مسکان شیخ:جسمانی معذوری بھی کامیابی میں رکاوٹ نہ بن سکی

Story by  غوث سیوانی | Posted by  [email protected] | 11 Months ago
مسکان شیخ:جسمانی معذوری بھی کامیابی میں رکاوٹ نہ بن سکی
مسکان شیخ:جسمانی معذوری بھی کامیابی میں رکاوٹ نہ بن سکی

 

 

احمد آباد: وڈودرا کی مسکان شیخ ایک ہاتھ سے معذور ہے مگر اس نے محنت کی اور آج وہ ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کرنے جارہی ہے۔ اس نے ثابت کردیا کہ محنت اور صلاحیت کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ نو سال قبل آٹھویں جماعت میں تعلیم کے دوران اپنا ایک ہاتھ کھونے والی مسکان نے اتنے بڑے حادثے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور اپنی پڑھائی جاری رکھی۔ مسکان نے ہمت اور حوصلے کے ساتھ ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کیا ہے۔ مسکان کی کامیابی پر سب کو فخر ہے۔ جب وڈودرا کے کلکٹر اے بی گور کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے مسکان کو بلا کر اس کی عزت افزائی کی۔

وڈودرا کی رہنے والی مسکان شیخ ایس ایس جی اسپتال میں ایم بی بی ایس کے آخری سال کی طالبہ ہے۔ وہ نو سال قبل ایک حادثے میں اپنا دایاں ہاتھ کھو بیٹھی تھی۔ تب مسکان آٹھویں جماعت میں تھی لیکن اس حادثے کے بعد بھی مسکان نے اپنی پڑھائی جاری رکھی۔ پہلے ہائی اسکول اور پھر انٹرمیڈیٹ کیا۔ مسکان نے ان دونوں امتحانات میں بالترتیب 94 اور 81 فیصد نمبر حاصل کئے۔

اس کے بعد اس نے ڈاکٹری میں داخلہ کے لئےنیٹ کا امتحان دیا۔ اس امتحان میں معذور زمرہ میں مسکان پورے گجرات میں پہلے نمبر پر رہی۔ اس کے بعد مسکان نے ایس ایس جی ہسپتال میں میڈیکل کی تعلیم شروع کی۔ مسکان کے والدین ایک سرکاری اسکول میں بطور استاد کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2014 میں مسکان بس حادثے میں اپنا دایاں ہاتھ کھو بیٹھی۔

اس واقعے کے فوراً بعد مسکان نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق شروع کر دی۔ یہ آسان نہیں تھا لیکن مسکان نے اسے ممکن بنایا۔ امتحان دیا اور اس کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران مسکان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن مسکان نے اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور تمام کام اپنے بائیں ہاتھ سے کرنا سیکھ لیا۔ اب مسکان کے اہل خانہ کو صرف اس لمحے کا انتظار ہے جب مسکان کو ایم بی بی ایس کی ڈگری ملے گی۔

مسکان شیخ نے ہمت ہارے بغیر سنگین حالات کا سامنا کر کے دیگر طلباء کو حوصلہ فراہم کیا ہے۔ یہ معلوم ہوتے ہی کلکٹر اتل گور نے بھی مسکان کو اپنے دفتر بلا کر ان کی عزت افزائی کی۔ مسکان بہت سے طلباء کے لیے ایک تحریک ہے جو امتحانات میں کم نمبروں کی وجہ سے خودکشی جیسے قدم اٹھاتے ہیں۔ مسکان نے اپنی محنت سے ثابت کر دیا کہ قسمت چاہے یو ٹرن لے لے اگر آپ سو فیصد محنتی ہیں تو کوئی طوفان آپ کی ہمت کو نہیں ہلا سکتا۔