سائیکولوجسٹ سے مشورہ لینا صرف ذہنی مریضوں تک محدود نہیں ماہر نفسیات جاسندہ میر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 18-02-2026
سائیکولوجسٹ سے مشورہ لینا صرف ذہنی مریضوں تک محدود نہیں ماہر نفسیات جاسندہ میر
سائیکولوجسٹ سے مشورہ لینا صرف ذہنی مریضوں تک محدود نہیں ماہر نفسیات جاسندہ میر

 



سری نگر : آواز دی وائس

سائیکولوجسٹ سے مشورہ لینا صرف ذہنی مریضوں تک محدود نہیں بلکہ ہر انسان کو زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

کشمیر کی معروف ماہر نفسیات جاسندہ میر نے کشمیر میں ڈپریشن اور حد سے زیادہ سوچنے کے بڑھتے ہوئے معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ خاص طور پر نوجوان اس مسئلے سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ان کے مطابق اس کی بڑی وجوہات ذہنی دباؤ غیر یقینی صورتحال تعلیمی دباؤ بے روزگاری اور سماجی تنہائی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ذہنی صحت سے جڑی بدنامی کو ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ساتھ ہی انہوں نے بروقت کاؤنسلنگ اور پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی پر بھی زور دیا

پاگل پن نہیں

ماہر نفسیات نے واضح کیا کہ کاؤنسلنگ کا مطلب پاگل پن نہیں۔ انسان اپنی زندگی کے مسائل کو خود غیر جانبدار ہو کر نہیں دیکھ سکتا۔ جیسے تصویر کے فریم کے اندر موجود شخص پوری تصویر نہیں دیکھ پاتا۔ اس کے لیے باہر سے دیکھنے والا ضروری ہوتا ہے۔ یہی کردار ایک کاؤنسلر ادا کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا گیا کہ ڈپریشن مردوں اور عورتوں دونوں میں پایا جاتا ہے۔ عام طور پر خواتین اپنے جذبات کا اظہار کر لیتی ہیں جبکہ مرد دباؤ کو اپنے اندر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مردوں میں ذہنی دباؤ کے ساتھ جسمانی بیماریاں بھی زیادہ دیکھنے میں آتی ہیں۔

محبت اور ڈپریشن

نوجوانوں میں محبت اور بریک اپ کے بعد ڈپریشن کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ ماہر کا کہنا تھا کہ رشتے زندگی کا ایک حصہ ہیں مگر پوری زندگی نہیں۔ اگر انسان اپنی تمام جذباتی سرمایہ کاری ایک ہی رشتے میں کر دے تو اس کے ختم ہونے پر شدید ذہنی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ زندگی کے دیگر پہلوؤں میں توازن رکھنا ضروری ہے۔سوشل میڈیا کے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلسل منفی مواد دیکھنا ذہنی صحت پر برا اثر ڈالتا ہے۔ سوشل میڈیا ذہن کے لیے غذا کی طرح ہے۔ جیسا مواد دیکھا جائے گا ویسا ہی اثر ذہن پر پڑے گا۔ موازنہ اور لت بھی اینگزائٹی اور ڈپریشن کو بڑھا دیتی ہے۔

ڈپریشن کسی ایک عمر تک محدود نہیں۔

 بچے نوجوان بالغ اور بزرگ سب اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہر عمر میں اس کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔ اگر چودہ دن تک علامات ظاہر ہوں تو فوراً ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ مسئلہ خود بخود ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا جاتا ہے۔خاندان اور اساتذہ کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا گیا۔ گھریلو تنازعات بچوں کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اساتذہ بچوں کے رویے اور کارکردگی میں آنے والی تبدیلیوں کو بروقت پہچان سکتے ہیں اور والدین کو آگاہ کر سکتے ہیں۔

سائیکوتھراپی سے ایک عورت کا اپنی ساس کے ساتھ تعلق مکمل طور پر بدل گیا اور نفرت دوستی میں تبدیل ہو گئی۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ درست علاج سے زندگی بدل سکتی ہے۔مذہب اور ذہنی صحت کے تعلق پر گفتگو میں کہا گیا کہ مذہبی عبادات اگر درست انداز میں اپنائی جائیں تو یہ ڈپریشن کے علاج میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ مگر صرف روحانی طریقوں پر انحصار کر کے طبی علاج کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔آخر میں ماہر نے کہا کہ ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سائیکوتھراپی صرف باتیں نہیں بلکہ عمل کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر انسان دی گئی ہدایات پر عمل کرے تو بہتر اور متوازن زندگی گزار سکتا ہے۔