پٹنہ : اونیکا مہیشوری
بہار کے شہر حاجی پور کی سرزمین سے ابھرتی ایک بیٹی کی کہانی ان دنوں ہر دل کو چھو رہی ہے۔ یہ ایک ایسی داستان ہے جس میں جدوجہد بھی ہے خواب بھی ہیں اور انہیں حقیقت میں بدلنے کا بے مثال حوصلہ بھی شامل ہے۔ ایک سادہ خاندان محدود وسائل اور دیہی ماحول میں پرورش پانے والی اس طالبہ نے اپنی محنت اور عزم کے بل پر ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے پورے صوبے کو فخر سے سر بلند کر دیا ہے۔ اس کی کامیابی صرف ایک کامیابی نہیں بلکہ ان سب لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے جو مشکل حالات میں بھی بڑے خواب دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں۔
ضلع ویشالی کے چہرہ کلا بلاک کے ایک چھوٹے سے گاؤں چھوراہی کی رہنے والی صابرین پروین نے اپنی انتھک محنت نظم و ضبط اور مضبوط ارادے کے ساتھ Bihar School Examination Board کے میٹرک امتحان 2026 میں 492 نمبر یعنی 98 اعشاریہ 4 فیصد حاصل کر کے پورے ریاست میں اول مقام حاصل کیا اور تاریخ رقم کر دی۔
صابرین کی اس غیر معمولی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ محدود وسائل اور معاشی مشکلات کبھی بھی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتیں اگر ارادے پختہ ہوں اور محنت سچی ہو۔ ان کی کامیابی نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے گاؤں اور ضلع کا نام روشن کر دیا ہے۔ نتیجہ سامنے آتے ہی چھوراہی گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لوگ خوشی سے جھوم اٹھے ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلائیں اور اس فخر کے لمحے کو اجتماعی طور پر منایا گیا۔

صابرین پروین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 492 نمبر حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم اسکول کے ساتھ ساتھ یوٹیوب کے ذریعے بھی حاصل کی۔ ان کے بھائی نے بھی پڑھائی میں ان کی بہت مدد کی۔ ان کا خواب ڈاکٹر بننے کا ہے اور اس کے لیے وہ NEET کی تیاری کریں گی۔ ان کی یہ بات نہ صرف ان کی محنت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ان کے مستقبل کے واضح ہدف اور لگن کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
سب سے خاص بات یہ ہے کہ صابرین نے اپنی پوری تعلیم گاؤں میں رہ کر ہی مکمل کی۔ آج کے دور میں جہاں بہتر تعلیم کے لیے بڑے شہروں کا رخ کیا جاتا ہے وہیں صابرین نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر جذبہ ہو تو گاؤں میں رہ کر بھی بڑے خواب پورے کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ذرائع جیسے یوٹیوب کا بھی مؤثر استعمال کیا جو ان کی خود انحصاری اور ذہین اندازِ تعلیم کا ثبوت ہے۔
ان کے والد محمد سجاد عالم رامپور ہاٹ میں ایک چھوٹی سی ٹائر کی دکان چلاتے ہیں۔ اسی آمدنی سے پورے خاندان کا خرچ چلتا ہے۔ معاشی طور پر سادہ پس منظر ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی بیٹی کی تعلیم میں کبھی کمی نہیں آنے دی۔ صابرین کی والدہ ایک گھریلو خاتون ہیں جو گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ بچوں کی تعلیم پر بھی مکمل توجہ دیتی ہیں۔ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی صابرین بچپن سے ہی پڑھائی میں ذہین رہی ہیں اور ہمیشہ کچھ بڑا کرنے کا خواب دیکھتی رہی ہیں۔
-1774776697652.webp)
ان کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بیٹی کے شاندار نتیجے کے بعد پورا خاندان بے حد خوش ہے۔ نتیجہ آنے کے بعد سے ہی گھر پر مبارکباد دینے والوں کا تانتا لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود ان کی بیٹی نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور مسلسل محنت کرتی رہی۔
اس سال Bihar School Examination Board کے میٹرک امتحان میں طالبات کا غلبہ صاف نظر آیا۔ ضلع جمُوئی کے سمُلتلا کی پُشپانجلی کماری نے بھی 492 نمبر حاصل کر کے صابرین کے ساتھ مشترکہ طور پر اول مقام حاصل کیا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آج بیٹیاں ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اس سال 15 لاکھ سے زیادہ طلبہ و طالبات امتحان میں شریک ہوئے۔ امتحان کا انعقاد 17 فروری سے 26 فروری 2026 کے درمیان ریاست بھر کے 1762 مراکز پر کیا گیا تھا۔ نتائج کے مطابق مجموعی طور پر 12 لاکھ 35 ہزار 743 طلبہ کامیاب قرار پائے جس سے کامیابی کا تناسب 81 اعشاریہ 79 فیصد رہا جو بہار بورڈ کے بہتر نتائج میں شمار کیا جا رہا ہے۔
#WATCH | Hajipur, Bihar: Shabreen Parveen, daughter of a tyre shop owner, scored 98.4% in her state board Class 10 results and became the topper of the state.
— ANI (@ANI) March 30, 2026
She says, "... I have scored 492 marks. I studied at school and on YouTube... I also studied with the help of my… pic.twitter.com/UtMcXkQYYi
نتائج کا اعلان بہار کے وزیر تعلیم Sunil Kumar نے کیا جس موقع پر بورڈ کے چیئرمین Anand Kishor بھی موجود تھے۔ اس دوران ٹاپ کرنے والوں کی فہرست میں طالبات کی شاندار کارکردگی دیکھنے کو ملی جس نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ درست رہنمائی اور محنت کے ذریعے بیٹیاں ہر بلندی کو چھو سکتی ہیں۔ صابرین پروین کی کامیابی صرف ایک ذاتی کارنامہ نہیں بلکہ یہ ان لاکھوں طلبہ کے لیے ایک تحریک ہے جو محدود وسائل کے باوجود اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر ہدف واضح ہو محنت مسلسل ہو اور خود اعتمادی مضبوط ہو تو کوئی بھی رکاوٹ کامیابی کے راستے کو نہیں روک سکتی۔
آج صابرین نہ صرف اپنے خاندان کا فخر ہیں بلکہ پورے بہار کی بیٹیوں کے لیے ایک مثال بن چکی ہیں۔ ڈاکٹر بننے کا ان کا خواب اور NEET کی تیاری کا عزم یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی یہ کامیابی محض ایک شروعات ہے۔ آنے والے وقت میں وہ یقیناً مزید بڑی کامیابیاں حاصل کریں گی۔ اس طرح حاجی پور کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکلنے والی یہ بیٹی آج پورے صوبے کی پہچان بن چکی ہے۔ صابرین پروین کی یہ کہانی آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ ایک تحریک بنی رہے گی اور یہ یاد دلاتی رہے گی کہ خواب دیکھنے والے کبھی ہار نہیں مانتے۔