زیبانسیم:ممبئی
اردو اور ہندی ادب کی معروف مصنفہ افسانہ نگار مزاح نگار اور مترجم ڈاکٹر بانو سرتاج قاضی 13 اگست 2026 کو 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات سے اردو ادب بالخصوص ادب اطفال کے میدان میں ایک اہم اور فعال آواز خاموش ہوگئی۔17 جولائی 1945 کو پاندھرکوڑ ضلع ایوت محل مہاراشٹر میں پیدا ہونے والی بانو سرتاج نے اپنی طویل ادبی زندگی میں تحریر کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے سماجی شعور اور انسانی قدروں کی ترجمانی کا وسیلہ بھی بنایا۔ ان کی تحریروں میں سماجی رشتوں بین المذاہب تعلقات اور بچوں کی نفسیات جیسے موضوعات نمایاں رہے۔
انہیں پچھلےسال ہی بال ساہتیہ پرسکارسے نوازا گی تھا، بانو سرتاج کی علمی زندگی بھی ان کی ادبی سرگرمیوں کی طرح متنوع تھی۔ انہوں نے بی ایڈ کے علاوہ اردو ہندی اور تاریخ میں ایم اے کیا۔ تعلیم کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی اور گاندھیائی افکار میں اعلیٰ تعلیمی ڈپلومہ حاصل کیا۔ انہوں نے تدریس کے میدان میں بھی طویل عرصے تک خدمات انجام دیں اور بلاس پور چھتیس گڑھ کے لال بہادر شاستری کالج آف ایجوکیشن کی پرنسپل کی ذمہ داری سنبھالی۔ان کی ادبی اور تعلیمی خدمات کو مختلف سطحوں پر تسلیم کیا گیا۔ ادب اطفال کے لیے انہیں صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے اعزاز ملا۔ مختلف ریاستی اردو اکادمیوں اور دیگر ادبی و سماجی اداروں نے بھی ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں متعدد اعزازات سے نوازا۔
سماجی اورفلاحی سرگرمیاں
بانو سرتاج کی شخصیت صرف کتاب اور درس گاہ تک محدود نہیں تھی۔ وہ سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی فعال رہیں۔ ان کے لیے ادب معاشرے سے کٹا ہوا کوئی الگ شعبہ نہیں تھا بلکہ انسانی مسائل کو سمجھنے اور نئی نسل میں بہتر اقدار پیدا کرنے کا ذریعہ تھا۔ان کی وفات اردو دنیا کے لیے ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی آسان نہیں۔ خاص طور پر بچوں کے ادب میں ان کی خدمات آنے والے زمانے میں بھی ان کی شناخت برقرار رکھیں گی۔ ایک ایسی ادیبہ جس نے اپنی تحریر کے ذریعے بچوں کی دنیا کو وسعت دی اور سماج کے اہم سوالات کو لفظوں میں ڈھالا آج ہم میں نہیں رہیں لیکن ان کا ادبی سرمایہ ان کی موجودگی کا احساس دلاتا رہے گا۔
دراصل اردو ادب نے 13 اگست 2026 کو ڈاکٹر بانو سرتاج قاضی کی صورت میں ایک ایسی ادیبہ کو کھو دیا جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بچوں کے ادب کی تخلیق اور فروغ کے لیے وقف کیے رکھا۔ ان کا قلمی نام بانو سرتاج تھا۔ وہ اردو اور ہندی کی معروف مصنفہ افسانہ نگار مزاح نگار مترجم ماہر تعلیم اور بچوں کے ادب کی اہم تخلیق کار تھیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کی ادبی زندگی اور تخلیقی خدمات کو یاد کرنا اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے بچوں کے ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے نئی نسل کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کا وسیلہ بنایا۔
بچوں کی ننفسیاتی کیفیت سےحقوق تک
بانو سرتاج نے بچوں کے لیے کہانیاں ناول یک بابی ڈرامے نظمیں مضامین اور لوک کہانیاں تحریر کیں۔ ان کی تحریروں میں بچوں کی عمر ان کی نفسیاتی کیفیت ان کے ذاتی مسائل ان کے حقوق اور ان کی دلچسپیوں کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ ان کا انداز سادہ رواں اور بیانیہ تھا جس کی وجہ سے ان کی کہانیاں بچوں کے لیے آسانی سے قابل فہم اور دل چسپ بن جاتی تھیں۔ وہ بچوں کے ذہن پر بڑوں کی دنیا مسلط کرنے کے بجائے ان کی اپنی دنیا کو سمجھنے اور اسی زبان میں ان سے بات کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ادب اطفال میں ان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے بچوں میں قومی یکجہتی حب الوطنی انسان دوستی فرض شناسی اور باہمی احترام جیسے جذبات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ان کی کہانیوں میں سچ کی فتح نیکی کی کامیابی فرض کی ادائیگی خدا کا شکر بزرگوں کا احترام اور استاد کی تعلیم کی قدر جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ بچوں کی تفریح کے ساتھ اصلاح اور اخلاقی تربیت کو شامل کرنا ان کے تخلیقی مزاج کا اہم حصہ تھا۔
بانو سرتاج کا تعلق درس و تدریس سے بھی رہا۔ وہ ماہر تعلیم کی حیثیت سے بچوں کی نفسیات اور تعلیمی ضروریات کو سمجھتی تھیں۔ یہی تجربہ ان کی ادبی تخلیقات میں بھی نمایاں ہوا۔ پانچ سال کی عمر کے بچوں سے لے کر بڑی عمر کے بچوں تک کے ذہنی فرق اور نفسیاتی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر لکھنے کی ان کی صلاحیت نے ان کے ادب کو خاص شناخت عطا کی۔وہ اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ بچوں کے لیے لکھنا آسان کام نہیں بلکہ انتہائی ذمہ داری کا کام ہے۔ ان کے نزدیک بچوں کے ادب کی زبان مختصر سادہ اور روزمرہ زندگی سے قریب ہونی چاہیے۔ مکالمے زیادہ مؤثر ہونے چاہئیں اور کہانی میں ہلکا پھلکا مزاح بھی ہونا چاہیے تاکہ نصیحت بوجھ محسوس نہ ہو۔ وہ بچوں کے ادب میں تفریح کو بنیادی شرط سمجھتی تھیں اور ان کے خیال میں اگر اسی تفریحی انداز میں کوئی اچھی بات بھی ذہن میں اتر جائے تو یہ اضافی خوبی ہے۔
بانو سرتاج بچوں کی فطری تجسس کو بھی بہت اہمیت دیتی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ بچوں کے ادب نگار کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی تحریریں تخلیق کرے جو بچوں کے تجسس کو زندہ رکھیں اور انہیں خود دریافت کرنے اور سیکھنے کی طرف راغب کریں۔ وہ بچوں کی کتابوں میں تصاویر کی ضرورت پر بھی زور دیتی تھیں تاکہ تحریر ان کے لیے مزید دل کش اور قابل فہم بن سکے۔ان کا ایک اہم تصور یہ تھا کہ بچوں کو بچوں کا ادب دیا جائے نہ کہ بڑوں کی دنیا کا بوجھ۔ ان کے نزدیک ادب اطفال کے لکھنے والے کی ذمہ داری تھی کہ وہ بچوں سے ان کا بچپن نہ چھینے بلکہ ان کے بچپن کو مزید خوب صورت بنائے۔ یہی سوچ ان کی تخلیقات میں بار بار سامنے آتی رہی۔

یادگار کہانیاں اورکتابیں
ان کی نمائندہ کہانیوں میں بڑا کون؟ بے زبان ساتھی نئی دنیا ملاپ اور بانٹتے چلو خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ پیارا بچپن ننھا فرشتہ گھمنڈ کا سر نیچا باشتے چلو ممی نہ بولی اور صوفی کی باتیں بھی ان کی بچوں کے لیے لکھی گئی اہم کہانیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کی کہانی ممی نہ بولی میں ایک چھوٹے بچے کی معصومیت اور اس کی دلچسپ حرکات کو جس انداز میں پیش کیا گیا وہ ان کی مشاہداتی صلاحیت اور بچوں کی نفسیات سے گہری واقفیت کی عکاسی کرتا ہے۔
بچوں کے لیے ان کا ناول جنگل میں منگل بھی اہم تخلیقی کاوش تھا۔ یہ ایک مہماتی اور دل چسپ ناول تھا جس میں بچوں کی دلچسپی کو برقرار رکھتے ہوئے کہانی کے ذریعے مختلف جذبات اور اقدار کو اجاگر کیا گیا۔ ان کی کتاب پکیا اور پری چھم بھی بچوں کے ادب میں ان کی تخلیقی شناخت کا اہم حوالہ رہی۔بانو سرتاج کی تخلیقی دنیا صرف بچوں کی کہانیوں تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے یک بابی ڈرامے ناول نظمیں معلوماتی مضامین اور افسانے بھی لکھے۔ ان کی افسانہ نگاری میں سماجی رشتوں انسانی مسائل اور معاشرتی رویوں کی عکاسی ملتی ہے۔ انہوں نے مراٹھی سے اردو میں تراجم بھی کیے اور اردو ہندی اور مراٹھی کے مختلف تہذیبی ماحول کو اپنے ادبی تجربے کا حصہ بنایا۔
قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبات
بانو سرتاج نے بچوں کے ادب کے ذریعے قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبات کو فروغ دینے کی جو کوشش کی وہ ان کی ادبی وراثت کا اہم حصہ ہے۔ ان کے نزدیک بچے مستقبل کے شہری تھے اور ان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت معاشرے کی تعمیر سے براہ راست وابستہ تھی۔ اسی لیے ان کی کہانیوں میں بچوں کے حقوق ان کے ذاتی مسائل ان کی نفسیاتی پیچیدگیاں اور ان کی سماجی ذمہ داریاں بھی جگہ پاتی ہیں۔انہوں نے بچوں کے ادب کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ہمرٹھے میاں کی لکڑیاں 2006 میں منظر عام پر آیا۔ ان کی شاعری میں بچوں کے لیے محبت شفقت اور ممتا کا جذبہ نمایاں تھا۔ بچوں سے ان کی فطری انسیت نے ان کی نظموں کو بھی ایک خاص اپنائیت عطا کی۔
بانو سرتاج کی ادبی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی شاید یہی تھی کہ انہوں نے بچوں کے لیے لکھتے ہوئے اپنے اندر کے بچے کو زندہ رکھا۔ وہ بچوں کی حیرت تجسس خوشی اور شوخی کو سمجھتی تھیں۔ ان کی تحریروں میں یہی کیفیت محسوس ہوتی تھی۔ وہ بچوں کو محض سبق دینے کے بجائے ان کے ساتھ چلنے اور ان کی دنیا کو ان کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتی تھیں۔اردو ادب میں بچوں کے لیے لکھنے والی خواتین کی ایک طویل روایت رہی ہے اور بانو سرتاج اسی روشن سلسلے کی اہم کڑی تھیں۔ قرۃ العین حیدر عصمت چغتائی صالحہ عابد حسین کشور ناہید اور دیگر خواتین قلم کاروں کی طرح انہوں نے بھی ادب اطفال کی دنیا کو اپنی تخلیقات سے مالا مال کیا۔
بانو سرتاج نے بچوں کے ادب کے ساتھ اپنی وابستگی کو عملی زندگی میں بھی برقرار رکھا۔ وہ بچوں اور بچوں کے ادب سے متعلق ادبی اجتماعات کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کرتی رہیں۔ آگرہ یونیورسٹی کے پروگرام ہوں یا مہاراشٹر کی ادبی سرگرمیاں۔ دہلی کی کانفرنسیں ہوں یا کانپور کے پروگرام۔ بچوں اور ادب اطفال سے متعلق سرگرمیوں میں ان کی دلچسپی ہمیشہ نمایاں رہی۔ان کی تخلیقات میں ہندوستان کی مختلف تہذیبوں زبانوں اور علاقائی ماحول کی جھلک بھی ملتی ہے۔ مختلف جغرافیائی اور ثقافتی تجربات سے وابستگی نے ان کے ادب کو وسعت دی۔ ان کی زبان بچوں کے قریب رہی جبکہ اسلوب میں سادگی اور دل کشی نمایاں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانی پڑھتے ہوئے قاری کو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی ہم عمر ساتھی اس سے گفتگو کر رہا ہو۔
بروزجمعرات13 اگست 2026 کو ان کے انتقال کے ساتھ ایک ادبی عہد کا اہم باب اختتام پذیر ہوا۔ تاہم بانو سرتاج کی کہانیاں ان کے بعد بھی بچوں کے ساتھ گفتگو کرتی رہیں گی۔ ان کے کردار ان کے موضوعات اور ان کی سادہ دل نشیں زبان نئی نسل کو یہ احساس دلاتی رہے گی کہ بچوں کا ادب محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی ذہنی تشکیل کا وسیلہ بھی ہے۔ڈاکٹر بانو سرتاج اب ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن بچوں کے ادب میں ان کی آواز باقی ہے۔ ان کی تحریروں میں محفوظ بچپن ان کی سب سے قیمتی ادبی میراث ہے اور یہی میراث انہیں اردو ادب کی تاریخ میں دیر تک زندہ رکھے گی۔