نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کی ایک باہمت اور محنتی لڑکی نبیہ پرویز نے یونین پبلک سروس کمیشن کے سول سروسز امتحان میں 29ویں رینک حاصل کر کے نہ صرف اپنے والدین بلکہ پورے علاقے اور شہر کا نام روشن کر دیا ہے۔ ستائیس برس کی اس نوجوان طالبہ کی کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ محنت۔ حوصلہ اورمسلسل جدوجہد انسان کو منزل تک ضرور پہنچاتی ہے۔

یاد رہے کہ سرکاری بیان کے مطابق اس سال مجموعی طور پر 958 امیدواروں کو ملک کی اعلیٰ سول سروسز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس۔ انڈین فارن سروس۔ اور انڈین پولیس سروس کے علاوہ مرکزی حکومت کی مختلف گروپ اے اور گروپ بی خدمات شامل ہیں۔کامیاب امیدواروں میں نبیہ پرویز بھی شامل ہیں جنہوں نے یو پی ایس سی سی ایس ای 2025 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آل انڈیا رینک 29 حاصل کی۔ ان کا تعلق اتر پردیش کے ضلع بلند شہر کے گاؤں درییا پور جکا سے ہے۔نبیہ پرویز نے نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بیچلر آف آرکیٹیکچر کی تعلیم حاصل کی۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی رہائشی کوچنگ اکیڈمی کی بھی طالبہ رہ چکی ہیں جہاں سول سروسز امتحان کی تیاری کرنے والے امیدواروں کو رہنمائی فراہم کی جاتی ہے
خوشی اور جشن
نبیہ پرویز کی کامیابی کی خبر آتے ہی ان کے منٹو روڈ پر واقع گھر پر مبارکباد دینے والوں کا تانتا لگ گیا۔ اہل علاقہ۔ رشتہ دار اور معزز شخصیات انہیں گلدستے پیش کر کے مبارکباد دی۔
تعلیمی سفر
نبیہ پرویز نے بتایا کہ ان کی ابتدائی تعلیم دہلی کے گول مارکیٹ علاقے سے ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے بی ایس سی کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں ان کا خواب ڈاکٹر بننے کا تھا اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے میڈیکل کے امتحان کی تیاری بھی کی۔ تاہم بعد میں انہیں احساس ہوا کہ ان کی اصل دلچسپی سماج کے لیے بڑے پیمانے پر کام کرنے میں ہے۔ اسی سوچ نے انہیں سول سروسز کی طرف متوجہ کیا۔
ایک دو نہیں ، چھٹی کوشش
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 2019 اور 2020 کے آس پاس سول سروسز کی تیاری کا فیصلہ کیا۔ یہ سفر آسان نہیں تھا کیونکہ اس امتحان میں کامیابی کے لیے طویل محنت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبیہ نے چھ مرتبہ کوشش کی اور ہر بار ناکامی کو شکست نہیں بلکہ سیکھنے کا موقع سمجھا۔ بالآخر چھٹے امتحان میں انہوں نے آل انڈیا رینک 29 حاصل کر کے کامیابی کا پرچم بلند کیا۔

والدین کا ہاتھ
نبیہ پرویز کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی میں ان کے والدین اور خاندان کا کردار بہت اہم رہا۔ ان کے مطابق سول سروسز کی تیاری ایک لمبا اور مشکل سفر ہوتا ہے جس میں ذہنی مضبوطی بہت ضروری ہے۔ انہیں یہ طاقت اپنے خاندان کی حمایت اور دعاؤں سے ملی۔انہوں نے خاص طور پر لڑکیوں اور والدین کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بچوں اور والدین کے درمیان بات چیت بہت ضروری ہے۔ بچوں کو اپنے خواب اور ارادے کھل کر والدین کے سامنے رکھنے چاہئیں اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں بلکہ ہر میدان میں ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
تعلیم لا سکتی ہے انقلاب
نبیہ پرویز نے کہا کہ تعلیم ایک طاقتور ذریعہ ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو یکساں طور پر تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کے مطابق بہت سے علاقوں میں اب بھی لڑکیوں کی تعلیم کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا جو کہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔
.webp)
اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے نبیہ پرویز نے کہا کہ والدین کی خدمت ان کے لیے ایک ذاتی ذمہ داری ہے جبکہ ملک کی خدمت ان کا پیشہ ورانہ مقصد ہے۔ ان کا خواب ہے کہ وہ سول سروسز کے ذریعے معاشرے کے لیے مؤثر اور مثبت کام کریں اور لوگوں کی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش کریں۔نبیہ پرویز کی کامیابی ہزاروں نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کے لیے امید اور حوصلے کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کی کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو اور خاندان کی حمایت حاصل ہو تو کوئی بھی خواب حقیقت بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ یو پی ایس سی سول سروسز امتحان تین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ ابتدائی امتحان۔ مرکزی امتحان۔ اور انٹرویو یعنی شخصیت کا امتحان۔ سال 2025 کا ابتدائی امتحان 25 مئی کو منعقد ہوا جبکہ مرکزی امتحان 22 اگست سے 31 اگست تک لیا گیا۔انٹرویو کا مرحلہ دو حصوں میں دسمبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان مکمل ہوا جبکہ حتمی میرٹ فہرست 6 مارچ 2026 کو جاری کی گئی