آواز دی وائس : نئی دہلی
لکھو تاکہ خاموش درد بول اٹھے لکھو تاکہ وہ لوگ جو اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتے ان کی آواز بن سکو۔ ان کے نزدیک لفظ صرف حروف کا مجموعہ نہیں بلکہ جذبات احساسات اور معاشرتی سچائیوں کا آئینہ ہیں۔
یہ خیالات ہیں رینو شاہ نواز حسین کے جو بی جے پی کے رہنما اور سابق مرکزی وزیر شاہ نواز حسین کی شریک حیات ہیں، جو ایک باصلاحیت شاعرہ افسانہ نگار اور معلمہ ہیں۔ ان کی شخصیت میں تخلیق اور تربیت کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف خود لکھتی ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی ادب سے روشناس کرانے کا اہم کام انجام دیتی ہیں۔ ان کی شاعری میں جذبات کی سچائی اور سماج کی حقیقتیں ایک ساتھ نظر آتی ہیں جبکہ ان کی تدریس میں شفقت رہنمائی اور فکری بیداری جھلکتی ہے۔
آواز دی وائس کے لیے انجلی ادا نے ان سے خاص بات چیت کی ۔جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف پہلووں پر نظر ڈالی اور ایک استاد سے ایک شاعرہ اور ادیبہ تک کے کردار کے بارے میں بڑی صاف گوئی سے اپنی رائے رکھی
ادبی شعور کی ابتدا: اسکول کے دنوں سے تخلیق کا آغاز
رینو شاہ نواز حسین کہتی ہیں کہ دیکھیے شاعری یا کہانی لکھنے کا آغاز اکثر اسکول کے زمانے میں ہی ہو جاتا ہے۔ جب انسان تعلیم حاصل کر رہا ہوتا ہے تو اسے مختلف ادیبوں اور شاعروں کو پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کی تحریریں انسان کو متاثر کرتی ہیں۔ زیادہ تر وہی کہانیاں اور نظمیں ہوتی ہیں جو نصاب میں شامل ہوتی ہیں۔جب میں نویں جماعت میں تھی تو ہمیں پریم چند کی کہانیاں اور ناول پڑھنے کے لیے دیے گئے۔ ان سے میں بہت متاثر ہوئی۔ وہیں سے کہانی لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اور شاعری کا آغاز بھی اسی زمانے میں آہستہ آہستہ ہونے لگا۔
جہاں تک تحریک کی بات ہے تو میں مہادیوی ورما جی سے متاثر رہی ہوں۔ پریم چند جی کا بھی بڑا اثر رہا ہے۔ نرالا جی کی شاعری نے بھی مجھے بہت متاثر کیا۔ موجودہ دور کے شعرا میں لکشمی شنکر واجپئی جی ہیں۔ اور بھی کئی غزل نگار ہیں جیسے اشوک سنگھ جی۔ ایک طویل فہرست ہے جن کے نام لیے جا سکتے ہیں۔.webp)
.webp)
ابتدائی تحریریں اور کتابیں
وہ اپنے ابتدائی دور کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ جہاں تک پہلی نظم کا تعلق ہے تو پہلی نظم عموماً بہت سادہ اور ہم قافیہ ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں صرف الفاظ کو جوڑ لیا جاتا ہے۔ جیسے ابتدائی درجے کی نظمیں ہوتی ہیں۔ چار چار مصرعوں کی چھوٹی نظمیں۔ ہم اپنی میڈم کو دکھاتے تھے کہ کیا یہ ٹھیک ہے۔ اس وقت یہی لگتا تھا کہ ہم نے کچھ لکھ لیا۔ اسی طرح آہستہ آہستہ سفر آگے بڑھا۔
میری پہلی کتاب پانی پیار تھی۔ یہ میرا پہلا شعری مجموعہ تھا۔ اس سے پہلے اسکول اور کالج میں جب بھی مشاعرہ ہوتا تھا یا سالانہ تقریب ہوتی تھی تو مجھے کہا جاتا تھا کہ تم نظم سناؤ یا کہانی پڑھو یا مضمون پیش کرو۔ کالج کی سرگرمیوں میں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی۔ اسی دوران لکھنے کا شوق اور بھی بڑھتا گیا۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ "پانی پیار" ان کے لیے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ وہ اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ جب ان کی تحریر پہلی بار شائع ہوئی تو انہیں بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوا۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ان کی محنت خوابوں اور جذبات کا نچوڑ تھا۔وہ کہتی ہیں کہ پہلی کتاب ایک نئے سفر کا آغاز ہوتی ہے جہاں لکھاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے الفاظ اب دوسروں تک بھی پہنچ رہے ہیں اور ان پر اثر ڈال رہے ہیں۔
جہاں تک اپنی کتابوں کی بات ہے تو ہر کتاب اپنے بچے کی طرح ہوتی ہے۔ کسی ایک کو زیادہ یا کم پسندیدہ نہیں کہا جا سکتا۔ پانی پیار اس لیے خاص ہے کیونکہ وہ پہلی کتاب تھی۔ پہلی بار اپنی تحریر کو چھپتے دیکھنے کا ایک الگ ہی جوش ہوتا ہے۔ یہ احساس کہ لوگ اسے پڑھیں گے۔ اس پر گفتگو ہوگی۔ اس کی تقریب رونمائی ہوگی۔ یہ سب بہت حوصلہ دینے والا ہوتا ہے۔اس کے بعد جو آراء ملتی ہیں وہ بھی رہنمائی کرتی ہیں کہ آگے کیسے بہتر لکھا جائے۔ انسان خود بھی اپنی تحریر کو پرکھتا ہے۔ خود ہی اس میں ترمیم کرتا ہے۔ پہلے خود کو مطمئن کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک شاعر کے لیے یہ سب ایک مسلسل سیکھنے اور آگے بڑھنے کا عمل ہے۔
شاعری کا ارتقاء: ذاتی احساس سے اجتماعی شعور تک
.webp)
.webp)
سماجی مسائل کی عکاسی: ادب بطور آئینہ
رینو شاہ نواز حسین کی شاعری میں معاشرے کے مختلف پہلو نمایاں ہیں۔ وہ مزدوروں کی مشکلات کسانوں کی خودکشیوں اور عام انسان کی جدوجہد کو اپنی تحریروں میں بیان کرتی ہیں۔ ان کے اشعار میں ایک طرف ماں کی محبت کی گہرائی ہے تو دوسری طرف سماج کی تلخ حقیقتوں کا عکس بھی نظر آتا ہے۔وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ ادب کا اصل مقصد سچ کو بیان کرنا ہے چاہے وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ ایک شاعر یا شاعره کے پاس صرف جذبات نہیں ہوتے بلکہ وہ معاشرے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ جو کچھ ہمارے اردگرد ہوتا ہے ہم اسے محسوس کرتے ہیں اور اپنی شاعری میں بیان کرتے ہیں۔
شاعری کے ساتھ ساتھ ان کی افسانہ نگاری بھی ایک اہم پہلو ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ کہانی ایک ایسا وسیع میدان فراہم کرتی ہے جہاں لکھاری اپنے کرداروں کے ذریعے زندگی کی پیچیدگیوں کو بیان کر سکتا ہے۔ان کی کہانیاں خیالی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں۔ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیوں سے کردار لیتی ہیں اور ان کے مسائل کو کہانی کی شکل میں پیش کرتی ہیں۔ اس طرح ان کی تحریریں قاری کے دل کو چھو لیتی ہیں کیونکہ وہ خود کو ان کرداروں میں دیکھتا ہے۔
نئی نسل کا چیلنج: مطالعے سے دوری
ایک استاد کے طور پر وہ موجودہ نسل کے مسائل پر بھی روشنی ڈالتی ہیں۔ ان کے مطابق آج کے بچے سوشل میڈیا میں اتنے مصروف ہیں کہ ان کی کتابوں سے دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔وہ بتاتی ہیں کہ پہلے کے زمانے میں کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوا کرتی تھیں لیکن اب موبائل فون نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف علمی نقصان کا باعث بن رہی ہے بلکہ ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔
.webp)
تنہائی اور ذہنی دباؤ: ادب بطور علاج
آج کے دور میں نوجوان خاص طور پر ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ تنہائی بڑھ رہی ہے۔ بعض اوقات وہ مایوسی کا شکار ہو کر غلط راستے اختیار کر لیتے ہیں۔ خواتین کی زندگی بھی آسان نہیں۔ گھر اور کام دونوں کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ہر طرف دباؤ ہے۔ ایسے میں شاعری اورموسیقی ایک طرح کا سہارا بنتی ہیں۔ یہ انسان کو احساس دلاتی ہیں کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔لوگ فلمیں بھی اسی لیے دیکھتے ہیں کہ انہیں اپنے جیسے کردار نظر آتے ہیں۔ جب کوئی کردار مشکل حالات میں ہمت دکھاتا ہے تو دیکھنے والا بھی متاثر ہوتا ہے۔اسی طرح اگر ہماری شاعری یا تحریر کسی ایک انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔نوجوانوں کے لیے یہی پیغام ہے کہ وہ پڑھنے اور لکھنے کی عادت ڈالیں۔ جب انسان مطالعہ اور تحریر کی طرف آتا ہے تو اس کا ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔ سوچ میں وسعت آتی ہے اور زندگی کو سمجھنے کا بہتر انداز پیدا ہوتا ہے۔
کتابوں کا مطالعہ
ہمارے پاس اگر وقت ہوتا تھا تو ہم کتابیں پڑھتے تھے۔یہی ہمارابہترین مشغلہ اور تفریح ہوتی تھی۔ لائبریریاں موجود تھیں۔ ہمیں کام دیا جاتا تھا کہ کتابوں کا جائزہ لکھ کر لاؤ۔ ناول پڑھو۔ اس طرح آہستہ آہستہ ہمارے اندر مطالعہ کا شوق پیدا ہوتا گیا۔ لیکن آج کے بچوں کو کہیں کہ کتاب لے کر بیٹھیں تو یہ مشکل لگتا ہے۔ وہ نصاب مکمل کر لیں یہی بڑی بات ہوتی ہے۔ سوالوں کے جواب بھی انہیں آسانی سےانٹرنیٹ سے مل جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا اثر بہت زیادہ ہے۔ ہر چیز کی تصویر ڈالنا چاہتے ہیں۔ کہیں بھی جائیں تو فوراً اپنی تصویر شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں کافی وقت ضائع ہوتا ہے۔ پڑھنے میں دلچسپی کم ہو گئی ہے۔ایسی صورت میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ بچوں کے اندر پڑھنے کا شوق پیدا کریں۔ انہیں سمجھائیں کہ نظم کیا ہے۔ کہانی کیا ہے۔ اسی لیے انہیں میرا پڑھانے کا انداز زیادہ پسند آتا ہے۔ جب استاد کلاس میں آتا ہے تو بچوں کو رہنمائی ملتی ہے۔ خاص طور پر دسویں جماعت تک کے طلبہ کو ایک استاد کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ مقابلہ بھی بہت سخت ہو گیا ہے
ادب کی طاقت: تبدیلی کا ذریعہ
رینو شاہ نواز حسین اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ ادب معاشرے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ شاعروں اور ادیبوں نے اپنے قلم کے ذریعے لوگوں کے خیالات کو متاثر کیا اور معاشرتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔ان کے نزدیک اگر ان کی تحریر کسی ایک شخص کی زندگی میں بھی امید پیدا کر دے تو یہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔وہ خاص طور پر خواتین کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ ان کی شاعری میں عورت کی طاقت خودمختاری اور جدوجہد کا پیغام نمایاں ہے۔ادب کے علاوہ انہیں مصوری اور موسیقی کا بھی شوق ہے۔ وہ قدرتی مناظر کی پینٹنگ بناتی ہیں اور اپنی شاعری کو ترنم میں پیش کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک فن کی تماک صورتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور انسان کے اندرونی جذبات کا اظہار ہیں۔