سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے، اصل طاقت اس کے صحیح استعمال میں ہے - ڈاکٹر آمنہ مرزا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 08-02-2026
دین اور دنیا : سوشل میڈیا دو دھاری تلوار ہے۔ اس سے فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی پروفیسر آمنہ مرزا
دین اور دنیا : سوشل میڈیا دو دھاری تلوار ہے۔ اس سے فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی پروفیسر آمنہ مرزا

 



آواز دی وائس :نئی دہلی 
تبدیلی زندگی کا اصول ہے اور میڈیا بھی اسی تبدیلی کا حصہ ہے۔ پہلے اخبار تھے آج ایپس ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا بھی وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے قرآن کی سورہ الرعد آیت گیارہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود کو نہ بدلے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں ہمیں بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی اور خود کو بہتر بنانا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر آمنہ مرزا نے کیا ۔ 
پروفیسر ڈاکٹر آمنہ مرزا ،آواز دی وائس کے پوڈکاسٹ دین اور دنیا میں اپنے خیالات کا اظہار کررہی تھیں ۔پروگرام کے میزبان  ثاقب سلیم کے ساتھ  اس پوڈکاسٹ میں جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے سماج  پر اثرات  اور اس میں خواتین کا کردار پر بات چیت کی گئی 
گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا گیا کہ سوشل میڈیا ایک نئی چیز ہے۔ یہ پچھلے دس بیس برسوں میں متعارف ہوا اور پوری دنیا میں پھیل گیا۔ یہ ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ کچھ لوگ اسے بہت برا کہتے ہیں اور کچھ اسے ضروری سمجھتے ہیں۔ کئی جگہوں سے فتوے بھی آتے ہیں کہ لڑکیوں کو موبائل اور سوشل میڈیا سے دور رکھا جائے۔
ڈاکٹر آمنہ مرزا نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی فطرت کا قانون ہے۔ تبدیلی زندگی کی حقیقت ہے۔ پہلے اخبار تھے اور اب وہ ایک ایپ تک محدود ہو گئے ہیں۔ اسی طرح میڈیا میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ عام انسان اس تبدیلی کے ساتھ خود کو کیسے ہم آہنگ کرے۔ یہاں ذاتی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ قرآن میں بھی یہی رہنمائی ملتی ہے کہ انسان کو خود اپنی حالت بہتر کرنی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے زندگی کو بدل دیا ہے۔ اس کا اثر ہمارے سوچنے کے انداز اور سماجی روابط پر پڑا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کو اچھے مقصد کے لیے استعمال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ ہم کیا اچھا کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ صرف ہماری رائے درست ہے۔ ہر انسان اللہ کے قریب ہے۔
ڈاکٹر آمنہ مرزا نے کہا کہ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اس سے فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی۔ آج بہت سی خواتین گھر بیٹھے تعلیم کاروبار فیشن اور ہنر کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہیں۔ کم خرچ میں اپنا پلیٹ فارم بنا رہی ہیں اور نئی پہچان حاصل کر رہی ہیں۔ یہ ڈیجیٹل دور خواتین کے لیے ایک نئی کھڑکی کھول رہا ہے جہاں وہ اپنی آواز دنیا تک پہنچا سکتی ہیں۔
گفتگو میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ سوشل میڈیا میں آج بھی جینڈر ریزسٹنس موجود ہے۔ مردوں کے مقابلے میں لڑکیوں پر زیادہ تنقید ہوتی ہے۔ خاص طور پر مسلم لڑکیوں کو دین کے نام پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے تصویر کیوں لگائی یا کسی لڑکے کے ساتھ کیوں نظر آئیں۔ ڈاکٹر آمنہ مرزا نے واضح کیا کہ دین کا غلط استعمال کر کے دوسروں پر حملہ کرنا درست نہیں۔ غلط وہ نہیں جو تصویر لگائے بلکہ غلط وہ ہوتا ہے جو دین کے نام پر دوسروں کو جج کرے۔
پوڈ کاسٹ کا ایک منظر 
پوڈکاسٹ میں ٹرولنگ کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا۔ ڈاکٹر آمنہ مرزا نے کہا کہ لڑکیوں پر ٹرولنگ کا نفسیاتی اثر پڑتا ہے اور کئی بار وہ سوشل میڈیا سے دور ہونے لگتی ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ خواتین مضبوط ذہن کے ساتھ آگے بڑھیں اور ذمہ دارانہ انداز میں سوشل میڈیا استعمال کریں۔ اپنی نیت صاف رکھیں اور اچھے کام کو جاری رکھیں۔ لوگوں کے منفی تبصروں سے ہمت نہ ہاریں۔
ایک اور اہم سوال یہ تھا کہ کیا سوشل میڈیا کی وجہ سے خواتین گھر سے غافل ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹر آمنہ مرزا نے کہا کہ یہ زیادہ تر پدر شاہی سوچ ہے۔ مرد گھنٹوں اسکرین پر رہیں تو اعتراض نہیں ہوتا مگر عورت پر فوراً الزام لگ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ٹیکنالوجی خواتین کو گھر اور کام دونوں بہتر طریقے سے سنبھالنے میں مدد دے رہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ صنعتی انقلابات میں عورتوں کو پیچھے رکھا گیا۔ لیکن موجودہ ڈیجیٹل دور مختلف ہے۔ آج علم سب سے بڑی طاقت ہے۔ کم وسائل کے ساتھ بھی خواتین سوشل میڈیا کے ذریعے کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں شروع کر سکتی ہیں۔ اس سے خواتین کو نئی آواز اور مواقع ملے ہیں۔
آخر میں دین اور دنیا کے توازن پر بات ہوئی۔ ڈاکٹر آمنہ مرزا نے کہا کہ بیلنس خود بنانا پڑتا ہے۔ عبادت صرف چند لمحوں تک محدود نہیں بلکہ ہر عمل میں ہوتی ہے۔ اگر نیت اچھی ہو تو سوشل میڈیا بھی عبادت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے پیغام دیا کہ خواتین خوف کے بغیر آگے بڑھیں علم حاصل کریں اپنی پہچان بنائیں اور دین کے ساتھ دنیا میں بھی مثبت کردار ادا کریں۔
دین اور دنیا کے توازن پر ڈاکٹر آمنہ مرزا نے کہا کہ توازن دیا نہیں جاتا بلکہ بنایا جاتا ہے۔ عبادت ہر لمحے میں شامل ہے۔ دین اور دنیا دونوں سے پیچھے ہٹنا درست نہیں۔ نیت صاف ہو تو راستے آسان ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ 2010 سے سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہیں اور انہیں کبھی توہین آمیز تبصرے کا سامنا نہیں ہوا۔ انہوں نے ہمیشہ مثبت رویہ رکھا۔ زندگی مختصر ہے اس لیے ایمانداری سے اچھا کام کرتے رہنا چاہیے۔ یہی دین اور دنیا کا توازن ہے
پوڈکاسٹ کا اختتام اس پیغام کے ساتھ ہوا کہ سوشل میڈیا دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ بھلائی اور ترقی کے لیے استعمال ہونا چاہیے اور مسلم لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ اعتماد کے ساتھ اپنی آواز دنیا تک پہنچائیں۔                                    4