دانش علی : سری نگر
سرینگر کے راہل پورہ علاقے میں واقع ایک سرکاری پرائمری اسکول آج تعلیمی کامیابی کی مثال بن چکا ہے، جس کا سہرا بیسٹ ٹیچر ایوارڈ یافتہ معلمہ عرفانہ تبسم کے سر جاتا ہے۔ عرفانہ تبسم نے اس اسکول کو اس وقت سنبھالا جب وہاں ایک بھی طالب علم موجود نہیں تھا اور عمارت خستہ حالی کا شکار تھی، مگر آج اسی اسکول میں ستر سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
عرفانہ تبسم کا تعلق محکمہ تعلیم جموں و کشمیر سے ہے۔ انہوں نے دو ہزار سات میں بطور جنرل لائن ٹیچر محکمہ تعلیم جوائن کیا اور مختلف تعلیمی منصوبوں میں فعال کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہیں زونل ریسورس کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے اساتذہ کی تربیت اور جدید تدریسی طریقوں پر کام کیا۔ اسی تجربے نے انہیں چیلنج قبول کرنے کا حوصلہ دیا۔
دو ہزار تیرہ میں انہیں راہل پورہ کے ایک پرائمری اسکول کی ذمہ داری دی گئی جس کا رول زیرو تھا۔ عمارت ٹوٹی پھوٹی تھی اور رجسٹریشن بھی ختم ہو چکی تھی۔ عرفانہ تبسم نے ہمت نہ ہاری، پہلے ماحول کو بہتر بنایا، فرنیچر کا انتظام کیا، مائیک کے ذریعے صبح اسمبلی شروع کروائی اور مقامی لوگوں سے رابطہ قائم کیا۔ آہستہ آہستہ والدین کا اعتماد بحال ہوا اور بچے اسکول آنے لگے۔


انہوں نے نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے مطابق ایف ایل این اور اسکل فل لرننگ کو اسکول میں نافذ کیا۔ کلاس رومز کو تعلیمی چارٹس، پروفائل سسٹم، ماہانہ نصاب منصوبہ بندی اور اسسمنٹ ریکارڈ سے آراستہ کیا گیا۔ بچوں کو باغبانی، کھیل اور عملی سرگرمیوں سے جوڑا گیا تاکہ تعلیم کے ساتھ ہنر بھی سیکھ سکیں۔
عرفانہ تبسم کی کوششوں سے اسکول کے لیے اضافی زمین بھی حاصل کی گئی اور آج اسکول کے پاس تقریباً چھ سے سات کنال زمین موجود ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول کو مڈل یا ہائی اسکول میں اپگریڈ کیا جائے تاکہ علاقے کے بچوں کو مزید سہولتیں مل سکیں۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ضلع بڈگام انتظامیہ، زونل ایجوکیشن آفس اور جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ففتھ ستمبر کو لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے دیا گیا اسٹیٹ ٹیچر ایوارڈ ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔

عرفانہ تبسم کا کہنا ہے کہ کامیابی کا راز ایمانداری، لگن اور اپنے پیشے سے محبت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہر استاد کو چاہیے کہ وہ اپنے پیشے کے ساتھ مخلص رہے اور معاشرے میں علم کا چراغ جلتا رکھے۔
عرفانہ تبسم آج نہ صرف راہل پورہ بلکہ پورے کشمیر کے لیے ایک مثال بن چکی ہیں کہ اگر نیت مضبوط ہو تو زیرو سے بھی کامیابی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔