تعلیم، تحقیق اور تخلیق کا سنگم: شمع پروین

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 07-09-2026
تعلیم، تحقیق اور تخلیق کا سنگم: شمع پروین
تعلیم، تحقیق اور تخلیق کا سنگم: شمع پروین

 



 سیتامڑھی: ہر سال 5 ستمبر کو یومِ اساتذہ کے موقع پر پٹنہ میں ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے جس میں تعلیم کے شعبے میں نمایاں اور خصوصی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو ریاستی استاد ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔ اس سال بھی بہار کے ریاستی استاد ایوارڈ کے لیے ریاست کے 38 اساتذہ کا انتخاب کیا گیا ہے، جن میں سیتامڑھی ضلع کی خاتون ٹیچر شمع پروین بھی شامل ہیں۔شمع پروین کو ان کی بہترین تدریسی خدمات اور تعلیم کے شعبے میں نمایاں کردار کے اعتراف میں اس اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ وہ سیتامڑھی کے رونی سعیدپور بلاک کے پرائمری اسکول کوئیری ٹولہ دھنوشی میں ہیڈ ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ضرورت پڑنے پر کئی مضامین پڑھاتی ہیں

شمع پروین بنیادی طور پر سماجی سائنس کی ٹیچر ہیں، تاہم اسکول میں ضرورت کے مطابق وہ انگریزی، سائنس اور سنسکرت بھی پڑھاتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک استاد کی ذمہ داری صرف اپنے مقررہ مضمون تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ طلبہ کی ضرورت کے مطابق ہر ممکن مدد فراہم کرنا بھی تدریس کا حصہ ہے۔ان کی تدریسی سرگرمیوں میں روایتی طریقوں کے ساتھ نئے اور تخلیقی تجربات بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تدریس کو محض نصابی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے اسے طلبہ کی ہمہ جہت ترقی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

تعلیمی پس منظر اور محنت کا سفر

شمع پروین کا تعلق سمستی پور کے دال سنگھ سرائے سے ہے۔ ان کے والد مرحوم محمد جمیل اختر ایک ہائی اسکول میں اسسٹنٹ ٹیچر تھے۔ گھر کے تعلیمی ماحول نے ان کی شخصیت اور مستقبل کے انتخاب پر گہرا اثر ڈالا۔

انہوں نے اردو اور عربی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آر بی کالج دال سنگھ سرائے سے گریجویشن کیا۔ انہوں نے DCA، BLIS، MLIS اور B.Ed جیسی پیشہ ورانہ اور تعلیمی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔

سال 2011 میں ٹی ای ٹی پاس کرنے کے بعد وہ 2013 میں گریجویٹ تربیت یافتہ ٹیچر بنیں۔ بعد ازاں انہوں نے بی پی ایس سی پرنسپل ٹیچر کا امتحان بھی کامیاب کیا اور دھنوشی کے اسکول میں ہیڈ ٹیچر کی ذمہ داری سنبھالی۔

قومی سطح پر بھی کر چکی ہیں بہار کی نمائندگی

شمع پروین کی تعلیمی سرگرمیوں کا دائرہ صرف بہار تک محدود نہیں رہا۔ ان کا نام این سی ای آر ٹی کے چھ ماہ کے خصوصی کورس کے لیے ملک بھر سے منتخب کیے گئے چند اساتذہ میں بھی شامل رہا ہے۔نئی دہلی میں این سی ای آر ٹی کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ 21 روزہ ورکشاپ میں انہوں نے بہار کی نمائندگی کی اور ریاست کا اعزاز بڑھایا۔ان کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انہیں اس سے قبل ٹی بی ٹی ایوارڈ، ٹیچر آف دی منتھ اور گارگی سمان جیسے اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

تدریس کے ساتھ تحقیق میں بھی دلچسپی

شمع پروین نے تدریسی طریقۂ کار اور تعلیم کے شعبے میں مصنوعی ذہانت یعنی AI کے کردار پر تحقیقی مقالے بھی پیش کیے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے تعلیمی تقاضوں اور جدید ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور اسے تدریس سے جوڑنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔ان کی کوشش ہے کہ ٹیکنالوجی اور تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کے لیے تعلیم کو زیادہ آسان، دلچسپ اور قابلِ رسائی بنایا جائے۔

شاعری اور بچوں کی کتابوں کی تیاری میں بھی سرگرم

شمع پروین صرف تدریس اور تحقیق تک محدود نہیں بلکہ شاعری سے بھی شغف رکھتی ہیں۔ وہ بچوں کی تعلیم کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے تخلیقی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ان دنوں وہ بہار کی علاقائی زبانوں میں بچوں کی کتابوں کے لیے تصاویر اور بصری مواد تیار کرنے کے کام سے وابستہ ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی متحرک اور دلکش تصویریں ابتدائی جماعتوں کے بچوں کے لیے پڑھنے اور سمجھنے کے عمل کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

ایک استاد جو بدلتے وقت کے ساتھ خود بھی سیکھ رہی ہیں

شمع پروین کی کہانی محض ایک سرکاری ایوارڈ حاصل کرنے والی استاد کی کہانی نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے، خود کو بہتر بنانے اور تعلیم کے نئے طریقوں کو اپنانے کی داستان ہے۔ اردو اور عربی کی ابتدائی تعلیم سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والی شمع پروین نے جدید تعلیم، مصنوعی ذہانت، تحقیق، شاعری اور تخلیقی سرگرمیوں تک اپنے دائرۂ کار کو وسیع کیا ہے۔بہار کا ریاستی استاد ایوارڈ ان کی اسی مسلسل محنت، تدریسی لگن اور تعلیم کے شعبے میں نمایاں خدمات کا اعتراف ہے۔