مستری بانو کی جدوجہد سپریم کورٹ سے ووٹ کے حق کی جیت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 21-04-2026
مستری بانو کی جدوجہد سپریم کورٹ سے ووٹ کے حق کی جیت
مستری بانو کی جدوجہد سپریم کورٹ سے ووٹ کے حق کی جیت

 



 شمپی چکرورتی پورکایست

مرشد آباد کی ایک عام گھریلو خاتون مستری بانو کا سفر اب ایک علامت بن چکا ہے جہاں ایک عام شہری اپنی آواز لے کر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت تک پہنچتا ہے۔ ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیفائیڈ ریویژن یعنی SIR کے دوران بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج اور پیچیدگیوں نے ہزاروں افراد کو متاثر کیا اور اسی پس منظر میں مستری بانو نے سب سے پہلے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اس معاملے کو سپریم کورٹ آف انڈیا تک پہنچایا۔

حالیہ عدالتی کارروائیوں اور فیصلوں نے اس مسئلے کو قومی سطح پر بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 142 کا استعمال کرتے ہوئے ایک اہم ہدایت جاری کی جس کے تحت ایسے افراد جن کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے تھے لیکن اپیل میں انہیں ریلیف مل گیا وہ ضمنی نظرثانی شدہ فہرست کے ذریعے ووٹ ڈال سکیں گے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت دی کہ وہ مقررہ تاریخ تک تمام اپیلوں کے فیصلوں کو نافذ کرے اور نئی ضمنی ووٹر لسٹ جاری کرے تاکہ کسی بھی اہل شہری کو محض طریقہ کار کی وجہ سے حق رائے دہی سے محروم نہ کیا  

تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جن افراد کی اپیلیں ابھی زیر التوا ہیں انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ انتخابی عمل میں یقینی پن بھی ضروری ہے

اسی معاملے پر سپریم کورٹ نے یہ اہم اصول بھی دہرایا کہ ہندوستان میں پیدا ہونے والے ہر شخص کو ووٹر لسٹ میں شامل رہنے اور ووٹ دینے کا حق حاصل ہے اور بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج سے جمہوری عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ 

مغربی بنگال میں اس نظرثانی کے دوران لاکھوں افراد کے نام فہرست سے ہٹائے جانے کے دعوے سامنے آئے جس پر سیاسی سطح پر بھی شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔ بعض رہنماؤں نے اسے ووٹروں کے حقوق پر ضرب قرار دیا جبکہ سپریم کورٹ کی مداخلت کو بڑی راحت بتایا گیا کیونکہ اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو دوبارہ ووٹ دینے کا موقع ملا۔ 

مستری بانو نے اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی صرف ان کی ذاتی نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کی ہے جو خاموشی سے اپنے حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عام لوگ ہمت کریں تو آئینی اور قانونی راستوں کے ذریعے انصاف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دہلی میں طویل سماعتوں کے دوران ان کی موجودگی اور مستقل جدوجہد اس بات کی مثال بن گئی کہ ایک فرد بھی بڑے نظام کو چیلنج کر سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس جدوجہد میں انہیں سیاسی اور تنظیمی سطح پر حمایت حاصل رہی خاص طور پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کی جانب سے تاہم اس کیس کی اصل بنیاد ایک عام شہری کی پہل تھی جس نے اسے عدالت عظمیٰ تک پہنچایا۔یہ قانونی جنگ نہ صرف حق رائے دہی کے تحفظ کی ایک اہم مثال بن چکی ہے بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ جمہوریت میں ایک عام انسان کی آواز اگر مضبوط ارادے کے ساتھ اٹھے تو وہ نہ صرف سنی جا سکتی ہے بلکہ پورے انتخابی نظام پر اثر انداز بھی ہو سکتی ہے۔