مدھیہ پردیش:بی جے پی کی واحد مسلم رکن بِلقیس جہاں کا نعرہ - اسلام بھی میرا، ہنومان جی بھی میرے

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 01-07-2026
مدھیہ پردیش:بی جے پی کی واحد مسلم رکن بِلقیس جہاں کا نعرہ - اسلام بھی میرا، ہنومان جی بھی میرے
مدھیہ پردیش:بی جے پی کی واحد مسلم رکن بِلقیس جہاں کا نعرہ - اسلام بھی میرا، ہنومان جی بھی میرے

 



 بھوپال: ہندوستانی سیاست میں مذہب اور سیاست کا امتزاج ہمیشہ بحث کا موضوع رہا ہے، لیکن مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے تعلق رکھنے والی بلقیس جہاں اس بحث کو ایک مختلف زاویہ عطا کرتی ہیں۔ وہ ایک طرف شیعہ داؤدی بوہرہ برادری سے تعلق رکھنے والی مسلمان خاتون ہیں، تو دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سرگرم رہنما اور ہنومان جی کی عقیدت مند بھی۔ ان کی شخصیت مذہبی شناخت، سیاسی وابستگی اور سماجی خدمات کا ایک ایسا امتزاج پیش کرتی ہے جو ہندوستانی سیاست میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

حال ہی میں بی جے پی کی 106 رکنی مدھیہ پردیش ریاستی ورکنگ کمیٹی میں انہیں واحد مسلم رکن کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ یہ گزشتہ سولہ برسوں میں چوتھی مرتبہ ہے کہ پارٹی نے انہیں اپنی اعلیٰ ترین ریاستی فیصلہ ساز کمیٹی کا حصہ بنایا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ تنظیم میں ان کی اہمیت برقرار ہے۔

ایک مسلمان خاتون، مگر ہنومان بھکت بھی

یاد رہے کہ 57 سالہ بلقیس جہاں بھوپال کے علی گنج علاقے میں رہتی ہیں۔ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور کامرس میں گریجویشن کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی میں کبھی مذہب رکاوٹ نہیں بنا، بلکہ انہوں نے ہمیشہ مختلف مذاہب کے احترام کو اپنی زندگی کا اصول بنایا۔ان کی روزمرہ زندگی اس کی واضح مثال ہے۔ وہ روزانہ صبح تین بجے اپنی برادری کی مسجد میں نماز ادا کرتی ہیں اور گزشتہ بائیس برس سے بلا ناغہ صبح ساڑھے سات بجے کملہ پارک کے مشہور ہنومان مندر جا کر پوجا کرتی ہیں اور ہنومان چالیسہ کا پاٹھ بھی کرتی ہیں۔ ہر منگل کو وہ ہنومان جی کے احترام میں روزہ رکھتی ہیں اور کہتی ہیں کہ زندگی کے ہر مشکل مرحلے میں انہیں "بابا جی" یعنی ہنومان جی کی مدد محسوس ہوئی۔

بلقیس جہاں مکہ مکرمہ، جدہ، ایران اور مصر کی زیارت کر چکی ہیں، جبکہ جموں میں ماتا ویشنو دیوی کے درشن بھی تین مرتبہ کر چکی ہیں۔ ان کے نزدیک مذہب انسانوں کو تقسیم نہیں بلکہ قریب لانے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔

وہ "جے سیا رام" کے نعرے کو صرف مذہبی نہیں بلکہ قومی شعار قرار دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہر ہندوستانی کو اس پر فخر ہونا چاہیے۔

سال1979 سے بی جے پی تک: ایک طویل سیاسی سفر

بلقیس جہاں اپنے بوہرہ مسلم کاروباری خاندان میں پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1979 میں اس وقت ہوا جب ان کی ملاقات جنتا پارٹی کے رہنما رضیہ سلطان عارف بیگ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنما ششی بھائی سیٹھ سے ہوئی۔ ششی بھائی سیٹھ نے محبت سے انہیں "بلو چند" کا لقب دیا، جو آج بھی ان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سال1980 کی دہائی کے آغاز میں انہوں نے بی جے پی کا دامن تھام لیا۔ اس وقت پارٹی میں مسلم خواتین کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن بلقیس نے اس مشکل راستے کا انتخاب کیا۔

وہ بھوپال کے چوک منڈل میں بی جے پی کی واحد مسلم خاتون کارکن تھیں۔ مسلم اکثریتی سیفیہ کالج کے پولنگ بوتھ پر وہ پارٹی کی واحد خاتون بوتھ ایجنٹ کے طور پر تعینات رہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے مسلسل گفتگو اور اعتماد سازی کے ذریعے اپنے خاندان کو بھی بی جے پی کی حمایت پر آمادہ کیا۔

رام مندر تحریک سے لے کر انتخابی میدان تک

بلقیس جہاں کا کہنا ہے کہ 1990 میں رام جنم بھومی تحریک کے دوران وہ ان بی جے پی کارکنوں میں شامل تھیں جنہیں ایودھیا جاتے ہوئے اس وقت کے الٰہ آباد (موجودہ پریاگ راج) میں روک لیا گیا تھا۔ وہ اس تحریک میں اپنی شرکت کو اپنی سیاسی زندگی کا اہم باب قرار دیتی ہیں

سال1993 کے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات میں انہوں نے بی جے پی امیدوار رمیش شرما کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ یہی وہ انتخاب تھا جس میں مسلم اکثریتی بھوپال اتر اسمبلی حلقے سے بی جے پی کو اپنی واحد کامیابی ملی۔

بلقیس بتاتی ہیں کہ انتخابی مہم کے دوران کانگریس کارکنوں کے پتھراؤ میں ان کے ماتھے پر شدید زخم آئے، مگر انہوں نے زخمی ہونے کے باوجود مہم جاری رکھی۔ ان کے خلاف مختلف مواقع پر 18 مقدمات بھی درج کیے گئے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان مشکلات نے ان کے حوصلے کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا۔

ایک موقع پر محمود غزنوی کا پتلا نذر آتش کرنے کے الزام میں انہیں ایک دن جیل بھی جانا پڑا، تاہم وہ اسے بھی اپنے سیاسی سفر کا حصہ سمجھتی ہیں۔

بلدیاتی سیاست میں کامیابی اور عوامی خدمت

سال2002 میں بی جے پی نے انہیں بھوپال میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 19 سے امیدوار بنایا، جو اس وقت کانگریس کے بااثر رہنما عارف عقیل کا آبائی حلقہ تھا۔ کانگریس نے بوہرہ برادری سے تعلق رکھنے والی شمیم بانو کو امیدوار بنایا تاکہ ووٹ تقسیم کیے جا سکیں، لیکن بلقیس جہاں نے 272 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔

ان کی انتخابی مہم میں اوما بھارتی، کیلاش جوشی، سندرلال پٹوا، بابولال گور، کیلاش سارانگ اور اوما شنکر گپتا جیسے سینئر بی جے پی رہنماؤں نے بھرپور تعاون کیا۔

کارپوریٹر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اپنے علاقے میں ایک سرکاری پرائمری اسکول قائم کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور نوجوانوں کے لیے پہلوانوں کا اکھاڑا بھی بنوایا۔ اگرچہ بعد کے دو بلدیاتی انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ تنظیمی سطح پر مسلسل سرگرم رہیں۔

پارٹی سے وفاداری، مگر ادھورے خواب بھی

2010 سے 2018 کے درمیان وہ نریندر سنگھ تومر، پربھات جھا اور نند کمار سنگھ چوہان کے ادوار میں ریاستی ورکنگ کمیٹی کی رکن رہیں۔ بعد میں وی ڈی شرما کے دور میں بھی انہیں ایک اہم تنظیمی عہدہ پیش کیا گیا، تاہم انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اسے قبول نہیں کیا۔

اس کے باوجود ان کے دل میں ایک کسک باقی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بی جے پی نے انہیں بھوپال اتر اسمبلی حلقے سے ٹکٹ نہیں دیا بلکہ سابق کانگریس ایم ایل اے رسول احمد صدیقی کی بیٹی فاطمہ رسول صدیقی کو امیدوار بنایا، جس پر انہوں نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان سے بھی شکایت کی تھی۔

بلقیس کے مطابق شیوراج سنگھ چوہان نے انہیں صرف اتنا کہا تھا: "جو قسمت میں لکھا ہے، وہی ہوگا۔"

بعد ازاں 2018 کا انتخاب ہارنے کے بعد فاطمہ رسول صدیقی دوبارہ کانگریس میں شامل ہو گئیں۔

آئندہ کا سیاسی سفر

ریاستی ورکنگ کمیٹی میں چوتھی مرتبہ شامل کیے جانے پر بلقیس جہاں نے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کیا ہے، تاہم ان کی خواہش ہے کہ مستقبل میں انہیں مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ یا ریاستی اقلیتی کمیشن کی چیئرپرسن بنایا جائے، یا ریاستی خواتین کمیشن میں ذمہ داری سونپی جائے۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کی دوبارہ شمولیت محض رسمی فیصلہ نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے کہ بی جے پی مستقبل میں انہیں بھوپال اتر اسمبلی حلقے سے امیدوار بنا کر ایک نیا سیاسی تجربہ کر سکتی ہے۔ یہ وہ نشست ہے جہاں پارٹی اب تک صرف ایک مرتبہ، 1993 کے انتخابات میں، کامیابی حاصل کر سکی ہے۔

مذہبی ہم آہنگی کا پیغام

بلقیس جہاں صرف اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے واضح مؤقف کی وجہ سے بھی نمایاں ہیں۔ وہ غزہ اور ایران میں مسلمانوں کے قتل، بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہونے والے مظالم اور گائے کے نام پر مسلمانوں کی ہجومی تشدد کے ذریعے ہلاکتوں، تینوں کی یکساں الفاظ میں مذمت کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر ایک ظلم ناقابل قبول ہے تو دوسرا بھی ناقابل قبول ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک مذہب انسانیت کا درس دیتا ہے، نفرت کا نہیں۔اسی سوچ کے ساتھ بلقیس جہاں آج بھی ہندوستانی سیاست میں ایک منفرد کردار کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ نظریاتی وابستگی، مذہبی شناخت اور قومی خدمت، اگر خلوص کے ساتھ نبھائی جائیں، تو بظاہر مختلف راستے بھی ایک منزل پر آ کر مل سکتے ہیں۔