نئی دہلی/آواز دی وائس
قرآن پاک جس نے زندہ قوموں کے لیے ایک انقلاب آفریں قوت کے بطور کام کیا تھا جس نے اخلاقی کردار کی تعمیر و تشکیل کی تھی اورمعاصی کے خلاف ایک ڈھال بنا تھا آج اسے صرف مردوں کے حق میں ایصال ثواب کے لیے پڑھی جانے والی کتاب بنادیا گیا ہے۔
جامع ملی اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر اصف نے 'قرآن اور سائنس' کے موضوع پرایک سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں ان خیالات کا اظہار کیا انہوں نے مزید کہا کہ بنی نوع انساں کی حقیقی فلاح قرآن مجید کی تفہیم میں ہے،اس پر غور و فکر میں ہے اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں ہے مگر افسوس ایسا نہیں ہو رہا ہے
شعبہ اسلامیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اور ولایت فاؤنڈیشن اور شاہد بہشتی یونیورسٹی، تہران کے اشتراک سے 'قرآن اور سائنس' کے موضوع پرایک سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ اسے سمجھ کراور غور وفکر کے ساتھ پڑھ کر ایک مرتبہ پھر قرآن کو زندگی کا اسوہ بنایا جائے،دلوں میں اسے بسایاجائے، اس کی تعلیمات کوکرداروں میں ڈھالا جائے او ر اسے انفرادی و اجتماعی زندگی کی روح قرارد یا جائے۔" انہوں نے مزید کہاکہ'مذہب کی حقیقی روح اس بات کو یقینی بنانے میں مضمر ہے کہ ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کو اپنی گفتگو سے،اپنے معاملے اور سلوک سے اور اپنے اعمال سے نقصان نہ پہنچائے
.webp)

پروگرام کے مہمان اعزازی پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور سائنس دونوں ہی ایک ہی منبع صداقت یعنی قادر مطلق اللہ کی طرف انسان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ قرآن بنیادی رہنما اصول فراہم کرتا ہے جبکہ سائنس ان اصولوں کو سمجھنے کے ذرائع مہیا کرتی ہے اور ان کی تشریح و توضیح کرتی ہے۔
مہمان ذی وقار پروفیسر ڈاکٹر جامیلیح علام الہدی (سابق فرسٹ لیڈی آف ایران) نے اپنی گفتگو میں زوردیاکہ یہ نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا رشتہ قرآن سے مستحکم کریں کیوں یہی وہ واحد وسیلہ ہے جو فکری سلامتی اور عملی کامیابی کے راہیں ہموار کرتاہے۔ ایرانی سفیر برائے ہندوستان ڈاکٹر محمد فتالی نے کہاکہ قرآن کے معانی و مفاہیم اور اس کے پیغام کو سمجھتے ہوئے پڑھنا بہت اہم ہے کیوں کہ بہت سی آیات ہیں جو واضح طور پر انسانیت کو غور و فکر،مشاہدہ اور قرآن کی گہری حکمت تک رسائی کی جانب رہنمائی کرتی ہیں۔
مہمان ذی وقار ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندہ پروفیسرعبدالمجید حکیم الہی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ دورکے پیچیدہ سائنسی اور سماجی مسائل اور چیلنجیز نے ہم میں یہ احساس پید اکیا ہے کہ قرآن کا مقصد انسانی فہم و شعور کو بیدارکرنا اور بنی نوع انسانی کو کائنات کی تخلیق کی تہہ میں پوشیدہ حکمت کے زیادہ قریب لانا ہے
.webp)

مہمان ذی وقارانجینئر مصطفی عباس(کویت) نے کہاکہ قرآن، انسانی ذہن و دل کو مسلسل غور و فکر، مشاہدے اور غورو خوض میں منہمک رہنے کو کہتا ہے کہ تاکہ کائنات کے رازہائے سربستہ کو محکم بنیادوں پر سمجھا اور سمجھایا جاسکے۔ سید کلب جواد نقوی نے کہاکہ سائنس کو قرآن کا تابع نہ بنایا جائے بلکہ سائنس کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے،یہی وہ واحد نسخہ ہے جو صائب علمی اپروچ کی تشکیل کرتاہے۔
پروگرام کے مہمان خصوصی پروفیسر مہتاب عالم رضوی مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی تقریر میں کہاکہ قرآن پاک کی متعدد آیا ت میں انسانی توجہ کو مختلف سائنسی حقائق کو مبذول کرایا ہے جیسے پانی کی ایجاد، کائنات کے بسیط ہونے،مٹی سے انسان کے پیدا ہونے،جنت کو برقرار رکھنے والے نظام اور دودریاؤں کے پانی کو آپس میں ملنے سے رو کاٹ کے متعلق۔یہ جملہ نشانیاں اس حقیقت کو پایہ ثبوت تک پہنچاتی ہیں کہ ْقرآن صرف کتاب ہدایت نہیں بلکہ یہ بنی نوع انساں کو کائنات کو منضبط کرنے والے سائنسی رہنما اصولوں کی جانب بھی رہنمائی کرتی ہے۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدرآباد کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اسلم پرویز نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ 'قرآن اور سنت ہمیں بتاتے ہیں کہ محبت صرف الفاظ اور دعووں کا نام نہیں بلکہ عمل سے ظاہر ہونے والی حقیقت ہے۔اسی طرح قرآن یہ اصول بھی پیش کرتاہے کہ اضافی دولت نیکی کی راہ میں خرچ ہونی چاہیے تاکہ انسانیت کو فیض پہنچے اور معاشرے میں توازن برقرار رہے۔"
.webp)
کانفرنس کے ڈائریکٹر اور صدر شعبہ اسلامیات اور ڈین فیکلٹی آف ہیو منی ٹیز اینڈ لنگویجیز جامعہ ملیہ اسلامیہ،پروفیسر اقتدار محمد خان نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ قرآن، انسانیت کواس بات کی دعوت دیتی ہے کہ ذہنی و عملی زندگی کو بہتر سے بہتربنانے کے لیے کائنات میں بکھری نشانیوں اور علامتوں میں پوشیدہ حکمت و دانائی کا گہری بصیرت اور صحیح عقل کے ساتھ مشاہدہ کرے،ان پر غور و فکر کرے۔
پروگرام کے مہمان اعزازی پروفیسر اختر الواسع نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن او رسائنس دونوں ہی ایک ہی منبع صداقت یعنی قادر مطلق اللہ کی طرف انسان کی رہنمائی کرتے ہیں۔بس فرق یہ ہے کہ قرآن رہنما اصول فراہم کرتاہے جب کہ سائنس اس کی تفہیم کے وسائل پیش کرتی ہے اور ان رہنما اصولوں کی تشریح و تفسیر کرتی ہے۔
سابق صدر شعبہ اسلامیات پروفیسر سید شاہد علی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی تہذیب و تمدن کے اوائل دور سے ہی قرآن نے تواتر کے ساتھ کائنات کے مشاہدے، اس پر غور و فکر،استدلال اور اس پر گہرے غور وخوض کے سلسلے میں زور دیا ہے۔پہلی وحی میں ہی انسان اپنے رب کے نام کے ساتھ پڑھنے کی ہدایت ملتی ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ معلومات کا حصول صرف دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ ایک مقدس عمل اور عبادت کی ایک شکل ہے۔
پروگرام کا آغاز ڈاکٹر محمد منور کمال کی تلاوت سے ہوا۔ جنید حارث،ایسو سی ایٹ پروفیسر،شعبہ اسلامیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ڈاکٹر مہدی باقر نے پروگرام کی نظامت کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی، ایسو سی ایٹ پروفیسر،شعبہ اسلامیات،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔