سری نگر: چنار بک فیسٹیول میں 200 ناشرین ، 250 اسٹالز اور 800 مہمانوں کے ساتھ بسے گی کتابوں کی دنیا

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 18-07-2026
سری نگر: چنار بک فیسٹیول میں 200 ناشرین ، 250 اسٹالز اور  800 مہمانوں کے ساتھ بسے گی کتابوں کی دنیا
سری نگر: چنار بک فیسٹیول میں 200 ناشرین ، 250 اسٹالز اور 800 مہمانوں کے ساتھ بسے گی کتابوں کی دنیا

 



منصور الدین فریدی

 سری نگر: لیجئے ! ایک بار پھر وادی کشمیر میں رنگ برنگے پھولوں کے ساتھرنگ برنگی کتابو ں کی مہک پھیل رہی ہے،دراصل سری نگر کی ڈل لیک کے کنارے خوبصورت اور دلکش ماحول میں نو دنوں تک  کتابوں کی بہار نظر آئے گی۔ جب چنار بک فیسٹیول 2026 کا تیسرا ایڈیشن 18 سے 26 جولائی تک منعقد ہوگا۔ جس میں ملک بھر سے تقریباً 200 ناشرین، 250 سے زائد بک اسٹالز اور 800 سے زیادہ ادیب، شاعر، فنکار، دانشور، محققین، فنکار اور طلبہ اور مفکرین شرکت کر رہے ہیں۔اس سال ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا جس کے تحت ایک شاندار مشاعرہ، شام صوفیانہ اور مظفر علی جیسی اہم شخصیات سے مذاکرے کا بھی اہتمام کیا جائے گا ۔

فیسٹیول میں ملک بھر کے 200 سے زائد ناشرین اپنے اسٹال لگا رہے ہیں ۔ جہاں اردو، ہندی، کشمیری، انگریزی سمیت متعدد ہندوستانی زبانوں کی ہزاروں کتابیں قارئین کے لیے دستیاب ہوں گی۔ یہ میلہ نہ صرف کتابوں کے شائقین بلکہ طلبہ، اساتذہ اور نئی نسل کے لیے بھی مطالعے کے فروغ اور ادبی ذوق کو پروان چڑھانے کا ایک بہترین موقع ثابت ہوگا۔

یاد رہے اس نو روزہ ادبی و ثقافتی میلے کا انعقاد نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا، وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند، ضلعی انتظامیہ سری نگر اور نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج (این سی پی یو ایل) کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔ اس دوران شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر(SKICC) کشمیر کی سب سے بڑی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا۔18 جولائی کو اس فیسٹیول کا افتتاح جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کریں گے۔ افتتاحی تقریب میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ اسکولی تعلیم، محکمہ اعلیٰ تعلیم، این سی پی یو ایل اور نیشنل بک ٹرسٹ کے اعلیٰ حکام بھی شرکت کریں گے۔

افتتاحی تقریب میں دو اہم کتابوں کی رونمائی بھی عمل میں آئے گی۔ ان میں معروف کشمیری ادیب گوری شنکر رینا کی ہندی تصنیف کے انگریزی ترجمے The City of Seven Bridgesکے علاوہ ممتاز اسلامی اسکالر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن کی اہم کتاب An Indian Muslim Speaksبھی شامل ہے۔

چنار بک فیسٹول سے قبل پریس کانفرنس 
ادبی و ثقافتی تبادلے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم
چنار بک فیسٹول کے سلسلے میں ایک پریس کانفرنس میں این بی ٹی کے ڈائرکٹر یووراج ملک، قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال ، ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لابرو اور چنار بک فیسٹیول کے چیف کنوینر ڈاکٹر امت وانچو نے صحافیوں سے بات چیت کی ۔ این بی ٹی کے ڈائرکٹر جناب یووراج ملک نے کہا کہ چنار بک فیسٹیول اب ایک سالانہ کیلنڈر ایونٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جو مطالعے کے فروغ، ادبی مکالمے اور ثقافتی تبادلے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے۔ فیسٹیول میں مختلف زبانوں کی کتابیں نمائش کے لیے رکھی جائیں گی، جبکہ متعدد ادبی، ثقافتی اور فکری پروگرام بھی منعقد ہوں گےقومی اردو کونسل  ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال کے مطابق چنار بک فیسٹیول کےتیسرے ایڈیشن میں ہندوستان کے مختلف علاقوں کے اردو پبلشر شریک ہو رہے ہیں۔ اسی طرح اس سال کتاب میلے کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایک شاندار مشاعرہ، شام صوفیانہ اور مظفر علی جیسی  شخصیات سےمذاکرے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
چنار بک فیسٹول سے قبل پریس کاننفرنس میں کتابی میلے کاسلوگن بھی جاری کیا گیا
کیا ہے نعرہ
چنار بک فیسٹیول کے آغاز سے قبل 16 جولائی کو ڈپٹی کمشنر سری نگر اکشے لابرو نے ڈل جھیل کی مشہور شکاراؤں پر مبنی ایک منفرد ادبی مہم"شکاراتھون" کا افتتاح کیا، جس کا مقصد مطالعے کو عوامی تحریک کی شکل دینا اور کتاب دوستی کو فروغ دینا ہے۔ اسی موقع پر فیسٹیول کا نعرہ "مل کر پڑھیں گے، مل کر بڑھیں گے" (Together We Read, Together We Lead) بھی جاری کیا گیا، جو اجتماعی مطالعے اور علم کے ذریعے ترقی کے عزم کی ترجمانی کرتا ہے۔
ادب اور ثقافت کا سنگم 
چنار بک فیسٹیول کے دوران ادبی مباحثے، کتابوں کی رونمائی، مصنفین سےملاقاتیں، کہانی گوئی، تخلیقی ورکشاپس، بچوں کے لیے خصوصی سرگرمیاں، مشاعرے، صوفیانہ موسیقی اور مختلف ثقافتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن میں ہندوستان کی گوناگوں ادبی اور ثقافتی روایات کو اجاگر کیا جائے گا۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اسسال فیسٹیول کی ایک نمایاں پیش رفت گوجری ترجمہ ورکشاپ کے تحت تیار ہونے والی 24 دو لسانی کتابوں کی رونمائی ہے۔ ان میں ڈوگری-گوجری، انگریزی-گوجری، کشمیری-گوجری، اردو-گوجری اور ہندی-گوجری زبانوں پر مشتمل کتابیں شامل ہیں، جو گوجری زبان و ادب کے فروغ اور لسانی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کریں گی۔
اسی موقع پر راج ترنگنی سمواد منصوبے کے تحت تیار کردہ ناولوں کی پہلی سیریز بھی پیش کی جائے گی۔ ان ناولوں میں کلہن کی شہرۂ آفاق تصنیف راج ترنگنی کے تاریخی کرداروں کو جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے تاکہ نئی نسل کشمیر کی تاریخ اور تہذیب سے بہتر انداز میں واقف ہو سکے۔ اس سلسلے میں یشووتی، للت آدتیہ، جیاپیڈ، کوٹا رانی اور ماترگپت جیسے تاریخی کرداروں پر مبنی ناول شامل ہیں۔
اہم موضوعات پر فکری نشستیں
چنار بک فیسٹیول کے دوران ملک کے معروف ادیب، صحافی، ماہرین تعلیم، محققین، فلم ساز اور دانشور مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کریں گے۔ ان نشستوں میں صحافت، کہانی نویسی، اردو زبان، کشمیریت، قومی تعلیمی پالیسی، کثیر لسانی تعلیم، عوامی پالیسی، خواتین کی قیادت، نوجوانوں کا کردار، ہندوستانی سنیما میں اردو کا ادبی سرمایہ، فیشن و دستکاری، ماحولیاتی تحفظ اور کشمیر کی ادبی تاریخ جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے۔
بچوں کے لیے خصوصی سرگرمیاں
اس مرتبہ چنار بک فیسٹیول کے چلڈرنز کارنر میں بچوں کے لیے کہانی گوئی، تخلیقی ورکشاپس اور دلچسپ تعلیمی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ کم عمر نسل میں مطالعے کا ذوق پیدا کیا جا سکے۔ شرکا راشٹریہ ای-پستکالیہ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے بھی استفادہ کر سکیں گے، جہاں مختلف موضوعات پر ہزاروں ای کتابیں مفت دستیاب ہیں۔اس سال کی ایک نئی اور منفرد سرگرمی "فائیو کے ریڈنگ رن" بھی ہوگی، جو شکشا سپتاہ 2026 کا حصہ ہے۔ اس پروگرام میں ہزاروں طلبہ شریک ہوں گے، جہاں مطالعے کی عادت کو جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ جوڑا جائے گا۔
چنار بک فیسٹیول میں اس بار خسرو فاونڈیشن بھی اپنی اہم اور حساس موضوعات  پر نئی کتابوں کے ساتھ شرکت کررہا ہے ۔ فاونڈیشن  کے کنونیر ڈاکٹر حفیظ  الرحمن  کے مطابق  ہر سال کی طرح نئی پیشکشوں کے ساتھ ہم اس خوبصورت کتابی میلے کا حصہ بن رہے ہیں ۔ جن میں بچوں کے ادب سے قومی یکجہتی اور ہندوستانی و صوفی ازم کے موضوع تک کتابیں شامل ہیں، ڈالتے ہیں ایسی ہی کچھ کتابوں پر ایک نظر
  "An Indian Muslim Speaks"
 یہ کتاب دراصل اس ہندوستانی مسلمان کی سوچ اور نظریے کو بیاں کرتی ہےجو کہ انگلش میں ہے اور صاصب کتاب خسرو فاؤنڈیشن کے کنوینر ڈاکٹر حفیظ الرحمن ہیں-
ڈاکٹر جلیل اختر ناصری نے لکھا ہے کہ -- یہ کتاب محض مضامین کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایمان، شناخت، شہریت اور ایک زیادہ منصفانہ، ہم آہنگ اور خوداعتماد ہندوستان کی تعمیر کے لیے ہماری مشترکہ ذمہ داری پر سنجیدگی سے غور و فکر کی دعوت ہے۔اس کتاب کے ہر باب میں انسانی وقار، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داری کا پیغام نمایاں ہے۔ انہوں نے کتاب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر قاری کتاب کے ہر نتیجے سے اتفاق کرے، لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ ان سوالات پر دیانت داری کے ساتھ غور کرے جو یہ کتاب ہمارے سامنے رکھتی ہے۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا تعلق ہم سب سے ہے۔مجھے پورا یقین ہے کہ اس کتاب کو محققین، طلبہ، پالیسی سازوں اور سنجیدہ فکر رکھنے والے شہریوں میں بھرپور پذیرائی حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑھ کر میری امید ہے کہ یہ کتاب ایسے مکالموں کو فروغ دے گی جو تعصب کے بجائے علم، خوف کے بجائے ہمدردی، اور ہندوستان کے کثرت پسند اور جمہوری تشخص سے مشترکہ وابستگی پر مبنی ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہے کہ میں اس فکر انگیز اور بروقت تصنیف کو ہر قاری کے لیے سفارش کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔
”روحانیت کی دورا ہیں: تصوف اور یوگ‘
 غوث سیوانی کی کتاب ”روحانیت کی دورا ہیں: تصوف اور یوگ‘ بھی پیش کی جارہی ہے ۔جو کہ  کچھ ایسی ہی گتھیوں کو سلجھانے اور روحانیت کی دونوں دھارا میں تصوف اور یوگا کے حوالے سے منفر د معلومات کا ذریعہ ثابت ہوگی۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن  نے کہا کہ جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ  یہ صرف منفر د ہے  بلکہ شاید  اس موضوع پر پہلی کتاب ہو۔ انہوں نے کہا کہ جس کو کتاب کے مصنف غوث سیوانی نے گہرے مطالعے اور تحقیق کے بعد لکھا ہے۔ مصنف کی دیگر کتابوں اور تحریروں کی طرح ، اس کتاب کی بھی یہ خوبی ہے کہ موضوع منفر د ہونے کے ساتھ ساتھ زبان انتہائی سادہ وسلیس، رواں ومربوط ہے۔
ڈاکٹر حفیظ  الرحمن  نے کہا کہ دنیا کے تمام موسم اس ایک ملک میں پائے جاتے ہیں۔ انیکتا میں ایکتا کثرت میں وحدت اس ملک کی خوبی ہے۔ اس ملک میں اگر ایک طرف ہندو اور بدھ تعلیمات سے پیدا ہونے والی روایات ہوگا اور میڈیشن ہیں تو وہیں دوسری طرف صوفی روایات سے وجود میں آنے والے ذکر واذکار، مراقبہ اور عبادات ہیں۔ اکثر عوام الناس یوگا کو ہندو مذہب اور حلقہ ذکر کو صوفی خانقاہوں سے جوڑ کر دیکھتے ہیں اور بسا اوقات یوگا اور میڈیٹیشن کو اسلام کے خلاف اور شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ بھی سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ اس بات کا مسلمانوں کو بہت کم علم ہے کہ مسلم صوفیاء نے یوگا اور میڈیٹیشن کو دنیا میں متعارف کرانے میں کیا خدمات انجام دی ہیں۔
ایک موڑ پر
معروف کہانی نویس سینئر صحافی اور مصنف شاہ تاج خان کی کتاب‘ ایک موڑ یہ کتاب خواتین کے نازک  مسائل اور صحت سے متعلق مسائل پر روشنی ڈال رہی ہے  جبکہ یہ پر ‘  بھی چنار بک فیسٹول میں پیش کی جارہی ہے ۔
 اپنی نوعیت کی شاید پہلی اور منفر د کتاب ہے ۔آپ کو بتا دیں کہ شاہ تاج خان اردو ادب خاص طور پر بچوں کے لیے اور سائنس کے  موضوعات پر  لکھتی ہیں ۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ اس کتاب میں خواتین کے جسمانی مسائل سے متعلق فکشن کے پیرائے میں بات کی گئی ہے اور ایک عورت کا درد اور اس کے ذریعہ سے پیدا ہونے والی ذہنی و جسمانی تکلیف کو بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ  کتاب کا پیش لفظ معروف سائنس داں اور ماہر تعلیم پروفیسر اسلم پرویز صاحب سابق وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یو نیورسٹی ، حیدر آباد نے لکھا ہے جو اس کتاب اور موضوع کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔انہوں نے شاہ تاج خان کے قلم کی ادبی خدمات کی سراہنا کی ہے کیوکہ اس دور میں بچوں  کے ادب اور خاں طور پر سائنس کے موضوع پر اردو میں لکھنے والوں کا فقدان ہے ۔
اس کتاب میں خواتین کے مسائل کو بہترین اندازمیں پیش کیا گیا ہے جو کہ شاہ تاج خا ن کی تحریر کی ہمیشہ خصوصیت رہی ہے ۔ خسرو فاونڈیشن نے ایک حساس موضوع کو پیش کرکے اردو ادب میں ایک نئی کھڑکی کھول دی ہے 
کشمیر نامۂ
اس کے ساتھ ایک اور کتاب توجہ کا مرکز بنے گی، طہ نسیم  ادب اطفال پر مبنی خسرو فاؤنڈیشن کی نئی پیشکش کشمیر نامۂ  بھی سری نگر میں کشمیری
قارئین کے لیے دلچسپی کا مرکز ہوگی ۔
جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس کتاب کی کہانیوں کا مرکزی کردار وادی کشمیر ہے۔کشمیر صرف ظاہری خوب صورتی، برفیلی وایوں، حسین موسم ، لذیذ موسمی پھل اور میوہ جات کے لئے ہی مشہور نہیں بلکہ حسین وادیوں کے ساتھ ساتھ یہاں کی مہمان نوازی، اخلاقیات، صفائی، اردو زبان و تہذیب، یہاں کے باشندوں کے مزاج میں صوفیانہ اقدار کی مہک اور بے شمار ایسی خوب صورت روایات موجود ہیں جو ہر آنے والے مہمان اور مسافر کو یہ کہنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ۔۔۔۔۔ 
اگر فردوس بر روئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
یہ کتاب آپ کو جنت نشان کشمیر اور کشمیر کے باشندوں کی خوبیوں سے آگاہ کراتی ہے۔اس کتاب میں موجود کہانیاں صرف فکشن نہیں بلکہ سچائی پر منی ہیں جو ہماری نئی نسلوں کو اپنی تہذیبی وراشت، ایمانداری، مہمان نوازی، اعلی اخلاق ، حب الوطنی اور انسان دوستی کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہونگی۔
کتاب کے مصنف طہ نسیم صاحب نے بڑی خوب صورتی کے ساتھ ان واقعات کو کہانیوں میں ڈھالا ہے جو ان کی یادداشت میں محفوظ تھے تا کہ وہ اس امانت کو اگلی نسلوں میں منتقل کر سکیں۔ کہانیوں کی سادہ مگر دلچسپ ہے، ہر کہانی کا الگ رنگ ہے اور الگ الگ کردار ہیں مگر ہر کردار میں محبت، انسانیت، کشمیریت اور ہندوستانیت کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔