نئی نسل نئے سوالات اٹھائے اور تحقیق و تخلیق میں نئی راہیں تلاش کرے: پروفیسر محمد کاظم

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 31-08-2026
نئی نسل نئے سوالات اٹھائے اور تحقیق و تخلیق میں نئی راہیں تلاش کرے: پروفیسر محمد کاظم
نئی نسل نئے سوالات اٹھائے اور تحقیق و تخلیق میں نئی راہیں تلاش کرے: پروفیسر محمد کاظم

 



 نئی دہلی:آج کی نئی نسل زیادہ باخبر اور زیادہ ذہین ہے، کیونکہ اسے ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ذرائع سے وسیع تر مواقع اور تجربات حاصل ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کو صرف اس بات کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے جو استاد نے کلاس روم میں بتایا یا جو پہلے سے تحریری صورت میں موجود ہے، بلکہ انہیں نئے سوالات اٹھانے، نئے امکانات تلاش کرنے اور تحقیق و تخلیق کے میدان میں نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘ پروفیسر محمد کاظم نے یہ بات اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام جاری پانچ روزہ ادبی اجتماع ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کے تیسرے روز منعقدہ تنقیدی و تحقیقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے ریسرچ اسکالرز کی جانب سے پیش کیے گئے متنوع موضوعات اور ان کے اندازِ پیشکش کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید ذرائع نے نئی نسل کے سامنے علم کے حصول اور تجربات کے وسیع امکانات پیدا کیے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوان محققین کو روایت اور پہلے سے موجود علمی مواد تک محدود رہنے کے بجائے نئے سوالات اٹھانے اور نئے زاویے تلاش کرنے چاہئیں۔

’’نئے پرانے چراغ‘‘ کے تیسرے روز مختلف ادبی نشستوں کا انعقاد عمل میں آیا، جن میں تنقیدی و تحقیقی اجلاس، تخلیقی اجلاس اور محفلِ شعر و سخن شامل تھے۔ ان نشستوں میں ریسرچ اسکالرز، افسانہ نگاروں، ادبا اور شعرا نے اپنی علمی و تخلیقی کاوشیں پیش کیں، جبکہ سینئر اہلِ قلم نے تحقیق، تنقید، فکشن، زبان و بیان اور تخلیقی اظہار کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔

تیسرے دن کا پہلا تنقیدی و تحقیقی اجلاس صبح 10 بجے شروع ہوا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر محمد کاظم اور پروفیسر شیخ عقیل احمد نے مشترکہ طور پر کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محضر رضا نے انجام دیے۔

اجلاس میں دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے وابستہ ریسرچ اسکالرز نے اردو ادب کی مختلف شخصیات، اصناف اور موضوعات کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے اپنے تحقیقی و تنقیدی مقالات پیش کیے۔ ان مقالات میں اردو ادب کے مختلف پہلوؤں کا تحقیقی اور فکری جائزہ پیش کیا گیا۔

زین العابدین ہاشمی نے ’’ندوۃ العلوم کے اہم نثر نگار اور ان کی اہم تخلیقات‘‘، شارق محمد عزیز نے ’’پیروز ٹروپ اور سعید عالم: اردو اسٹیج کا ایک معاصر تجربہ‘‘، محمد تہلیل عالم نے ’’ماحولیاتی مطالعہ اور عصری تنقید‘‘، وپن کمار نے ’’مہا بیانیہ مہابھارت‘‘، عبیداللہ نے ’’متنبی اور غالب کی غزلیہ شاعری کا تقابلی مطالعہ‘‘، عارفہ جان نے ’’جادوئی حقیقت نگاری: معنی اور نیر مسعود‘‘، غلام وارث نے ’’رام چرن مانس میں اردو الفاظ: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘، غلام محمد نے ’’عصر حاضر میں اردو سفرناموں کی اہمیت و معنویت‘‘ اور فیضان اللہ نے ’’مراٹھی کہانیوں میں دلت سماج کی عکاسی‘‘ کے موضوع پر اپنے مقالات پیش کیے۔

مقالات کی پیشکش کے بعد پروفیسر ندیم احمد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ علمی اور شعوری سفر میں کوئی بھی شخص یا استاد کبھی پرانا نہیں ہوتا، بلکہ سیکھنے اور سکھانے کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو پرانا سمجھ لے تو اس کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔

انہوں نے اردو اکادمی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اکادمی ریسرچ اسکالرز کو ایسے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے جہاں وہ اپنی علمی صلاحیتوں کا اظہار کرنے اور خود کو منوانے کا موقع حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے مقالات کی پیشکش کے دوران بعض اسکالرز کی جانب سے الفاظ کے تلفظ میں ہونے والی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے درست تلفظ اور زبان کی صحت پر بھی زور دیا۔

پروفیسر محمد کاظم نے پیش کیے گئے مقالات کے موضوعات کو متنوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام موضوعات ایک دوسرے سے مختلف تھے اور اسکالرز کی پیشکش کا انداز بھی قابلِ تحسین رہا۔ نئی نسل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان زیادہ باخبر اور زیادہ ذہین ہیں، کیونکہ انہیں ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ذرائع سے وسیع تر مواقع اور تجربات حاصل ہوئے ہیں۔

انہوں نے نئی نسل کو تلقین کی کہ وہ صرف اس بات کو حتمی نہ سمجھیں جو استاد نے کلاس روم میں بتایا یا جو پہلے سے تحریری صورت میں موجود ہے، بلکہ نئے سوالات اٹھائیں، نئے امکانات تلاش کریں اور تحقیق و تخلیق کے میدان میں نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

پروفیسر شیخ عقیل احمد نے مقالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام موضوعات اہم اور قابلِ توجہ تھے، تاہم بڑے موضوعات پر تحقیق کرتے وقت خاص احتیاط اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرز کو مشورہ دیا کہ ایسے موضوعات پر کام کرتے ہوئے ان کے مختلف پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھیں اور جن موضوعات پر پہلے ہی بڑی تعداد میں مقالات لکھے جاچکے ہیں، ان میں کسی نئے اور نظرانداز شدہ پہلو کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کے دوران غلطیوں کا ہونا باعثِ شرم نہیں، بلکہ ایک محقق اپنی غلطیوں سے سیکھ کر ہی بہتر اور پختہ محقق بنتا ہے۔ظہرانے کے بعد تیسرے دن کا تخلیقی اجلاس دوپہر ڈھائی بجے منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر ارشاد نیازی اور ڈاکٹر خالد رضا خان نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر نثار احمد نے انجام دیے۔

تخلیقی اجلاس میں چشمہ فاروقی نے افسانہ، ڈاکٹر ناظمہ جبین نے ’’جرمِ ضعیفی کی سزا‘‘، ڈاکٹر ثمر جہاں نے ’’تتلی‘‘، غزالہ پروین نے ’’قسمت تیری ریت نرالی‘‘، ڈاکٹر راشدہ رحمان نے ’’بٹلہ ہاؤس بازار‘‘، ڈاکٹر ذہیب خان نے ’’تیسرا آدمی‘‘، محمد شاہنواز انصاری نے ’’پرانا ٹکٹ‘‘، مبینہ نے ’’کھڑکی کے اس پار‘‘، محمودہ قریشی نے ’’خوابوں کا گھر‘‘، اجالا نے ’’راجما چاول اور حالی‘‘، ڈاکٹر عقیلہ نے ’’یقین کا سفر‘‘، نور فاطمہ نے ’’لوٹا‘‘، عظمیٰ رضوان نے ’’فاصلہ‘‘، شفا فاروقی نے ’’آخری خط‘‘ اور نازیہ دانش نے ’’گردشِ ایام‘‘ جیسی تخلیقات پیش کیں۔

تخلیقی اجلاس میں پیش کی گئی تخلیقات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد رضا خان نے اردو اکادمی کے ’’نئے پرانے چراغ‘‘ پروگرام کو اپنی نوعیت کا منفرد پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے بڑی تعداد میں قلم کاروں، اسکالرز اور شعرا کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

انہوں نے تخلیق کاروں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ تخلیق پیش کرتے وقت درست الفاظ، جملوں کی مناسب ساخت اور الفاظ کے برمحل استعمال کا خاص خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ زبان کے غلط استعمال سے تخلیق کی کشش اور تاثیر متاثر ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ارشاد نیازی نے پیش کی گئی تخلیقات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے دراصل تربیت گاہ کا کام کرتے ہیں، جہاں طلبہ اور اسکالرز کی خامیوں کی نشاندہی کرکے ان کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ تاہم جب کوئی تخلیق کار اسٹیج پر اپنی تخلیق پیش کر رہا ہو تو وہاں اس کی اصلاح یا گرفت کے بجائے اس کے اظہار اور حوصلہ افزائی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

فکشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کہانی میں سب سے اہم چیز انفرادیت ہے اور یہ انفرادیت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب تخلیق کار کو کہانی بُننے کا فن آتا ہو اور وہ اپنی کہانی کو مؤثر انداز میں تشکیل دینا جانتا ہو۔

ڈاکٹر عبدالعزیز نے کہا کہ ایک اچھی کہانی وہی ہے جو قاری کو پڑھنے کے بعد سوچنے پر مجبور کرے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو تین دہائیوں کی کہانیوں میں محاورات، تشبیہات اور استعارات کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نثر کی فکری گہرائی بھی متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے اچھی کہانی کے لیے کہنے کے سلیقے اور الفاظ کے محتاط و کفایت شعار استعمال کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے تخلیق کاروں کو مشورہ دیا کہ کہانی لکھتے وقت کرداروں کے حالات اور نفسیات کو پیشِ نظر رکھا جائے اور اپنی تخلیق سے جذباتی وابستگی کے بجائے ایک سرجن کی طرح اس میں ضروری کاٹ چھانٹ اور اصلاح کی جائے، تاکہ تخلیق زیادہ مؤثر اور پختہ بن سکے۔

تخلیقی اجلاس کے بعد شام چھ بجے محفلِ شعر و سخن کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت پروفیسر خالد محمود نے کی جبکہ نظامت کے فرائض عرفان اعظمی نے انجام دیے۔ محفل میں شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور ادبی اجتماع کی فضا کو مزید خوشگوار اور بامعنی بنا دیا۔

پانچ روزہ ’’نئے پرانے چراغ‘‘ اجتماع کے تیسرے روز ہونے والی سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ اردو ادب میں نئی نسل کی شمولیت، تحقیق کے نئے زاویوں کی تلاش اور تخلیقی اظہار کے لیے ایسے پلیٹ فارم نہایت اہم ہیں، جہاں تجربہ کار اہلِ علم کی رہنمائی کے ساتھ نوجوان قلم کاروں اور محققین کو اپنی صلاحیتیں سامنے لانے کا موقع مل سکے