بودھ گیا: مگدھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر دلیپ کمار کیسری نے کہا ہے کہ اردو میں ترجمے کی ایک مستحکم اور قدیم روایت موجود ہے اور ہندی کی متعدد مذہبی اور اہم کتابوں کے اردو تراجم نے دونوں زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان قربت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے کہا کہ اچھا مترجم محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل نہیں کرتا بلکہ ترجمے کے دوران ایک تخلیقی عمل سے گزرتا ہے۔
سابق ڈائرکٹر خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ پروفیسر امتیاز احمد نے کہا کہ ترجمہ مختلف تہذیبوں اور علوم کے درمیان پُل کا کام کرتا ہے اور دنیا میں موجود فاصلوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ خیالات مقررین نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان وزارت تعلیم حکومت ہند کے اشتراک سے شعبۂ اردو مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا کے زیر اہتمام ’اردو ترجمہ نگاری: تخلیقیت روایت اور افادیت‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ قومی سمینار کے دوران ظاہر کیے۔ سمینار کا انعقاد ڈاکٹر رادھا کرشنن ہال شعبۂ تعلیم مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا میں کیا گیا۔
سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مگدھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر دلیپ کمار کیسری نے اردو کو خوب صورت دلکش اور شیریں زبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو کی تاریخ اور اس کے ارتقائی سفر میں ترجمے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندی کی بہت سی مذہبی اور اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ ہوا ہے جس سے دونوں زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان قربت پیدا ہوئی۔ انھوں نے زور دیا کہ اردو کو زیادہ سے زیادہ بول چال کے ساتھ ساتھ علمی اور ادبی سطح پر بھی فروغ دیا جانا چاہیے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے افتتاحی خطاب میں مگدھ یونیورسٹی کو علم و معرفت کی ایک اہم سرزمین قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ گوتم بدھ کی سرزمین ہے اور ایسے علمی و تہذیبی ماحول میں ترجمے جیسے اہم موضوع پر گفتگو کی خاص معنویت ہے۔
انھوں نے کہا کہ اردو میں ترجمے کی روایت نہایت قدیم اور مضبوط ہے۔ فورٹ ولیم کالج عثمانیہ یونیورسٹی دہلی کالج اور سائنٹفک سوسائٹی نے ترجمے کے میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دیں جن کے نتیجے میں اردو کے علمی اور ادبی سرمائے میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ آزادی کے بعد بھی اردو ترجمے کے میدان میں بہت کام ہوا ہے۔ ساہتیہ اکادمی نیشنل بک ٹرسٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان سمیت متعدد سرکاری ادارے مختلف اصناف اور موضوعات کی اہم کتابوں کے تراجم شائع کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ترجمہ ایک زبان کے علوم و افکار کو دوسری زبان تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے ایک خطے کی تہذیب ثقافت فکر اور علمی سرمایہ دوسرے خطے تک پہنچتا ہے۔
انھوں نے ہندوستانی علمی روایت کے حوالے سے اپنشد رامائن اور دیگر اہم متون کے تراجم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترجمہ تہذیبوں کے درمیان فاصلے کم کرتا ہے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مترجم کسی بھی طرح تخلیق کار سے کم نہیں ہے اور اسے بھی وہی علمی و ادبی احترام ملنا چاہیے جو ایک تخلیق کار کو حاصل ہوتا ہے۔ ایک اچھا مترجم دو زبانوں کے ساتھ ساتھ دو تہذیبوں دو ذہنی دنیاؤں اور دو فکری روایتوں کے درمیان بھی پُل تعمیر کرتا ہے۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے سابق ڈائرکٹر خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ پروفیسر امتیاز احمد نے ترجمہ نگاری کے اصول و مبادی اور اچھے مترجم و اچھے ترجمے کی خصوصیات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ ترجمے کا عمل نہایت چیلنج بھرا ہوتا ہے اور مترجم ایک تخلیق کو سامنے رکھ کر ایک نئی تخلیق پیش کرتا ہے۔ ترجمہ دنیا میں حائل فاصلوں کو کم کرتا ہے اور مختلف قوموں کی تہذیب و ثقافت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مترجم کو دونوں زبانوں پر عبور کے ساتھ متعلقہ موضوع اور اس کے تہذیبی پس منظر سے بھی گہری واقفیت ہونی چاہیے۔
مہمان خصوصی پاٹلی پترا یونیورسٹی پٹنہ کے رجسٹرار پروفیسر ابوبکر رضوی نے کہا کہ ترجمہ ہمیں دوسری زبانوں اور مختلف قوموں سے متعارف کراتا ہے اور اجنبیت کا پردہ چاک کرکے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترجمے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے اپنی زبان میں نئے علوم و افکار شامل ہوتے ہیں اور ہمارا ادبی و علمی سرمایہ وسیع ہوتا ہے۔
پروفیسر ابوبکر رضوی نے مصنوعی ذہانت کے درست اور ذمہ دارانہ استعمال پر بھی زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی مترجم کے لیے معاون ضرور بن سکتی ہے لیکن اس پر مکمل انحصار انسانی فہم تخلیقی صلاحیت اور زبان کی باریکیوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا کے رجسٹرار ڈاکٹر بی کے منگلم نے اردو زبان کی شیرینی دلکشی اور چاشنی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اردو ایک میٹھی زبان ہے اور اسے بولنے میں خاص لطف محسوس ہوتا ہے۔ ترجمے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اچھا ترجمہ وہ ہے جو قاری کی روح میں اتر جائے اور اسے پڑھتے ہوئے ترجمہ محسوس نہ ہو بلکہ اصل تخلیق کا تاثر ملے۔
اس سے قبل شعبۂ اردو مگدھ یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالحی نے استقبالیہ خطاب میں تمام مہمانوں اور شرکا کا خیرمقدم کیا۔ انھوں نے اردو ترجمے کی قدیم روایت اور موجودہ دور میں اس کی ضرورت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ترجمہ اردو کے علمی اور ادبی دائرے کو وسیع کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے اور ایسے سمینار اس موضوع پر سنجیدہ علمی مباحث کو فروغ دیتے ہیں۔
افتتاحی اجلاس میں ڈاکٹر شکیلہ نگار نے کلمات تشکر پیش کیے جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ضیاء اللہ انور اور ڈاکٹر ترنم جہاں نے انجام دیے۔
اس کے بعد پہلے تکنیکی اجلاس کا انعقاد ہوا جس کی صدارت ریٹائرڈ آئی جی معصوم عزیز کاظمی نے کی۔ اجلاس میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے پروفیسر مشرف علی دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ڈاکٹر ارشاد نیازی معروف فکشن نگار ڈاکٹر احمد صغیر گیا اور خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ کے ڈاکٹر محمد ذاکر حسین نے اپنے مقالات پیش کیے۔ مقررین نے اردو ترجمہ نگاری کے مختلف پہلوؤں اس کی روایت تخلیقی امکانات اور عصر حاضر میں اس کی افادیت پر اظہار خیال کیا۔
اس اجلاس کے مہمان خصوصی جگ جیون کالج گیا کے پرنسپل پروفیسر ایوب نے اردو ترجمے کی اہمیت و خصوصیت پر گفتگو کرتے ہوئے موجودہ دور میں اس کی افادیت پر روشنی ڈالی۔
صدارتی خطاب میں معصوم عزیز کاظمی نے کہا کہ ترجمہ محض الفاظ کی منتقلی نہیں بلکہ ایک زبان کے فکری اور تہذیبی مزاج کو دوسری زبان تک پہنچانے کا نام ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک کامیاب مترجم کے لیے دونوں زبانوں پر عبور کے ساتھ موضوع کی گہری سمجھ اور تخلیقی بصیرت بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹر ترنم جہاں نے کلمات تشکر ادا کیے جبکہ ڈاکٹر سمی اقبال نے اجلاس کی نظامت کی۔
بعد ازاں دوسرے تکنیکی اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں شعبۂ اردو مگدھ یونیورسٹی کے پانچ تحقیقی طلبہ نصرت رسول نازش ہاشمی نفیسہ خاتون عصمت درخشاں اور محمد نوشاد احمد نے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔ انھوں نے اردو ترجمہ نگاری کے مختلف گوشوں اس کی تخلیقی جہات روایت اور عصری امکانات کے حوالے سے اپنے تحقیقی نتائج پیش کیے۔سمینار میں اساتذہ تحقیقی طلبہ اور زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔