آواز دی وائس : نئی دہلی
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینٹر فار انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ نے خواتین کو بااختیار بنانے کے مقصد سے ایک اہم ہنر پر مبنی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ یہ پروگرام وزارتِ اقلیتی امور حکومتِ ہندوستان کی جانب سے چلائی جانے والی پردھان منتری وراست کا سمواردھن اسکیم کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو قیادت اور کاروباری صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ معاشی طور پر خود مختار بن سکیں۔
اس پروگرام کے تحت لیڈرشپ اینڈ بیسک انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ کے عنوان سے 15 دن کا مختصر کورس پیش کیا جا رہا ہے جس کی مدت 60 گھنٹے رکھی گئی ہے۔ اس کورس میں داخلہ لینے والی خواتین کو نہ صرف عملی تربیت دی جائے گی بلکہ انہیں وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گا۔ یہ کورس مکمل طور پر مفت ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خواتین کو اس سے فائدہ پہنچانا ہے۔

تین اہم کورسیز
اس اسکیم کے تحت تین اہم کورسز پیش کیے جا رہے ہیں جن میں لیڈرشپ اینڈ بیسک انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ، انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام اور بزنس مینٹورشپ اینڈ کوریسپونڈنٹ ٹریننگ شامل ہیں۔
پہلے لیڈرشپ اینڈ بیسک انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ کورس کی مدت 60 سے 80 گھنٹے رکھی گئی ہے۔ اس کورس کا مقصد خواتین میں قیادت کی صلاحیت، خود اعتمادی اور مواقع کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اس میں شخصیت سازی، خواتین کو بااختیار بنانے، صنفی حساسیت، مالی شمولیت، ڈیجیٹل تعلیم، قانونی حقوق، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور زندگی کی مہارتوں جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شرکاء کو سرکاری اداروں، بینکوں اور دیگر تنظیموں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی تربیت بھی دی جائے گی تاکہ وہ انفرادی یا اجتماعی کاروبار شروع کر سکیں۔
دوسرے انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام کی مدت 120 گھنٹے ہے۔ یہ کورس ان خواتین کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اپنا کاروبار شروع کرنے کی صلاحیت اور خواہش رکھتی ہیں۔ اس میں کاروباری منصوبہ بندی، ادارہ قائم کرنے کے مراحل، مارکیٹنگ، مالیاتی انتظام، قانونی تقاضے اور پائیداری جیسے اہم پہلوؤں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی جائے گی تاکہ خواتین خود روزگار کی طرف بڑھ سکیں۔
تیسرے کورس بزنس مینٹورشپ اینڈ کوریسپونڈنٹ ٹریننگ ہے جس کی مدت 240 گھنٹے ہے۔ یہ ایک اعلیٰ سطح کا تربیتی پروگرام ہے جس میں منتخب خواتین کو بزنس مینٹور اور رہنما کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ یہ خواتین دیگر کاروباری خواتین کی رہنمائی کریں گی، انہیں کاروبار قائم کرنے، وسعت دینے اور مالی وسائل تک رسائی میں مدد فراہم کریں گی۔ اس کے ساتھ ہی انہیں اپنی ذاتی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی بھی ترغیب دی جائے گی تاکہ وہ اپنے معاشرے میں ایک مثالی کردار ادا کر سکیں
داخلے کے لیے شرائط
داخلے کے لیے مخصوص شرائط بھی رکھی گئی ہیں۔ اس پروگرام میں صرف اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والی وہ خواتین درخواست دے سکتی ہیں جو اسکول یا کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ غیر اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والی معاشی طور پر کمزور اور خصوصی ضرورتوں کی حامل خواتین بھی اس پروگرام کے لیے اہل ہوں گی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے اس پروگرام کے لیے رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور محدود نشستوں کی بنیاد پر داخلے دیے جائیں گے۔ خواہش مند امیدواروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
مزید معلومات کے لیے امیدوار سینٹر فار انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے [email protected] پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ یہ پہل جامعہ کی جانب سے جدت، کاروباری صلاحیت اور ڈیجیٹل ترقی کے فروغ کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ اقدام نہ صرف خواتین کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش ہے بلکہ انہیں خود روزگار کے قابل بنانے کی سمت ایک اہم قدم بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے پروگرام معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے اور خواتین کی شرکت کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔