دنیا کا سب سے اونچا ریل پل:جو کشمیر کوکنیا کماری سے ملا دے گا

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 29-08-2023
 دنیا کا سب سے اونچا ریل پل:جو کشمیر کوکنیا کماری سے ملا دے گا
دنیا کا سب سے اونچا ریل پل:جو کشمیر کوکنیا کماری سے ملا دے گا

 



منصور الدین فریدی : نئی دہلی 

کشمیر تک ریل کا سفر ۔۔۔ ایک خواب تھا جو اب حقیقت بن رہا ہے ۔ جس کو حقیقت بنانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے  دنیا کا سب سے اونچے 'چناب ریلوے برج' نے۔ یہ ایک مشن تھا،انجینیئرنگ کا عجوبہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ کیونکہ یہ پروجیکٹ حالیہ تاریخ میں ہندوستان میں کسی بھی ریلوے منصوبے کو درپیش یہ سب سے بڑا سول انجینئرنگ چیلنج رہا مگر ملک نے اس کو پورا کرکے دنیا کو دکھا دیا کہ مشکل سے مشکل کام کو ممکن کیا جاسکتا ہے۔ 

دراصل  111 کلومیٹر کا ٹریک مکمل ہو جانے کے بعد سری نگر جانے والی ٹرین بغیر کسی رکاوٹ کے کنیا کماری پہنچ جائے گی۔ریلوے کے اس قومی منصوبے کو سال 2002 میں منظوری دی گئی تھی اس ریلوے منصوبے کی بارہمولہ سے ادھم پور تک 272 کلومیٹر کی لمبائی ہے جو وادی کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑتا ہے۔ جبکہ 25 کلومیٹر طویل ادھم پور - کٹرا سیکشن جولائی 2014 میں شروع کیا گیا تھا جو مکمل کیا جاچکا ہے ۔ جبکہ 118 کلومیٹر طویل قاضی گنڈ-بارہمولہ سیکشن اکتوبر 2009 میں شروع کیا گیا تھا۔ اسی طرح ریلوے ٹریک پر پُل تقریباً 1,400 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔

اپریل 2021 میں چناب ریل پل کی محراب مکمل ہوئی اور مجموعی طور پر پل اگست 2022 میں مکمل ہوجائے گا۔ توقع ہے کہ یہ دسمبر 2023 تک یا جنوری/فروری 2024 تک ریل ٹریفک کے لیے کھل جائے گا۔

فن تعمیر کا نمونہ ہے

کشمیر ریل پروجیکٹ‘ بالخصوص دریائے چناب پر آرچ کی تنصیب کو انجینیئرنگ کا چمتکار یعنی معجزہ مانا جارہا ہے۔ آرچ کی تنصیب ہندوستان کی حالیہ تاریخ میں سول انجینیئرنگ کا اب تک کا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ آرچ کے سب سے اوپری حصے میں 5.6 میٹر کا ٹکڑا دونوں جانب بیچ میں جوڑا گیا ہے جس سے دریا کے دونوں کناروں پر آرچ کی تنصیب مکمل ہو گئی ہے۔ آرچ کی تنصیب کے بعد اب کیبلز کو ہٹانے، پہلوؤں میں کنکریٹ بھرنے اور بالآخر ریلوے لائن بچھانے کا کام مکمل کیا جائے گا۔ آرچ چناب بریج کا سب سے اہم حصہ ہے کیونکہ ریل گاڑی چلنے کے دوران اس کا پورا وزن یا بوجھ یہی آرچ ہی برداشت کرے گی۔

پل 1315 میٹر طویل

 اس 1315 میٹر طویل اس برج کو تعمیر کرنے میں  دس سال لگ گئے۔ دریائے چناب پر تعمیر ہونے والا یہ ریل برج ادھم پور – سرینگر – بارہمولہ ریل لنک پروجیکٹ کا ایک حصہ ہے۔ یہ برج چناب کے گہری کھائیوں کو پار کرنے کے لیے تیار کیا گیاہے۔اس برج کے میں محراب کی لمبائی 467 میٹر ہے۔ اس برج کی اونچائی دریا کی سطح آب سے 359 میٹر ہے جو ایفل ٹاور سے 35 میٹر اونچا ہے۔ یہ برج قریب ڈیڑھ کلو میٹر طویل ہے اور اس کے دونوں طرف اسٹیشن ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹیل محرابوں سے بنائے جا رہے اس برج کو 'بلاسٹ پروف' بنایا جا رہا ہے۔

ایک مشن ہے ۔۔۔

کشمیر کو ریل سے ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے کے لیے ہندوستانی ریلویز 27 ہزار 949 کروڑ روپے کی لاگت سے 272 کلو میٹر طویل ریل لائن بچھا رہا ہے جس کے لیے 927 پل اور 38 سرنگیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ یہ ریل لائن چار حصوں، ادھم پور – کٹرا، کٹرا – بانہال، بانہال – قاضی گنڈ اور قاضی گنڈ – بارہمولہ پر محیط ہے۔ ادھم پور سے کٹرہ کے 25 کلو میٹر، بانہال سے قاضی گنڈ کے 18 کلو میٹر اور قاضی گنڈ سے بارہمولہ کے 118 کلو میٹر کے تین حصوں پر ریل لائن بچھائی جا چکی ہے ۔ تاہم کٹرا سے بانہال کے 111 کلو میٹر کے دشوار گزار حصے، جو ہمالیائی پہاڑی سلسلہ پر محیط ہے، پر ریل لائن بچھانے کا کام جاری ہے۔ اس حصے کے 97 کلو میٹر سرنگوں پر مشتمل ہوں گے۔

سال 1990 کی دہائی میں وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے کشمیر تک ریل لائن بچھانے کے پروجیکٹ کا اعلان کیا تھا 

سال 2002 میں اٹل بہاری واجپائی نے اسے ’قومی پروجیکٹ‘ قرار دیا تھا

 

کیا ہے پل میں خاص

یہ پل 1315 میٹر طویل ہوگا۔

یہ دنیا کا سب سے اونچا ریلوے پل ہوگا جو دریا کی سطح سے 359 میٹر اونچا ہوگا۔

یہ فرانس کے شہر پیرس میں واقع ایفل ٹاور سے 35 میٹر اونچا ہوگا۔

اس پل کی تعمیر میں 28 ہزار 660 میٹرک ٹن سٹیل کا استعمال ہوگا۔

اس کی تعمیر پر 1486 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔

اس کے ستونوں کی تعداد 17 ہوگی۔

تنصیب شدہ آرچ کا وزن 10 ہزار 619 میٹرک ٹن ہے۔

ڈھانچے میں استعمال کی جانے والی سٹیل منفی 10 ڈگری سیلسیس سے لے کر منفی 40 ڈگری سیلسیس تک کے درجہ حرارت کے لیے موزوں ہے۔

پل کی کم از کم عمر 120 سال ہوگی۔

یہ پل 100 کلو میٹر کی رفتار سے چلنے والی ریل گاڑی کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

اس پل میں 266 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلنے والی ہواآں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہوگی۔

اس پل میں دھماکے کا لوڈ برداشت کرنے کی صلاحیت ہوگی۔

اس پل کو شدید زلزلے میں قائم رہنے والا بنایا جائے گا۔

  یہ پل 1315 میٹر لمبا ہے اور یہ دنیا کا سب سے اونچا ریلوے برج ہے جو دریا کی سطح سے 359 میٹر بلندی پر ہے۔ یہ پیرس (فرانس) کے مشہور ایفل ٹاور سے 35 میٹر اونچا ہے۔

 پل کی تعمیر میں 28،660 میگا ٹن اسٹیل ، 66،000 کلو گرام کنکریٹ  لگا ہے۔

آرچ اسٹیل باکسوں پر مشتمل ہے۔ استحکام کو بہتر بنانے کے لئے کنکریٹ کو آرک کے خانوں میں پُر کیا جائے گا۔ آرچ کا مجموعی وزن 10،619 کلو گرام ہے۔

ہندوستانی ریلوے پر اوور ہیڈ کیبل کرینوں کے ذریعہ محراب کے ممبروں کی تعمیر کا کام پہلی بار کیا گیا ہے۔جس کےلیے انتہائی پیچیدہ ‘ٹیکلا’ سافٹ ویئر کو ساختی تفصیلات کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔

پل کی آزمائش 
 
 دریائے چناب کے اوپر زیر تعمیر بلند ترین ریلوے ٹریک پر اس سال 22مارچ کو ایک چھوٹی ٹرین آزمائشی طور پر چلائی گئی ۔بکل سرے سے چھوٹی ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ یہ چھوٹی ریل گاڑیاں دو سال تک اس ٹریک پر چلائی جائیں گی۔ 
ہندوستانی ریلوے کے مطابق یہ پل سیسمک زون چار کے تحت آتا ہے۔ جب پل کی تعمیر 2002 میں شروع ہوئی تھی، اس پل کو ریل رابطے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا تھا۔ جب کہ اس میں کسی بھی ممکنہ دہشت گردانہ حملے کے خلاف حفاظتی اقدامات بھی ہیں، یہ پل 8 شدت کے زلزلوں اور زیادہ شدت کے جھٹکوں کو برداشت کر سکتا ہے۔دنیا کےسب سے اونچے ریلوے پل کو بنانے کے لیے تقریباً 300 انجینئرز اور 1,300 کارکنوں نے چوبیس گھنٹے کام کیا۔ اس پل کو کل 27949 کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا گیا ہے اور اس کی لمبائی 1315 میٹر ہے۔ یہ 28,660 میٹرک ٹن اسٹیل سے بنا ہے۔ پل کی کارآمد زندگی لگ بھگ 120 سال ہے۔ اس وقت کشمیر سے ریلوے لنک بنیادی طور پر ادھم پور سے کٹرا تک 25 کلومیٹر سیکشن ہے۔ اور وادی میں بانہال سے قاضی گنڈ تک 18 کلومیٹر لائن اور پھر 118 کلو میٹر قاضی گنڈ سے بارہمولہ تک ہے
 ‘تاریخی لمحے’ کی ستائش

 وزیراعظم  نریندر مودی نے ہندوستانی ریلوے کے ذریعے جموں و کشمیر میں دنیا کے سب سے اونچے ریلوے پل  یا برج ، چناب برج کی محرابی شکل کی تعمیر مکمل ہونے کی تعریف کی۔ ایک ٹوئیٹ میں جناب مودی نے کہا تھا کہ ‘‘ ملک کے ہر ایک شخص کی صلاحیت اور اعتماد آج دنیا کے سامنے ایک مثال پیش کر رہا ہے۔ یہ تعمیری کام نہ صرف جدید انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی طاقت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ سنکلپ سے سدھی کے ملک کے بدلے ہوئے ورکنگ کلچر کی بھی مثال ہے۔ اس برج کے آخری اسٹیل محراب کا کام مکمل ہونے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہاکہ 'یہ ہر ہندوستانی شہری کے لئے ایک لمحہ فخریہ ہے اور اس برج کے نظارے سے ہر ہندوستانی کے دل خوشیوں سے بھر جائیں گے۔