گوہر وانی : نئی دہلی
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جہاں ایک طرف عبادات کا اہتمام بڑھ جاتا ہے وہیں کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو سماجی خدمت کو اپنی عبادت سمجھتے ہیں۔ ذاکر نگر کو ملانے والی مصروف سڑک پر ان دنوں ٹریفک کا نظم و نسق سنبھالنے کی ذمہ داری ایک خاتون رضاکار شائستہ ادا کر رہی ہیں۔
عام دنوں میں یہ راستہ گاڑیوں اور راہگیروں کے ہجوم سے بھرا رہتا ہے۔ رمضان میں افطار اور تراویح کے اوقات میں رش مزید بڑھ جاتا ہے۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے شائستہ رضاکارانہ طور پر ٹریفک کو منظم کرنے اور عوام کی رہنمائی کا کام انجام دیتی ہیں۔
شائستہ کے مطابق انہوں نے یہ سلسلہ 15 رمضان سے شروع کیا۔ وہ صرف رمضان ہی نہیں بلکہ دیگر تہواروں کے موقع پر بھی اسی جذبے کے ساتھ ڈیوٹی انجام دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑک پر کام کرنا آسان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سخت رویے اور نامناسب الفاظ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن ان کے نزدیک اصل مقصد انسانیت کی خدمت ہے نہ کہ کسی ذات یا مذہب کی نمائندگی۔
وہ نہ صرف ٹریفک کو کنٹرول کرتی ہیں بلکہ گمشدہ بچوں اور کھوئے ہوئے سامان کی تلاش میں بھی مدد کرتی ہیں۔ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی کا بچہ گم ہو جائے تو وائرلیس کے ذریعے فوری اطلاع دی جاتی ہے اور جس مقام پر بچہ ملے اسے مرکزی بوتھ تک پہنچایا جاتا ہے جہاں والدین انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض دنوں میں 1 دن کے اندر 15 تک بچے گم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح پرس موبائل اور اہم دستاویزات بھی ملتے ہیں جنہیں اصل مالک تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
.webp)
شائستہ کی ٹیم میں مقامی رضاکار اور سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں جو باہمی رابطے کے ذریعے کام کو مؤثر بناتے ہیں۔
گھریلو ذمہ داریوں کے بارے میں شائستہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر اور 2 بچے ہیں۔ رمضان میں ان کا معمول نہایت مصروف ہوتا ہے۔ شام کو ڈیوٹی کے بعد گھر جا کر افطار کی تیاری کرتی ہیں۔ نماز اور دیگر امور کے بعد دوبارہ رات میں سڑک پر آ جاتی ہیں۔ کبھی ڈیوٹی آدھی رات تک جاری رہتی ہے اور پھر سحری کے بعد مختصر آرام کے بعد دن کا معمول شروع ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی خوشی اس وقت ملتی ہے جب کسی گمشدہ بچے کو والدین سے ملا دیا جائے یا کسی کا قیمتی سامان واپس کر دیا جائے۔ وہ اس خدمت کو انسانیت کا فرض قرار دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ انسان کو پہلے انسان سمجھنا چاہیے نہ کہ کسی مذہب یا ذات کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہیے۔
شائستہ کی یہ کوشش نہ صرف سماجی ہم آہنگی کی مثال ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ خلوص اور جذبہ خدمت معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔