سری نگر : لکھنا سرنگ کے اندر سفر کرنے جیسا عمل ہے۔ تخلیق سے پہلے اور اس کے بعد کی دنیا بالکل مختلف ہوتی ہے۔ کوئی بھی فن پارہ پڑھنے یا لکھنے کے بعد ہم وہ نہیں رہتے جو پہلے تھے۔
یہ اظہارِ خیال شاعر اور افسانہ نگار خورشید اکرم نے چنار بک فیسٹیول کے پانچویں دن سری نگر میں منعقدہ خصوصی مذاکرے "میرا تخلیقی سفر: مصنفین سے ملاقات" کے دوران کیا۔ جس میں معروف فکشن نگار پروفیسر خالد جاوید اور شاعر، افسانہ نگار و مدیر خورشید اکرم بطور پینلسٹ شریک ہوئے۔ مذاکرے کی نظامت ڈاکٹر فیضان الحق، ریسرچ اسسٹنٹ، این سی پی یو ایل نے کی۔
اس موقع پر دونوں ممتاز قلمکاروں نے اپنے تخلیقی سفر، ادبی تجربات اور فکری رجحانات پر تفصیل سے گفتگو کی۔ ساتھ ہی ان کی تخلیقات کے حوالے سے سامعین اور منتظمین کی جانب سے کیے گئے مختلف سوالات کے مدلل اور دلچسپ جوابات بھی دیے۔
پروفیسر خالد جاوید نے اپنے ادبی سفر کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پہلی تخلیق دس سے بارہ برس کی عمر میں منظر عام پر آ گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تخلیق کار نہایت حساس ذہن کا مالک ہوتا ہے اور یہی حساسیت اسے مسلسل بے چین رکھتی ہے۔ یہ بے چینی مختلف سطحوں پر تخلیقی عمل کو مہمیز دیتی ہے اور تخلیق کار کو ایک ایسی داخلی دنیا میں لے جاتی ہے جو عام زندگی سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی کہانی کی تخلیق کے بعد وہ طویل عرصے تک اسی کی کیفیت میں رہتے ہیں، تاہم زندگی کی مصروفیات اور روزمرہ کے مسائل انہیں دوبارہ حقیقت کی دنیا میں واپس لے آتے ہیں۔

اپنی تحریروں میں موجود تاریکی، دھند اور خوف کی فضا کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں پروفیسر خالد جاوید نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی چیز مکمل طور پر حقیقی یا مکمل طور پر خوبصورت نہیں ہے۔ خوبصورتی اور بدصورتی کے معنی اکثر ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں، جبکہ حقیقی خوبصورتی صرف خدا کی ذات میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو دیکھنے کا یہی ان کا ذاتی زاویۂ نظر ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی حقیقت ایک بار منکشف ہو جائے تو اس کا بار بار اظہار کرنا کوئی عیب نہیں، کیونکہ وہ تخلیق کے عمل کو مراقبے سے تشبیہ دیتے ہیں جہاں ایک ہی لفظ کا مسلسل ورد کیا جاتا ہے۔
خورشید اکرم نے اپنے تخلیقی سفر کے محرکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لکھنا سرنگ کے اندر سفر کرنے جیسا عمل ہے، اس لیے تخلیق سے پہلے اور بعد کی دنیا ایک جیسی نہیں رہتی۔ ان کے مطابق کوئی بھی عمدہ فن پارہ قاری اور تخلیق کار دونوں کی شخصیت پر اثر ڈالتا ہے اور انہیں پہلے جیسا نہیں رہنے دیتا۔
انہوں نے اپنی تخلیقات میں زندگی، سماج اور فرد کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسیات اور سماجیات نے ان کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، اسی لیے ان کے نزدیک زندگی اور محبت ہر تخلیق کے بنیادی محرکات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کامیاب تخلیق کار کی اصل شناخت یہی ہے کہ وہ اپنے قارئین کے ذہن و فکر پر منفرد انداز میں اثر ڈالے۔

فکشن اور شاعری کے فرق پر اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید اکرم نے کہا کہ شاعری کرنا کشتی کے ذریعے دریا پار کرنے کے مترادف ہے جبکہ افسانہ لکھنا تیر کر دریا عبور کرنے جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری کی زبان اپنے مرکز سے نسبتاً زیادہ آزاد ہوتی ہے اور ہر موضوع خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ کس صنف میں بہتر انداز سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ افسانے کے ساتھ ساتھ نظمیں بھی لکھتے رہے ہیں۔
مذاکرے کے اختتام پر منعقدہ انٹریکٹو سیشن میں سامعین نے دونوں ادیبوں سے ادب، تخلیقی عمل اور مطالعے سے متعلق متعدد سوالات کیے۔ پروفیسر خالد جاوید اور خورشید اکرم نے نہ صرف ان سوالات کے تفصیلی جواب دیے بلکہ اچھی تخلیق اور بامقصد مطالعے کے حوالے سے بھی اہم رہنمائی فراہم کی۔