مکہ مکرمہ:مسجدِ نمرہ میں خطبۂ حج دیتے ہوئے مسجد نبوی کے امام شیخ عبدالرحمان الحذیفی نے کہا کہ ربِ کائنات کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ تقویٰ اختیار کرو اور صرف اللہ سے ڈرو۔منگل کے روز مسجدِ نمرہ میں خطبہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے شمار اجر عطا کیا جاتا ہے۔امام عبدالرحمان الحذیفی نے کہا کہ حجاج کرام دور دراز علاقوں سے سفر کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اجر و ثواب سمیٹنے کے لیے یہاں پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے ابراہیمؑ کو کہا حج کے لیے منادی کریں اور اللہ تعالیٰ دور دراز تک یہ آواز پہنچائیں گے۔ دورانہوں نے مزید کہا کہ قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے جبکہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔شیخ کا مزید کہنا تھا جو اللہ سے ڈرتا ہے، اُس کے لیے اللہ نے دُہری جنت رکھی ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ دراز سے لوگ حج کے لیے آئے ہیں تاکہ دنیا و اخرت میں وہ کامیاب ہوں۔ یہاں جھگڑا نہیں کرنا اور گناہ نہیں کرنا اور تمام چیزیں جن کا وعدہ اللہ نے کیا اُنہیں پورا کیا جائے۔ اور جو بھی شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے یہ تقویٰ کی نشانی ہے۔
Hajj Khutbah 1447
— Motivation with Faith (@MWFaithOfficial) May 26, 2026
In the blessed plain of Arafah, Sheikh Ali Al-Hudhaify delivers the sacred words.
Hearts gathered from every corner of the world, beating as one. May this Khutbah bring guidance, unity, and mercy to the Ummah. pic.twitter.com/kmdZAFoqve
ڈاکٹر شیخ علی الحذیفی نے کہا کہ ہمیشہ سچ بولیں اور غلط بیانی سے گریز کریں، بدعت اور غیبت سے دور رہو، حجاج عرفات سے فارغ ہونے کے بعد منیٰ تشریف لے جائیں گے، حجاج کرام مناسک بہترین انداز میں ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ حجاج کرام ہر لمحہ مغفرت کی دعا کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عبادات میں مصروف رہیں، نماز قائم کریں، اللہ تعالیٰ ہی دعائیں قبول کرنے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے مختلف رنگوں کے لوگ یہاں آئے ہیں جو اللہ کی طرف سے ایک بڑا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں حاجیوں پر فخر کر رہا ہے جو آج جمع ہوئے اور عبادات کیں۔
In just a few minutes...
— Motivation with Faith (@MWFaithOfficial) May 26, 2026
Sheikh Ali Al-Hudhaify will deliver the Hajj Khutbah.
Get ready, the words of guidance are coming.
May Allah accept it from him and benefit the entire Ummah. pic.twitter.com/j23DVXFvfr
انہوں نے خطبۂ حج میں مزید کہا کہ آخرت کی تیاری کا سب سے عظیم ذریعہ توحید ہے۔ صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارا جائے۔میدانِ عرفات میں طلوعِ آفتاب سے ہی لاکھوں فرزندانِ توحید موجود ہیں۔ عازمین حج کی زبانوں پر لبیک کی صدائیں اور تسبیح و تمجید جاری ہے جبکہ ہاتھ دعاؤں کے لیے بلند ہیں۔ یومِ عرفہ کے موقع پر حج کے اس اہم ترین رکن کی ادائیگی کے دوران بے شمار آنکھیں اشکبار دکھائی دیں۔
امام و خطیب مسجد نبوی نے کہا کہ جب عازمینِ حج مناسک ادا کرتے ہیں تو زبان، رنگ اور وطن کے فرق کے باوجود ان کے درمیان محبت، اخوت اور بھائی چارے کا بے مثال منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج کے دوران باہمی تعارف، ہم آہنگی، تعاون اور اتحاد کی روشن مثالیں سامنے آتی ہیں۔
شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن الحذیفی نے حجاج کرام کو نصیحت کی کہ وہ ہر حال میں سکون اور اطمینان برقرار رکھیں، نرمی اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کریں اور متعلقہ اداروں کی ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور مناسکِ حج کی ادائیگی آسان ہو۔
خطبۂ حج میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم کرنے کا ایک اہم ذریعہ دعا ہے، خصوصاً حج کے مقدس مقامات پر دعا کی قبولیت کی امید زیادہ ہوتی ہے، اس لیے حجاج کو چاہیے کہ وہ کثرت سے دعاؤں کا اہتمام کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حج میں جھگڑے، اختلافات یا سیاسی نعروں کی کوئی گنجائش نہیں۔ حج دراصل اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اختیار کرنے، سنتِ نبوی کی پیروی کرنے، پاکیزگی اپنانے، وعدوں کی پاسداری کرنے اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے کا نام ہے۔
شیخ عبدالرحمٰن الحذیفی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے حالات بہتر فرمائے، انہیں حق پر متحد کرے اور ان کے دینی و دنیاوی معاملات سنوار دے۔ انہوں نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے بھی دعائے خیر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا و آخرت میں بہترین اجر عطا فرمائے کیونکہ انہوں نے عازمینِ حج کی خدمت اور حرمین شریفین کے انتظامات میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔
لبيك اللهم لبيك!
— Haramain Archive (@muslimmakkah) May 26, 2026
In a majestic scene, the Hajj pilgrims on Jabal Al Rahma in Arafat.#Hajj #Hajj2026 #يوم_عرفة pic.twitter.com/xT5TpbYP9r
علمائے کرام کے مطابق یومِ عرفہ اسلامی کیلنڈر کے مقدس ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے رحمت مغفرت اور روحانی تجدید کا دن قرار دیا جاتا ہے۔یہ دن نبی اکرم ﷺ کے حجۃ الوداع سے بھی منسلک ہے جب آپ ﷺ نے جبلِ عرفات پر اپنا آخری تاریخی خطبہ دیا تھا جس میں انصاف مساوات اور انسانی جان و مال کے احترام کے اصول بیان فرمائے گئے تھے۔
حجاج کرام پورا دن میدان عرفات میں عبادت اور دعاؤں میں گزاریں گے۔ جبل الرحمہ اور اس کے اطراف میں صبح سویرے ہی حجاج کی بڑی تعداد پہنچ چکی تھی۔وقوفِ عرفہ کی ادائیگی کے لیے وادی منیٰ سے حجاج کو قافلوں کی صورت میں لانے کا عمل 8 ذوالحجہ یوم الترویہ کی رات سے ہی شروع ہوگیا تھا۔
حجاج کی میدان عرفات آمد کئی مراحل میں مکمل ہوئی۔ مشاعر ٹرین کے علاوہ بسوں کے ذریعے بھی لاکھوں عازمین کو عرفات پہنچایا گیا۔غروبِ آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ مغرب اور عشا کی نمازیں جمع اور قصر کے ساتھ ادا کریں گے۔ اس کے بعد رمی جمرات کے لیے کنکریاں جمع کی جائیں گی اور پھر فجر کے وقت وادی منیٰ واپسی ہوگی۔
میدانِ عرفات میں انتظامیہ کی جانب سے مثالی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ازدحام کو قابو میں رکھنے کے لیے مسجدِ نمرہ اور جبل الرحمہ جانے اور آنے والے راستوں کو الگ رکھا گیا تاکہ حجاج آسانی اور اطمینان کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔
ٹریفک پولیس بھی مختلف شاہراہوں پر مکمل طور پر متحرک رہی اور ٹریفک کی روانی کو منظم انداز میں برقرار رکھا گیا۔حجاج کی رہنمائی کے لیے سکیورٹی اہلکار ہلال الاحمر کے یونٹس اور سکاؤٹس مختلف مقامات پر موجود رہے جبکہ فلاحی تنظیموں کے رضاکار بھی خدمتِ حجاج میں پیش پیش دکھائی دیے۔شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے جبل الرحمہ کے اطراف جدید زمینی ایئرکنڈیشن یونٹس نصب کیے گئے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تپتی دوپہر میں بھی حجاج کو نسبتاً خوشگوار ماحول فراہم کیا گیا۔