اور کہا کہ وہ لوگ ابھی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہیں اوراپنی بیٹی کو دلہن بنا کر واہگہ بارڈر کے راستے رخصت کریں گے۔

واضع رہے کہ ہند پاک کے مابین کشیدہ تعلقات کی وجہ سے کئی ایسے خاندانون کو ویزوں کے حصول اور ایک،دوسرے ملک میں آنے جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کی شادیاں ایک دوسرے ملک میں ہوئی ہیں۔

جبکہ کئی جوڑے ایسے بھی ہیں جن کی آپس میں اس وجہ سے شادی نہیں ہوسکی کہ دونوں ،ایک دوسرے کے دشمن ملک سے ہیں۔ گزشتہ ماہ حیدر آباد کی رہائشی ایک لڑکی کو ہندوستانی حکام نے واہگہ بارڈر کے راستے واپس پاکستان بھیجا تھا جو ایک ہندوستانی  نوجوان کی محبت میں غیرقانونی طریقے سے بنگلورپہنچی اور وہاں ایک نوجوان سے شادی کی تھی۔