سرسید کو ان کے عہد کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے: مقررین

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 19-06-2026
سرسید کو ان کے عہد کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے: مقررین
سرسید کو ان کے عہد کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے: مقررین

 



علی گڑھ، : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سرسید اکیڈمی میں پروفیسر افتخار عالم خان کی کتاب ’’سرسید: درونِ خانہ‘‘ کے انگریزی ترجمے Sir Syed Ahmad Khan: A Private Life پر ایک علمی مذاکرہ منعقد ہوا جس میں مقررین نے اس کتاب کو سرسید مطالعات میں اہم اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تصنیف سرسید احمد خان کی شخصیت اور ان کی جدوجہد کے کئی ایسے پہلو سامنے لاتی ہے جو عام طور پر کم زیر بحث آتے ہیں۔

سرسید اکیڈمی کی ڈائریکٹر پروفیسر آذرمی دخت صفوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ’’ترجمہ محض الفاظ کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ ایک تہذیب اور ثقافت کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا عمل ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہر زبان کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور مترجم کے لیے اصل متن کی روح کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر اطہر فاروقی کے ترجمے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرسید کی زندگی کے کم معروف گوشوں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔

سرسید اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر شافے قدوائی نے کہا کہ ’’پروفیسر افتخار عالم خان کی تحریریں سرسید پر مستند حوالہ سمجھی جاتی ہیں اور یہ کتاب ان کی گہری تحقیق کا نتیجہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ انگریزی ترجمے کی اشاعت سے دنیا بھر کے قارئین کو سرسید احمد خان کی فکر اور شخصیت کو سمجھنے کا نیا موقع ملے گا۔

پروفیسر عاصم صدیقی نے کہا کہ ’’کسی بھی کامیاب ترجمے کے لیے زبان کے ساتھ ساتھ اس کے تہذیبی پس منظر کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے ڈاکٹر اطہر فاروقی کے ترجمے کی روانی کو اس کی نمایاں خصوصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قاری کتاب کو شروع کرنے کے بعد مسلسل پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق مترجم نے اصل متن کے مفاہیم کو بڑی مہارت کے ساتھ انگریزی قالب میں ڈھالا ہے۔

پروفیسر محمد سجاد نے کہا کہ ’’سرسید احمد خان کی پوری زندگی ایک عوامی مشن سے وابستہ تھی اس لیے ان کی زندگی میں نجی اور عوامی دائرے کو الگ کرنا آسان نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سرسید کو اپنے دور میں شدید مخالفت اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود وہ تعلیمی اور سماجی اصلاح کے اپنے مشن پر ثابت قدم رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرسید کو سمجھنے کے لیے ان کے زمانے کے سیاسی اور سماجی حالات کو پیش نظر رکھنا ناگزیر ہے۔

ڈاکٹر راحت ابرار نے اپنے مقالے میں ’’سرسید: درونِ خانہ‘‘ اور ’’تاریخ مدرسۃ العلوم مسلمانان‘‘ کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اطہر فاروقی نے اس کتاب کا انگریزی ترجمہ کرکے ایک اہم علمی خدمت انجام دی ہے۔ انہوں نے اس کتاب کے ہندی ترجمے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ اس کے مندرجات وسیع تر حلقے تک پہنچ سکیں۔

اس موقع پر مترجم ڈاکٹر اطہر فاروقی نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے ترجمے کے عمل اور اپنے تجربات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کو انگریزی میں منتقل کرنے کا مقصد سرسید احمد خان کی زندگی اور خدمات کو عالمی قارئین تک پہنچانا تھا۔

مذاکرے کے اختتام پر توقیر حسین نے تمام مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

اس انداز میں خبر زیادہ پروفیشنل اور اخباری فیچر جیسی محسوس ہوتی ہے کیونکہ ہر مقرر کی اہم بات براہ راست اقتباس کی صورت میں سامنے آتی ہے۔