عروہ امتیاز:بے آوازوں کی آواز

Story by   شاہ عمران حسن | Posted by  Shah Imran Hasan | 1 Years ago
عروہ امتیاز

 

آواز دی وائس، سری نگر


قدرت جب انسان سے اس کی ایک حسی صلاحیت چھین لیتی ہے تو دوسری متعدد صلاحیتیں اس کے اندر پیدا کردیتی ہے، یہ ایک نفسیاتی پہلو ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ جسم کے کسی حصے سے معذور افراد بھی متعدد کارنامے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اس کی مثالیں ہماری زندگی میں ہمہ وقت آتی رہتی ہیں، آئیے اسی سلسلے کی ایک کڑی، ایک کہانی جموں و کشمیر سے بھی سنتے ہیں۔

جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سے تعلق رکھنے والی 17 برس کی عروہ امتیاز ان دنوں معذور کھلاڑیوں کی آواز بن کر ابھری ہیں۔

عروہ امتیاز گونگے اور بہرے کھلاڑیوں کے دل کی دھڑکن بنی ہوئی ہے، اگرچہ ابھی اس کی عمر محض 17 برس ہے۔ عروہ امتیاز فی الوقت گیارہویں جماعت کی طالبہ ہے اور وہ گذشتہ پانچ برسوں سے گونگے اور بہرے کے بیچ کام کرتی آ رہی ہے۔

وہ سری نگر کے نوگام علاقے میں اپنے والدین کے ہمراہ رہ کر اپنی تعلمی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ انہیں اپنے اہل خانہ سے بہرے اور گونگے افراد سے بات کرنے کا تجربہ ملا۔ اس کی ماں، خالہ اور مامی سب کے سب معذور ہیں۔۔۔۔ وہ کہتی ہیں کہ ان لوگوں کی بات چیت کے لئے جدوجہد کو دیکھ کر ان کے اندر بھی یہ جذبہ پیدا ہوا کہ وہ ان کے لیے کام کریں۔

عروہ امتیاز کہتی ہیں کہ "بہرے اور گونگے سے بات چیت کرنے کا فن میں نے اپنی والدی سے سیکھا کیوں کہ وہ خود بھی معذور ہے۔'' انہوں نے مزید کہا ، "جب میں اپنی والدہ کے اشاروں کو سمجھ کر ان کا کام کرنے لگی تو مجھے ان مسائل سے دوچار دیگر لوگوں کوسمجھنے اور ان کے ساتھ بات چیت کرنا آسان ہوگیا۔"

انھوں نے اپنے اس فن کی بدولت 300 سے زائد گونگے اور بہرے کھلاڑیوں کو ان کا جائز مقام دلانے کا سبب بن گئی ہیں، آج ان کی بدولت یہ سارے کھلاڑی اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔۔۔۔ انھوں نے کہا کہ میں ان کے لئے مترجم کا کردار ادا کرتی ہوں۔ انہیں یہ سمجھاؤ کہ وہ دوسرے لوگوں سے کیا سیکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ میں انھیں کھیل کے قواعد اور دوسرے پروٹوکول سے سب کچھ سمجھانے میں ان کی مدد کرتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہرے اور گونگے کھلاڑیوں کی مدد کرنے کا خیال اس وقت آگیا جب انہیں پتہ چلا کہ ان کے ماموں نے معذور افراد کے لیے کام کر رہے ہیں اور وہ بھی اس لیے کر رہے ہیں تاکہ معذور افراد کو ان کی معذوری ان پرگراں نہ گزرے۔

وہ کہتی ہیں کہ میرے ماموں پہلے ہی بہرے اور گونگے لوگوں کی مدد کر رہے تھے اور جب میں ایسے لوگوں کو تعلیم دیتے یا ان کی مدد کرتے دیکھا تو میرے اندر بھی ان کی مدد کا جذبہ ابھرا۔ اور اس طرح کے سیشنوں کے دوران ہی میں نے اشاروں کی زبان سیکھی دوسروں کو بھی سیکھانا شروع کیا۔

عروہ امتیاز اب ان کھلاڑیوں کے ہمرا ملک کے مختلف حصوں کے علاوہ بیرون ممالک کے بھی اسفار کرتی رہتی ہیں اور ان معذور کھلاڑیوں کی ترجمان کے طور پر کام کرتی ہیں۔

عروہ امتیاز کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ معذور کھلاڑیوں کے ساتھ معامالات کرنے اور انہیں کوئی بات سمجھانے میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے وہ کہتی ہیں کہ ان کی ممکن مدد کی جائے کیوں کہ وہ مدد کے مستحق ہیں۔

وہیں وہ کہتی ہیں کہ میں ان کھلاڑیوں کی باتوں کو اچھی طرح سمجھتی ہوں اور وہ اپنے ہر مسئلے کو مجھ سے اشارے میں بیان کرتے ہیں۔

عروہ کا کہنا ہے کہ معذور افراد اپنی مشکلات مجھ سے بانٹتے ہیں، مجھے اپنے گھر لے جاتے ہیں اور مجھ کو گھر کے لوگوں سے بات کرنے اور ان کو سمجھانے کے لئے کہتے ہیں۔'' عروہ کہتی ہیں کہ معذور افراد کی زندگی آسان نہیں ہوتی ، انہیں اپنی زندگی میں بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں ان کے اہل خانہ کی معاشی پستی بھی شامل۔ عروہ کا خیال ہے کہ معذوری ایک اہم مسئلہ ہے۔ سماج کے اندر معذور افراد کی ہمت افزائی نہیں کی جاتی ہے، جو انتہائی غلط بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ بچپن میں میری والدہ کو اپنی معذوری کی وجہ سے مذاق اڑایا گیا ہے اور لوگ بار بار پریشان کرتے تھے۔ یہ ہمارے معاشرے کا سب سے تباہ کن پہلو ہے۔

مجھے امید ہے کہ ایک دن میں کامیاب ہو جاوں گی اور میرے اہل خانہ کو مجھ پر فخر ہوگا کہ میں دوسروں کی مدد کر رہی ہوں۔

عروہ امتیاز کا کہنا ہے کہ معذور افراد کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ یہاں کوئی ان کی مدد کرنے کے لیے نہیں تیار نہیں ہوتے ہیں۔

اب تک عروہ امتیاز کی کوششوں کے نتیجے میں تقریباً 300 سے زائد افراد تربیت پا چکے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ جس وقت بھی میری ضرورت ہو، میں ہمیشہ ہر ایسے لوگوں کی مدد کے لیے تیار ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں عروہ بہت سارے لوگوں کے لئے تحریک بن رہی ہیں اور دیگر افراد بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں۔